انگلینڈ کی وہ پراسرار پہاڑی جہاں 400 سال قبل جادوگرنیوں کو سزائے موت دی گئی، آج بھی بھوتوں کی کہانیاں مشہور

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پینڈل ہل کا علاقہ سنہ 1612 میں جادو ٹونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کی المناک تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جہاں آج بھی پراسرار آوازوں، بھوتوں اور آسیب کی کہانیاں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘: وطن عزیز کی پراسرار وادی اشکومن جہاں ’پریاں‘ رہنمائی کرتی ہیں

انگلینڈ کے علاقے لنکاشائر میں واقع پینڈل ہل بظاہر ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہے جہاں سرسبز وادیاں، قدیم جنگلات اور دلکش دیہات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن اس علاقے کی شہرت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں۔

مقامی روایات کے مطابق یہاں آج بھی ایک پراسرار اور خوف ناک فضا محسوس کی جا سکتی ہے جس کا تعلق 400 سال سے زائد عرصہ قبل پیش آنے والے ان واقعات سے ہے جب 12 افراد پر جادو ٹونے کا الزام عائد کیا گیا اور ان میں سے متعدد کو موت کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 1612 میں پیش آنے والے یہ واقعات انگلینڈ کی تاریخ کے بدترین جادو ٹونے کے مقدمات میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سے پینڈل ہل اور اس کے گرد و نواح کے دیہات، قدیم جنگلات اور تاریخی عمارتوں کے بارے میں بھوتوں اور پراسرار مخلوقات کی کہانیاں مشہور ہوگئیں۔

مقامی روایت ہے کہ پینڈل ہل کی چوٹی پر پہنچنے والے بعض افراد کو اچانک غصے، گھبراہٹ یا خوف کا احساس ہونے لگتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں سانس لینے میں دشواری اور پراسرار سائے دیکھنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ لنکاشائر کے مؤرخ اور مصنف اسٹیفن اولڈفیلڈ کے مطابق علاقے میں بھوتوں اور پراسرار راہبوں کی کہانیاں بھی گردش کرتی ہیں جبکہ مقامی ٹور گائیڈ اسٹیفن اینتھوسل کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں میں یہ روایت بھی مشہور ہے کہ سردیوں کے بعد پینڈل ہل پر سب سے آخر میں پگھلنے والی برف کا نشان کسی چڑیل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

یہی کہانیاں ہر سال بڑی تعداد میں سیاحوں کو اس علاقے کا رخ کرنے پر آمادہ کرتی ہیں خصوصاً ہالووین کے موقع پر یہاں بھوتوں کی تلاش میں آنے والوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: روس میں زیادہ تر افراد مافوق الفطرت مخلوقات پر یقین رکھتے ہیں، سروے

سنہ 2012 میں جادو ٹونے کے ان مقدمات کی 400ویں برسی کے بعد بھی اس مقام کی سیاحتی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

انگلینڈ کی تاریخ کے خوف ناک مقدمات

17ویں صدی کے آغاز میں انگلینڈ میں جادو ٹونے کے ذریعے قتل کا الزام خواہ وہ حقیقت پر مبنی ہو یا نہ ہو سزائے موت کا سبب بن سکتا تھا۔ بادشاہ جیمز اول نے سنہ 1604 میں جادو ٹونے کے خلاف قانون مزید سخت کردیا جس کے تحت کسی کو نقصان پہنچائے بغیر روحوں کو بلانے یا منتر پڑھنے جیسے افعال بھی قابلِ سزا جرم قرار پائے۔

اس دور میں غریب اور عمر رسیدہ افراد، خصوصاً وہ لوگ جو علاج معالجے یا روحانی طریقوں سے لوگوں کی مدد کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، ایسے الزامات کا زیادہ نشانہ بنتے تھے۔ مؤرخ اسٹیفن اولڈفیلڈ کے مطابق اس زمانے میں معاشرہ شدید بے چینی اور توہم پرستی کا شکار تھا اور جو شخص بھی عام سماجی رویوں سے مختلف زندگی گزارتا، اس پر شکوک و شبہات کیے جاتے تھے۔

پینڈل ہل میں جادو ٹونے کے الزامات کا سلسلہ مارچ 1612 میں شروع ہوا جب روایتی طریقوں سے علاج کرنے والی ایلیزن ڈیوائس کی ملاقات سامان فروخت کرنے والے ایک شخص جان لا سے ہوئی۔ اس ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد جان لا اچانک گر پڑا یا اسے فالج کا دورہ پڑا۔

جان لا کے بیٹے نے ایلیزن ڈیوائس کے خلاف مقامی مجسٹریٹ راجر نوویل سے شکایت کی۔ تحقیقات کے دوران ایلیزن نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے جان لا کو مفلوج کردیا تھا۔ اس نے اپنی دادی الزبتھ سدرنز، ایک دوسری روایتی معالج این وِٹل اور اس کی بیٹی این کو بھی اس معاملے میں ملوث قرار دیا۔ ان چاروں کو گرفتار کرکے لنکاسٹر کیسل کی جیل میں ڈال دیا گیا۔

بعد ازاں گڈ فرائیڈے کے موقع پر ڈیوائس خاندان کے گھر ہونے والے ایک اجتماع کو مجسٹریٹ نے جادوگروں کی خفیہ محفل قرار دیا جس کے نتیجے میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ان میں رافلی گاؤں کی ایک خوش حال خاتون ایلس نٹر بھی شامل تھیں۔

مؤرخ اولڈفیلڈ کے مطابق نئے گرفتار ہونے والے افراد کو پہلے قریبی علاقے ایشلر ہاؤس میں رات بھر رکھا گیا، پھر انہیں جنگل اور پہاڑی راستوں سے گزار کر لنکاسٹر کیسل پہنچایا گیا جہاں انہیں ویلتھ ٹاور کے تہہ خانے میں قید کردیا گیا۔ ان تمام افراد پر مختلف نوعیت کے جادوئی اور نقصان دہ اعمال، حتیٰ کہ 10 مقامی لوگوں کے قتل کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کی وہ شاہی خاتون جو ملکہ بنتے بنتے جادوگرنی قرار دے دی گئیں

9 سالہ بچی کی گواہی نے اپنے ہی خاندان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا

ان مقدمات میں 9 سالہ جینیٹ ڈیوائس کی گواہی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس کی گواہی کو اتنا مؤثر سمجھا گیا کہ اس کے نتیجے میں اس کی اپنی والدہ، بھائی، بہن اور دادی بھی مجرم قرار پائے۔ الزبتھ سدرنز فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے ہی قید میں انتقال کرگئیں، جبکہ 12 ملزمان میں سے 9 کو قصوروار قرار دے کر گیلو ہل پر پھانسی دے دی گئی۔

 

صرف ایلس گرے کو بری کیا گیا جبکہ جینیٹ پریسٹن کو اس کے آبائی علاقے یارکشائر میں پھانسی دی گئی۔

جادو ٹونے کے الزامات اور مقدمات کا سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ یورپ میں روشن خیالی کا دور شروع ہوا۔ بالآخر انگلینڈ میں سنہ 1736 میں جادو ٹونے کو جرم قرار دینے کا قانون ختم کردیا گیا۔

پینڈل ہل کی پراسرار فضا اور آج بھی موجود نشانیاں

ان مقدمات کی تاریخ انگلینڈ میں آج بھی مشہور ہے تاہم پینڈل کے علاقے نے اپنی پراسرار شہرت کبھی ختم نہیں ہونے دی۔ مؤرخ اسٹیفن اولڈفیلڈ کے مطابق پینڈل ہل کا نم اور تاریک ماحول خود بھی خوف اور پراسراریت کا احساس پیدا کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک ایسی فضا محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ملک سے کہیں دور کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہو۔

مقامی مصنفہ اسٹیسی ہالز جنہوں نے جادو ٹونے کے ان مقدمات کے پس منظر میں اپنا پہلا ناول لکھا بھی اس پہاڑی کو ایک خوف ناک مقام قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق جب بادلوں اور دھند میں پہاڑی کی چوٹی دکھائی نہیں دیتی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص بادلوں کے اندر کھڑا ہو اور یہ کیفیت غیر معمولی اور پراسرار لگتی ہے۔

علاقے کے بعض قدیم کنوؤں، خصوصاً بل ہول فارم کے قریب سینٹ چاڈز ویل، پر آج بھی جادو ٹونے سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے مخصوص نشانات موجود ہیں۔ ٹیلی ویژن کے بعض پروگرام بھی یہاں مبینہ بھوتوں اور پراسرار روحوں کی تلاش کے لیے آتے رہے ہیں۔ ان میں ٹائنڈیل فارم بھی شامل ہے، جہاں نٹر خاندان کئی نسلوں تک آباد رہا۔

سنہ 2012 میں ان مقدمات کی 400ویں برسی کے موقع پر مقامی اداروں نے 2 سیاحتی راستے متعارف کرائے، جنہیں ’پینڈل وِچز وے‘ اور ’لنکاشائر وِچز واک‘ کہا جاتا ہے۔ ان راستوں کے ذریعے سیاح ان ممکنہ مقامات اور راستوں کا سفر کرسکتے ہیں جہاں سے مبینہ طور پر ملزمان کو گرفتار کرکے لنکاسٹر کیسل لے جایا گیا تھا۔

ان دیہات اور تاریخی مقامات کی سیر کیسے کی جاسکتی ہے؟

پینڈل ہل کے سفر کا آغاز نیوچرچ اِن پینڈل نامی چھوٹے گاؤں سے کیا جاسکتا ہے جہاں مقدمات کا سامنا کرنے والے کئی افراد رہتے تھے۔ اس گاؤں کی آبادی تقریباً 940 افراد پر مشتمل ہے۔ مؤرخ اسٹیفن اولڈفیلڈ کے مطابق یہاں پہنچ کر آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کئی صدیوں پہلے ٹھہر گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیے: ;بھوتوں کی مہک پہچان لیتا ہوں، پیرانارمل انویسٹیگیٹر کے حیران کن دعوے

یہ علاقہ قدرتی حسن کے اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سرسبز پہاڑیاں، کھلے میدان، خوبصورت دیہی گھر اور دور تک پھیلے قدرتی مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ مقامی ٹور گائیڈ اسٹیفن اینتھوسل کے مطابق تازہ ہوا، خوبصورت نظاروں اور پیدل سفر کے شوقین افراد کے لیے پینڈل ہل ایک بہترین مقام ہے۔

گاؤں کی بعض عمارتوں پر جادو ٹونے سے متاثر فن پارے نظر آتے ہیں، جبکہ کئی گھروں کے دروازوں پر گھوڑے کی نعلیں اور باہر ہولی کے درخت لگے ہوئے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ چیزیں جادو اور منتر کے اثرات سے تحفظ کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔

یہاں سے سیاح پینڈل وِچز وے کے راستے پر چلتے ہوئے سینٹ میری چرچ پہنچ سکتے ہیں۔ اس چرچ کے قبرستان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ مقدمے کے دوران ایلس نٹر پر قبروں کی بے حرمتی اور ہڈیاں و دانت نکالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

چرچ کے احاطے میں ایک بڑا پتھریلا مقبرہ بھی موجود ہے جسے عام طور پر ’وِچز ٹومب‘ کہا جاتا ہے۔ مقامی طور پر اسے ایلس نٹر اور ان کے ساتھیوں کی قبر سمجھا جاتا ہے تاہم مؤرخ اولڈفیلڈ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق علاقے میں نٹر نام عام تھا اور سزا یافتہ جادوگرنی کو مقدس زمین پر دفن کرنے کی اجازت ملنا بھی ممکن نہیں تھا۔

چرچ کے مینار پر آنکھ کی شکل کا ایک منفرد نقش بھی موجود ہے جسے ’آئی آف گاڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نشان مقدمات کے بعد کے برسوں میں بنایا گیا تھا تاکہ نیوچرچ اِن پینڈل کو بدروحوں اور برائی سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اس کے بعد سیاح بارلی گاؤں کا رخ کرسکتے ہیں، جہاں سے پینڈل ہل پر چڑھائی کے لیے ایک معروف راستہ شروع ہوتا ہے۔ پھر رافلی گاؤں میں ایلس نٹر کا ایک قدآدم دھاتی مجسمہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اس سفر کا ایک اہم پڑاؤ ایشلر ہاؤس ہے جو فینس گاؤں میں واقع پتھر سے بنا قدیم گھر ہے۔ مؤرخ اولڈفیلڈ کے مطابق یہ پینڈل کے علاقے میں واحد ایسی عمارت ہے جس کے بارے میں معلوم ہے کہ مقدمے میں نامزد افراد کو یہاں لایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملزمان سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں اسی گھر میں رکھا گیا تھا۔

یہاں سے آگے جنگل اور وادیوں پر مشتمل فاریسٹ آف بولینڈ کا راستہ آتا ہے۔ اس علاقے کے قدرتی مناظر اور کھلے میدان اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہیں لیکن جادو ٹونے کے مقدمات کی تاریخ سے واقف سیاح جب ان راستوں سے گزرتے ہیں تو انہیں ان قیدیوں کی مشکلات اور خوف کا خیال بھی آتا ہے جنہیں اسی علاقے سے پیدل گزار کر لنکاسٹر لے جایا گیا تھا۔

لنکاسٹر کیسل کی تاریک کوٹھڑی اور آخری مشروب کی کہانی

اس تاریخی سفر کا اختتام قرونِ وسطیٰ کے شہر لنکاسٹر میں ہوتا ہے جہاں 11ویں صدی کا قدیم لنکاسٹر کیسل ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ یہی وہ قلعہ تھا جہاں مقدمے کے ملزمان کو قید کیا گیا اور انہیں اپنی سزاؤں کا انتظار کرنا پڑا۔

قلعے کے تہہ خانے میں موجود ایک تنگ، نم اور انتہائی سرد کوٹھڑی آج بھی سیاحوں کے لیے کھولی جاتی ہے۔ یہاں چند لمحے گزارنے کے بعد ہی اس جگہ کی تاریکی اور قیدیوں کے حالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

قلعے کے قریب واقع ’گولڈن لائن‘ نامی پب کے بارے میں مقامی روایت ہے کہ پھانسی سے قبل ملزمان نے یہاں آخری مشروب پیا تھا۔ لنکاسٹر یونیورسٹی کی پروفیسر شارلٹ بیکر کے مطابق یہ دعویٰ مقامی قصوں کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کا قدیم شاہی قلعہ اور بھٹکتی ’بدروحیں‘

پب کی قدیم لکڑی کی بار اور پرانی چمنی کے باعث یہاں بھی بھوتوں اور پراسرار آوازوں کی کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آوازیں ان سزا یافتہ افراد کی روحوں سے متعلق ہیں جنہیں موت کی سزا کے لیے لے جاتے ہوئے اس مقام سے گزارا گیا تھا۔

مقامی مصنفہ اسٹیسی ہالز کے مطابق پینڈل مقدمات سے معمولی سا تعلق رکھنے والے مقامات کے مالکان بھی اپنے ہاں کسی نہ کسی پراسرار واقعے یا بدروح کی کہانی سنانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

خوف ناک تاریخ کے پیچھے بے بس انسان

پینڈل ہل کے علاقے میں پراسرار واقعات اور بھوتوں کی کہانیاں سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ضرور ہی  لیکن مؤرخ اسٹیفن اولڈفیلڈ کے نزدیک اس تاریخ کا سب سے افسوس ناک پہلو ان لوگوں کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے جنہیں جادو ٹونے کے الزامات میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان کے مطابق یہ غریب اور کم تعلیم یافتہ اور بے بس لوگ تھے جن کے پاس اپنی زندگی بہتر بنانے کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ روایتی طریقوں سے علاج معالجہ کرکے وہ معاشرے میں اپنی اہمیت اور شناخت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس دور کی توہم پرستی اور خوف نے انہیں مجرم بنا دیا۔

اولڈفیلڈ کے مطابق آج شاید لوگ ایسے افراد سے فاصلہ اختیار کرلیتے، لیکن اس زمانے کے ماحول میں انہیں زندہ رہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

مزید پڑھیے: اردو ادب کی اہم صنف داستان گوئی قصہ پارینہ کیوں؟

یوں پینڈل ہل آج اپنی خوبصورت وادیوں، پراسرار قصوں اور سیاحتی راستوں کے باعث مشہور ہے مگر اس کے پہاڑ اور قدیم عمارتیں ایک ایسے دور کی یاد بھی دلاتی ہیں جب محض شبہات، توہمات اور الزامات کی بنیاد پر انسانوں کی زندگیاں ختم کردی جاتی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp