2 سالوں میں 88 ہزار سے زائد فحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کردیے، پی ٹی اے

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود 88 ہزار سے زائد غیر قانونی ویب سائٹ لنکس کو بلاک کیا گیا۔ یہ کارروائیاں غیر قانونی، غیر اخلاقی اور قومی قوانین کے منافی آن لائن مواد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ شدہ مدت کے دوران 88,000 سے زائد یو آر ایل بند کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد فحش اور غیر اخلاقی مواد پر مشتمل ویب سائٹس کی تھی۔ پی ٹی اے کے مطابق 38,214 یو آر ایل فحش اور اخلاقیات کے منافی مواد کی میزبانی کے باعث بلاک کیے گئے، جو مجموعی کارروائیوں کی سب سے بڑی کیٹیگری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت

اعداد و شمار کے مطابق 31,313 ویب لنکس ایسے مواد پر بند کیے گئے جو پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے خلاف تصور کیے گئے۔ اسی طرح 7,608 یو آر ایل ایسے مواد کے باعث بلاک کیے گئے جو اسلام کے تقدس کے منافی قرار دیا گیا۔

پی ٹی اے نے 6,269 یو آر ایل فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کے باعث بند کیے۔

رپورٹ کے مطابق 2,498 ویب لنکس ہتکِ عزت اور جعل سازی سے متعلق مواد پر بند کیے گئے، جبکہ 353 یو آر ایل توہینِ عدالت کے مواد کی بنیاد پر بلاک کیے گئے۔ اس کے علاوہ 15 یو آر ایل پراکسی سروسز کے ذریعے رسائی کے باعث اور 1,765 یو آر ایل دیگر غیر متعین وجوہات پر محدود کیے گئے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ پابندیاں ٹک ٹاک پر لگائی گئیں، جہاں 35,000 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔ اس کے بعد فیس بک پر 25,482، انسٹاگرام پر 13,242 اور یوٹیوب پر 8,586 یو آر ایل محدود کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی استعمال کرنے والوں کو پی ٹی اے نے نئی ہدایات جاری کردیں

دیگر پلیٹ فارمز میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 2,103، لائیکی پر 991 اور اسنیک ویڈیو پر 345 یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ ڈیلی موشن پر صرف تین یو آر ایل بند کیے گئے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی قوانین کے نفاذ اور ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اتھارٹی آن لائن پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp