ویٹو پاور میں توسیع عالمی عدم مساوات بڑھائے گی، پاکستان کا اقوام متحدہ میں مؤقف

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے اور ویٹو کے اختیارات میں توسیع سے موجودہ عدم مساوات میں اضافہ ہوگا، تاریخی مراعات برقرار رہیں گی اور کونسل کے مفلوج ہونے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے قونصلر گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی مخالفت کریں گے، پاکستان

انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات کا حامی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ویٹو کے اختیارات کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی مؤثریت کو نقصان پہنچاتا، اقوام متحدہ کی ساکھ کمزور کرتا اور عالمی نظام میں عدم مساوات کو برقرار رکھتا ہے۔

گل قیصر سروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان تزویراتی رقابت اور محدود مفادات عالمی امن و سلامتی کے لیے اجتماعی اقدامات کی راہ میں بارہا رکاوٹ بنے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی عالمگیر رکنیت اور جمہوری فیصلہ سازی اسے ایسے حالات میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے جب سلامتی کونسل ویٹو کے استعمال سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کی توسیع کی صورت میں مزید مستقل نشستیں متعارف کرانے کی مخالفت کی۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی کے بغیر یوکرین میں امن ممکن نہیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے سے متعلق تجاویز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ویٹو کے خاتمے یا کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا حامی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ویٹو کے اختیارات میں توسیع نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جس کے تحت ویٹو استعمال کیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کی گنجائش فراہم کی گئی ہے تاکہ جواب دہی کو فروغ دیا جا سکے۔

گل قیصر سروانی نے زور دیا کہ ویٹو کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہونے چاہئیں۔

انہوں نے اس حوالے سے متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دیا، جس کے تحت ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے کے ساتھ سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کی نمائندگی اور کردار بھی بڑھایا جائے، تاکہ فیصلہ سازی زیادہ جمہوری ہو اور ویٹو کے استعمال پر مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ویٹو کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کے دیگر چار باہم مربوط نکات کے ساتھ ملا کر ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایسی اصلاحات کا پُرعزم حامی ہے جو موجودہ عدم توازن کو دور کریں، جواب دہی کو مضبوط بنائیں اور چند ممالک کے بجائے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید، چین کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر فوری پابندی کا مطالبہ

دوسری جانب اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کے ویٹو اختیارات ان وجوہات میں شامل ہیں، جن کے باعث کثیرالجہتی عالمی ادارے ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کو روکنے یا ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس تعطل نے فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کر دیا ہے، جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔

ان اصلاحات میں رکنیت میں توسیع بھی شامل ہے، تاکہ بالخصوص افریقہ، لاطینی امریکا، کیریبین اور ایشیا بحرالکاہل کے خطوں کو زیادہ منصفانہ نمائندگی مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں