’دہشتگردی کیخلاف دفاع کا حق رکھتے ہیں‘، پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے الزامات مسترد کر دیے

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو دہشتگرد حملوں کے جواب میں اپنے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق گمراہ کن معلومات اور منفی بیانیے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل

بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف 2026 کے دوران ایسے حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار 500 سے زائد جانی نقصانات ہوئے ہیں۔

دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دے رہی ہے۔

ان میں تحریک طالبان پاکستان، جسے بیان میں ’فتنہ الخوارج‘، اور بلوچستان لبریشن آرمی، جسے ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیا گیا، سمیت ان کے اتحادی گروہ شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ تنظیمیں خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، پاکستان کے ہزاروں شہری دہشتگرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، سرپرستی اور کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئیں۔

دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ان سرگرمیوں کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور معاونت حاصل رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بننے کے بعد خاموش نہیں رہ سکتی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے حملوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ ، وزارت اطلاعات نے ویڈیو جاری کردی

پاکستان کی جانب سے ایسے حملوں کے جواب میں کیے گئے اقدامات حقِ دفاع کے تحت، ضرورت کے اصول اور آخری چارے کے طور پر کیے گئے، جن کا ہدف صرف افغانستان میں دہشتگرد اور ان کے لاجسٹک معاونتی مراکز تھے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا ردعمل خطرے کی نوعیت کے تناسب سے تھا اور اس دوران اہداف میں امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کی سختی سے پابندی کی گئی۔

بیان کے مطابق پاکستان کو درپیش دہشتگرد حملوں کی شدت اور تواتر کے تناظر میں کارروائیوں کا دائرہ اور حجم ضبط و تحمل کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان نے اس کے برعکس کسی بھی تاثر کو مسترد کر دیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان کو تشویش ہے، اسحاق ڈار

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری میں ناکامی پر افغان طالبان حکومت کا محاسبہ کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی بدحالی بے نقاب، 627 اسکول غیرفعال، 11 پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں