پی ٹی آئی کے رہنماؤں شاندانہ گلزار اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے درمیان پارٹی کے احتجاجی واقعات اور ان سے متعلق سوالات پر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔
شاندانہ گلزار کے ایک پیغام کے بعد علی امین گنڈاپور سے منسوب مبینہ لیکڈ وائس میسج سامنے آیا ہے، جس میں وہ شاندانہ گلزار کو سخت الفاظ میں جواب دیتے سنائی دیتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے اپنے پیغام میں کہا کہ 4 اکتوبر اور 24 نومبر کو پارٹی کو بڑے پیمانے پر ناکامیوں اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیدیوں کے لیے 90 کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے؟ شاندانہ گلزار کا سوال
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت کی قیادت پر تنقید نہیں کی گئی تو آج اس پر سوالات کیسے اٹھائے جا سکتے ہیں۔
شاندانہ گلزار کے اس پیغام کے جواب میں علی امین گنڈاپور سے منسوب مبینہ آڈیو میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ہر گروپ میں بحث شروع کر دیتی ہیں، اس لیے انہیں دوسروں پر سوالات اٹھانے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔
"او میڈم! آپ ہر گروپ میں شروع ہو جاتی ہیں،" علی امین گنڈاپور کا شندانہ گلزار کو جواب#ARYNews pic.twitter.com/yVKE4Msswn
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) October 26, 2026
مبینہ آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور کہتے ہیں کہ وہ مختلف گروپس میں شاندانہ گلزار کے سوالات کے جواب دیتے رہیں، یہ ممکن نہیں۔
ان کے بقول شاندانہ گلزار کو اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے اور دوسروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل
علی امین گنڈاپور سے منسوب آڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے کارکنوں سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں نمٹایا گیا تھا۔
ان کے مطابق جیلوں میں قید کارکنوں کے مقدمات، لاجسٹکس، اہل خانہ کی ضروریات اور ضمانتوں سمیت مختلف امور پر کام کیا گیا اور کارکنوں کو جلد از جلد ریلیف دلانے کی کوششیں کی گئیں۔
مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور شاندانہ گلزار کے سوالات کے جواب دینے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے پاس ہر جگہ وضاحتیں دینے کے لیے اتنا وقت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی شدید اندرونی اختلافات کا شکار، قیادت کو نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا
انہوں نے شاندانہ گلزار کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں۔
شاندانہ گلزار کے پیغام اور علی امین گنڈاپور سے منسوب مبینہ آڈیو کے سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے اندر احتجاجی حکمت عملی، کارکنوں کے جانی نقصان اور قیادت کی ذمہ داریوں سے متعلق اختلافات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔










