فرانس سے اٹھنے والی احتجاجی لہر دیگر یورپی ممالک تک پھیلنے کے بعد ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولیات میں کمی اور سیاسی اداروں سے بڑھتی ہوئی مایوسی نے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ احتجاج صرف معاشی اور سماجی مطالبات تک محدود رہیں گے یا آئندہ انتخابات میں حکمران جماعتوں کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں؟
فرانس میں حالیہ احتجاجی لہر کا آغاز 17 ستمبر 2026 کو پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے کریتی سے ہوا، جہاں ایک اسکول کے اساتذہ اور دیگر عملے نے تعلیمی وسائل کی شدید قلت کے خلاف ہڑتال کی۔ بعد ازاں 21 ستمبر کو طلبہ بھی اساتذہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج میں شامل ہوگئے اور اسکول کی ناکہ بندی کردی۔
مزید پڑھیں: یورپ کے کئی ممالک میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، پولیس سے جھڑپیں
مذکورہ اسکول میں سربراہ، اساتذہ اور نرس کی آسامیاں خالی تھیں، جبکہ کلاس رومز میں میزوں اور دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کی بھی شدید کمی تھی۔
اگرچہ اسکول انتظامیہ نے نئے عملے کی تعیناتی کی یقین دہانی کرا کر مقامی سطح پر احتجاج ختم کروا دیا، تاہم تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال کے خلاف اٹھنے والی آواز فرانس کے دیگر علاقوں تک پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں اسکولوں میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔
فرانس سے اٹھنے والی احتجاجی لہر البانیہ، اٹلی، اسپین اور پرتگال تک بھی پھیل گئی، جہاں معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں اور دیگر شہریوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی سامنے آئی۔
ان مظاہروں کے بنیادی اسباب کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی عدم مساوات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے اخراجات میں اضافہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو درپیش بحران اور سیاسی اداروں پر عدم اعتماد جیسے مسائل اور شکایات بڑی حد تک مشترک ہیں۔
تاہم احتجاجی مظاہروں کا مختلف یورپی ممالک تک پھیلنا کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا یہ تحریکیں حکومتوں کو معاشی اور تعلیمی اصلاحات کرنے پر مجبور کر سکیں گی؟ کیا سیاست میں نوجوانوں کا بڑھتا ہوا کردار آئندہ انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہوگا؟ اور کیا موجودہ سیاسی بے چینی سے دائیں بازو کی جماعتیں فائدہ اٹھائیں گی یا بائیں بازو کی سیاسی قوتیں؟
انہی سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے وی نیوز نے عالمی سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین سے گفتگو کی۔
احتجاج نے فرانس کی حکمران جماعت کو کمزور کردیا، حسن عسکری
سیاسی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جاری احتجاجی مظاہرے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اگر عوام کے بنیادی مسائل، بالخصوص سماجی اور معاشی مشکلات کا حل تلاش نہ کیا جائے تو ان مسائل کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق یورپی ممالک میں جمہوری نظام کی موجودگی کے باوجود عوامی بے چینی اور احتجاجی مظاہروں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض جمہوری اداروں کا وجود کافی نہیں، بلکہ شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کا مؤثر حل بھی ناگزیر ہے۔
حسن عسکری نے کہا کہ ان احتجاجی تحریکوں میں نئی نسل، بالخصوص نوجوانوں کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے محرومی اور بدعنوانی کے معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حسن عسکری کے مطابق بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے بھی ان احتجاجی تحریکوں کو تقویت پہنچائی ہے، جبکہ مستقبل قریب میں متعلقہ ممالک کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
حسن عسکری کا کہنا تھا کہ ان احتجاجی مظاہروں کے اثرات بالخصوص فرانس میں ہونے والے آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی لہر نے حکمران جماعت کی ساکھ کو کمزور کیا ہے اور یہ صورت حال آئندہ انتخابات میں اس کے اقتدار سے باہر ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
عوامی احتجاج حقیقی سیاسی تبدیلی میں تبدیل ہوگا یا صرف حکومتیں بدلیں گی؟
عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان یورپ میں جاری احتجاجی تحریکوں کو سیاسی تبدیلی، عوامی توقعات اور مخلوط جنگی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔
ان کے مطابق عوامی تحریکوں میں سیاسی تبدیلی کی بنیاد اکثر ان توقعات پر رکھی جاتی ہے جن کے تحت لوگ زمینی حالات میں حقیقی بہتری چاہتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تحریکوں کے نتیجے میں بعض اوقات محض ظاہری سیاسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جبکہ نظامِ حکمرانی کے بنیادی ڈھانچے میں حقیقی اصلاحات لانے یا قیادت کے مؤثر احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق ایسی تحریکوں میں عوامی مقبولیت حاصل کرنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو متحرک کرنے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، تاہم حکومتی کارکردگی میں بہتری لانے یا غربت میں حقیقی کمی کے لیے ٹھوس اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی صورتحال کی مثالیں مخلوط جنگی حکمت عملی میں بھی ملتی ہیں، جہاں عوام کی بڑھتی ہوئی توقعات اور انتظامی بدانتظامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق بعض اوقات ایسی تحریکوں کو بیرونی عناصر کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے، جو تبدیلی کے نعرے تو بلند کرتے ہیں، تاہم ٹھوس اور مؤثر منصوبہ بندی کے بجائے محض نعروں کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔
ان کے نزدیک سیاسی تبدیلی کے مطالبات اور عوامی مقبولیت کے باوجود بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا ان تحریکوں کے نتیجے میں نظامِ حکمرانی میں حقیقی اصلاحات اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آسکے گی یا نہیں۔
ہر یورپی ملک میں احتجاج کی وجہ مختلف ہے، ملیحہ لودھی
سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کے مختلف ممالک میں جاری احتجاجی مظاہروں کی وجوہات ایک جیسی نہیں، بلکہ ہر ملک میں ان کے آغاز کے محرکات مختلف ہیں۔
تاہم ان کے مطابق ان تحریکوں میں ایک مشترکہ رجحان سامنے آرہا ہے، جس کی بنیادی وجہ معاشی بے یقینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی اسی معاشی بے یقینی کا نتیجہ ہے۔ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزمرہ زندگی کی لاگت میں اضافے نے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث وہ اپنی حکومتوں سے ناراض ہیں۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق موجودہ بحران میں روایتی سیاسی جماعتوں اور سیاسی اداروں سے عوام کی مایوسی بھی نمایاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان جماعتوں اور اداروں نے تعلیم، صحت اور معاشی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور عوام کو درپیش مشکلات کا مؤثر حل فراہم نہیں کیا۔
ان کے مطابق اس صورت حال میں موجودہ نظام کے بحران کا تاثر بڑھ رہا ہے اور احتجاجی لہر کم ہونے کے بجائے مسلسل پھیل رہی ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس وقت ایشیا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکا میں بھی احتجاجی تحریکیں سامنے آرہی ہیں، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان تحریکوں کے حتمی نتائج کیا ہوں گے۔
انہوں نے برازیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والے عام انتخابات میں طلبہ اور نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں صدارتی امیدوار لولا دا سلوا کامیاب ہوئے اور بولسونارو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق یہ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کے اثرات کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سربیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی طلبہ کی تحریک دو سال تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار کو شکست ہوئی اور طلبہ نے اپنے امیدوار بھی میدان میں اتارے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دو مثالیں ایسی ہیں جن میں نوجوانوں اور طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں کے انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ یورپ میں احتجاجی مظاہروں اور سیاسی بے چینی سے دائیں بازو کی جماعتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ان کے مطابق ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ افراتفری اور سیاسی بے یقینی میں وہی استحکام فراہم کرسکتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی: طلبہ کا احتجاج پرتشدد ہو گیا، 400 سے زیادہ گرفتاریاں
انہوں نے کہا کہ یورپ کے تین ممالک میں انتخابات آنے والے ہیں، جن میں فرانس اور اسپین بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق اب تک بعض یورپی ممالک میں طلبہ اور نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کو تقویت ملی ہے۔









