اسلام آباد پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں رواں سال مجموعی کرائم کالز میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ڈکیتی، کار چوری اور دیگر جرائم سے متعلق کالز کی تعداد میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق یکم جنوری سے 25 اکتوبر 2026 تک گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مجموعی کرائم کالز کی تعداد 6,506 سے کم ہو کر 4,444 رہ گئی، جو 2,062 کالز کی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کھلی کچہریاں، ڈی آئی جی پولیس نے شہریوں کے مسائل سنے
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی کے واقعات سے متعلق کالز میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 20 سے کم ہو کر 7 رہ گئی۔
اسی طرح کار چوری کے واقعات کی کالز میں 64 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 259 سے گھٹ کر 92 رہ گئی۔
اسنیچنگ کے واقعات سے متعلق کالز میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 930 سے کم ہو کر 487 ہوگئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی، ڈرفٹنگ میں ملوث ملزمان گرفتار، گاڑیاں ضبط
گاڑیاں چھیننے کے واقعات کی کالز بھی 43 فیصد کم ہوئیں اور تعداد 7 سے گھٹ کر 4 رہ گئی، جبکہ موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات سے متعلق کالز میں 37 فیصد کمی ہوئی اور یہ 231 سے کم ہو کر 146 رہ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق موٹر سائیکل چوری کے واقعات کی کالز میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 2,666 سے کم ہو کر 1,810 رہ گئی۔
رابری کے واقعات سے متعلق کالز بھی 30 فیصد کم ہوئیں اور تعداد 1,369 سے گھٹ کر 961 ہوگئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس بھرتی ٹیسٹ کے دوران امیدوار جان کی بازی کیسے ہار گیا؟
دیگر گاڑیوں کی چوری کے واقعات کی کالز میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 22 سے کم ہو کر 20 رہ گئی۔
قتل کے واقعات سے متعلق کالز میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 31 سے گھٹ کر 28 ہوگئی، جبکہ نقب زنی کے واقعات کی کالز 8 فیصد کم ہو کر 971 سے 889 رہ گئیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم کی روک تھام کے لیے ٹارگٹڈ آپریشنز، انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں اور مؤثر پٹرولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔











