جنگ بندی کے بغیر یوکرین میں امن ممکن نہیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، فریقین کو فوری اور مکمل جنگ بندی کرکے مذاکرات کی طرف واپس آنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ تنازع 4 سال سے جاری ہے اور اس کے اثرات علاقائی و عالمی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی خوراک اور توانائی کے تحفظ پر بھی پڑ رہے ہیں، جن کا ترقی پذیر ممالک بالخصوص زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے جدید ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ حملوں میں تیزی تشویش ناک ہے۔ پاکستان تنازع کے انسانی اثرات پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے اور ایک بار پھر دونوں فریقوں پر زور دیتا ہے کہ جنگ کو مزید وسعت دینے سے گریز کریں، کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کریں اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فریقین کو مذاکرات کے ذریعے جنگ کے جلد خاتمے کے لیے دوبارہ سنجیدہ کوششیں شروع کرنی چاہییں۔ ان کے بقول اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور جنگ کا ہر گزرتا منٹ، گھنٹہ اور دن فریقین کو ایک دوسرے سے مزید دور کر رہا ہے، جس سے امن کی راہ مزید مشکل ہوتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود پائیدار اور منصفانہ امن کی کوششیں ترک نہیں کی جانی چاہئیں۔ پاکستان نے گزشتہ برس امریکی حمایت سے منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی حمایت کی تھی اور امریکا کی جانب سے امن کے لیے جاری کوششوں کو سراہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسی بن چکی ہے، عاصم افتخار احمد

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اجتماعی ترجیح ہتھیار خاموش کرانا اور مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہونی چاہیے۔ فوری اور جامع جنگ بندی فریقین کو اختلافات کم کرنے اور امن کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو یوکرین تنازع کے پرامن حل میں مدد دیں اور اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی خدشات کو مدنظر رکھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp