نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کے فحش مواد کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے جس میں ایک باپ اپنے ہی بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے میں ملوث پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 سالوں میں 88 ہزار سے زائد فحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کردیے، پی ٹی اے
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا معاملہ ہے جہاں ایک باپ اپنے ہی نابالغ بچوں کے خلاف اس قدر سنگین جرم میں ملوث پایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم اپنے 4 سے 5 سال کی عمر کے بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور انھیں بیچنے میں ملوث تھا۔
یہ ویڈیوز خفیہ ٹیلی گرام گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدی اور بیچی جاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ویڈیوز میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کے پریشان کن مناظر بھی سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ گینگ کا سرغنہ اسکردو کا رہنے والا تھا جسے بین الاقوامی ایجنسیوں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے اہم روابط اور شواہد برآمد ہوئے اور نیٹ ورک کے دیگر معاونین کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایک اور ملتے جلتے کیس میں شعیب خان نے بتایا کہ ایجنسی نے ایک بچے کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی تقریباً 60 ویڈیوز کی تحقیقات کے بعد بچوں کے فحش مواد کے ایک گینگ کے 4 اراکین کو گرفتار کر لیا۔
مزید پڑھیے: شہرت کے لیے جان بوجھ کر غیر اخلاقی مواد بناتا رہا، گرفتار ٹک ٹاکر کے لرزہ خیز اعترافات
انہوں نے کہا کہ ملزمان انسٹاگرام پر 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے دوستی کرتے، انہیں پیسوں کا لالچ دے کر فحش ویڈیوز بنواتے اور پھر انھیں واٹس ایپ گروپس اور بین الاقوامی سطح پر بیچتے تھے۔
شعیب خان نے بتایا کہ اس جرم میں اس سے پہلے دو چینی شہریوں کو بھی سزا دی جا چکی ہے۔
ایک اور کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ کراچی کی ایک نابالغ لڑکی ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کر چکی ہے۔ لڑکی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔
شعیب خان نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی ٹیم نے متاثرہ کے خاندان کی مدد سے صرف 13 گھنٹوں میں اسلام آباد سے مرکزی ملزم کو تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔
ملزم گزشتہ 2 سے 3 سال سے مسلسل متاثرہ کو ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
این سی سی آئی اے اسلام آباد کی کارروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث نیٹ ورک گرفتار۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد شعیب خان کی پریس کانفرنس#NCCIA #CyberCrime #ChildProtection pic.twitter.com/JlyNsoYDz3— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) October 25, 2026
ایڈیشنل ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا صارفین کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فحش مواد اپ لوڈ کرنے سے پہلے سوچیں کیوں کہ قانون حرکت میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غلط مواد اپ لوڈ کرنے والے کسی بھی صورت میں قانون سے نہیں بچ سکتے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا ون ٹائم پاس ورڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور جعلی ویب سائٹس پر موجود جعلی نمبرز سے خبردار رہیں کیونکہ انہیں کال کرنے سے اکاؤنٹس خالی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ سائبر کرائم کا شکار ہیں تو خاموش نہ رہیں این سی سی آئی اے آپ کے ساتھ ہے۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام پر بچوں کو فحش ویڈیوز تجویز کیے جانے کا انکشاف
شعیب خان نے مزید بتایا کہ شہری شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1799 پر کال کر سکتے ہیں جو 24 گھنٹے دستیاب ہے۔
خواتین اور بچوں کے سائبر ہراساں ہونے کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی
این سی سی آئی اے کے ایک علیحدہ بیان کے مطابق ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے سوشل میڈیا پر شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی۔
یہ ہدایات ایک اجلاس میں دی گئیں جس میں خان، ڈائریکٹر آئی ٹی عاطف عباس، سوشل میڈیا انچارج طیبہ دولت، پبلک ریلیشنز آفیسر محبوب الٰہی اور دیگر نے شرکت کی۔بیان کے مطابق اجلاس میں سوشل میڈیا کی نگرانی، جعلی خبروں کی روک تھام، سائبر ہراساں کیسز، عوامی آگاہی مہم اور سائبر کرائم کی شکایات کے ڈیجیٹل ہینڈلنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈی جی این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر شہریوں کے تحفظ، شکایات کے فوری ازالے اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کو زیادہ مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی خاتون کی شناخت چرا کر فحش AI مواد کرکے 5 دنوں میں لاکھوں کمانے والے کا اب انجام کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔”بیان کے مطابق ڈی جی نے جعلی خبریں پھیلانے، ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے والے اکاؤنٹس کی سخت نگرانی اور ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم بھی دیا۔
23 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کراچی زون نے 3 کمپنیوں سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر جنسی طور پر فحش اینیمیٹڈ کارٹونز، بچوں کے جنسی استحصال کے اینیمیٹڈ مواد، فحش ڈیجیٹل مواد کی تیاری، تشہیر اور آن لائن فروخت اور دیگر ڈیجیٹل ڈیزائنگ سروسز بین الاقوامی گاہکوں کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
ایک سال کے دوران 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار
یونیسف کی ایک حالیہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک سال کے دوران تخمینہً 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 85 فیصد مجرم متاثرین سے جاننے والے تھے جن کی عمر 12 سے 17 سال کے درمیان تھی۔
مزید برآں یونیسف رپورٹ کے مطابق 71 فیصد متاثرین نے کسی کو نہیں بتایا جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے پولیس، ہیلپ لائنز یا سماجی کارکنوں سمیت باضابطہ ذرائع سے استحصال کی اطلاع نہیں دی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد نے بچوں کے استحصال اور آن لائن گرومنگ کے مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے 4 رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا۔
درج مقدمے کی تحقیقات کے دوران ملزمان کے قبضے سے مقامی کم عمر بچوں سے متعلق بچوں کے جنسی… pic.twitter.com/FHnTlAIicm
— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) October 23, 2026
اس کے علاوہ چائلڈ پروٹیکشن این جی او ساحل کا تخمینہ ہے کہ 2026 کے پہلے 6 ماہ میں پورے ملک میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے کم از کم 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے۔
جنوری سے جون 2026 تک بچوں کے جنسی استحصال کے 1,015، اغوا کے 558، گمشدہ بچوں کے 101 اور بچوں کی شادی کے 35 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اس کے علاوہ جنسی استحصال کے بعد فحش مواد کے 98 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔
ساحل کی رپورٹ چاروں صوبوں بشمول اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار
کل رپورٹ شدہ کیسز میں سے 58 فیصد متاثرین لڑکیاں تھیں۔ ڈیٹا سے یہ بھی سامنے آیا کہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے بدسلوکی کا سب سے زیادہ شکار ہوئے۔











