’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘: وطن عزیز کی پراسرار وادی اشکومن جہاں ’پریاں‘ رہنمائی کرتی ہیں

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کی دور افتادہ وادی میں قدرتی حسن، روایتی مہمان نوازی، بھیڑوں کے ساتھ پہاڑی راستوں پر چہل قدمی اور مستقبل کا حال بتانے والی ایک خاتون کی شہرت سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت کا سیاحتی مقام جہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں ایسی کئی وادیاں موجود ہیں جہاں قدرتی حسن کے ساتھ صدیوں پرانی روایات اور دلچسپ قصے بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

گلگت بلتستان کی دور افتادہ وادی اشکومن بھی انہی میں سے ایک ہے جہاں برف پوش پہاڑوں، گلیشیئرز سے نکلتے دریاؤں اور خوبصورت پھولوں کے درمیان زندگی آج بھی اپنے روایتی انداز میں رواں دواں ہے۔

اس وادی کی خاص بات صرف اس کا قدرتی حسن نہیں بلکہ یہاں سے جڑی بعض پراسرار روایات بھی ہیں۔ مقامی لوک داستانوں میں پریوں کا ذکر آج بھی ملتا ہے اور ایک خاتون رشیدہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ان مافوق الفطرت مخلوقات سے رابطہ کرکے لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں بتاتی ہیں۔

تصویر: بی بی سی

بی بی سی کی جینا ٹرومین نے ایک ٹریول فیچر میں اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد سے تقریباً 650 کلومیٹر کا موٹر سائیکل سفر طے کرکے اس وادی کا رخ کیا جہاں انہوں نے مقامی مہمان نوازی، بھیڑوں کے ساتھ پہاڑی راستوں پر وقت گزارنے، روایتی موسیقی اور رقص سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ اس خاتون سے بھی ملاقات کی جو مقامی لوگوں کے مطابق پریوں سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان کا یہ سفر صرف ایک سیاحتی مقام کی سیر نہیں بلکہ پاکستان کے ایک ایسے خطے کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ تھا جہاں قدرت، ثقافت اور قدیم عقائد ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہیں۔

650  کلومیٹر کا دلچسپ موٹر سائیکل سفر

وادی اشکومن تک پہنچنے کے لیے جینا ٹرومین نے اسلام آباد سے تقریباً 650 کلومیٹر کا زمینی سفر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ راستے میں پاکستان کے متنوع قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

افغانستان کی وادی واخان کے ساتھ واقع اشکومن پاکستان کے نسبتاً کم سیاحوں کی آمد والے پہاڑی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں پہنچنے کا ایک نسبتاً تیز راستہ گلگت تک فضائی سفر اور اس کے بعد تقریباً چار سے 5 گھنٹے کا ٹیکسی سفر ہے جبکہ سڑک کے ذریعے یہ سفر 20 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لے سکتا ہے۔

جینا ٹرومین نے 3 روزہ سفر کے لیے 150 سی سی کی ایک موٹر سائیکل کرائے پر لی جسے رنگ برنگی ٹرک آرٹ سے سجایا گیا تھا۔

اسلام آباد کی مصروف سڑکوں سے نکل کر انہوں نے شاہراہ قراقرم کا رخ کیا جو دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی پختہ شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور قدیم شاہراہ ریشم کے راستے پر تعمیر کی گئی ہے۔

تصویر: بی بی سی

اس شاہراہ پر سفر کے دوران نیچے بہتا نیلگوں دریائے سندھ، بلند و بالا پہاڑ اور برف سے ڈھکی چوٹیاں سیاح کے سفر کو یادگار بناتی رہیں۔ راستے میں نانگا پربت کا 8 ہزار 126 میٹر بلند پہاڑ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

بشام، چلاس اور گلگت سے گزرتے ہوئے سفر جاری رہا جبکہ گاہکوچ کے بازاروں سے آگے بڑھنے پر سڑک مزید تنگ ہوتی گئی اور بالآخر وادی اشکومن کے دور افتادہ علاقے میں داخل ہوگئی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

راستے میں جینا ٹرومین نے تصاویر بنانے، مختلف مقامات پر قیام کرنے اور پولیس چوکیوں پر اہلکاروں کے ساتھ چائے پینے کے لیے بھی وقفے کیے۔ 3 روز کے سفر کے بعد وہ وادی کے علاقے چترکھنڈ میں واقع ایک سیاحتی ہاسٹل پہنچے۔

پہاڑوں کے درمیان ایک منفرد سیاحتی ٹھکانہ

وادی میں قیام کے دوران سیاح نے اپنا زیادہ تر وقت ہاسٹل کے وسیع احاطے میں گزارا جہاں بھیڑیں آزادانہ گھومتی پھرتی ہیں اور مہمان ان کے ساتھ پہاڑی راستوں پر چہل قدمی بھی کر سکتے ہیں۔

یہ ہاسٹل ثنا مروت اور ایلکس رینالڈز نے قائم کیا ہے جس کا مقصد کم خرچ میں سفر کرنے والے سیاحوں اور موٹر سائیکل پر طویل سفر کرنے والوں کو قیام کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

ہاسٹل کی تعمیر میں مقامی وسائل اور روایتی طرز تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے لیے قریبی علاقوں کے دریاؤں سے پتھر اور مقامی چیڑ اور چنار کے درختوں کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔

احاطے میں پتھر سے بنے چھوٹے گھر، گلاب کے پھولوں سے سجے باغات، رنگین شیشوں والی کھڑکیاں اور دیواروں پر آویزاں مقامی قالین اس جگہ کو منفرد بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا: جندیال میں عظیم الشان تاریخی آثار دریافت

یہاں مہمانوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھلانے کا بھی انتظام ہے، جبکہ مقامی طرز کے کمرے اور سادہ ماحول انہیں پہاڑی زندگی کے قریب لے جاتے ہیں۔

ہاسٹل میں قیام کرنے والے سیاح آس پاس کی وادیوں میں پیدل سفر بھی کر سکتے ہیں۔ ہاسٹل کے شریک مالک رینالڈز کے مطابق قریبی وادی نلتر سے اشکومن تک تقریباً 45 کلومیٹر کا ایک دشوار گزار ٹریک بھی موجود ہے جسے مکمل کرنے میں تین سے چار روز لگ سکتے ہیں۔ اس راستے میں تقریباً 4 ہزار 700 میٹر بلند پاکورہ پاس اور ایک گلیشیئر عبور کرنا بھی شامل ہے۔

مقامی ثقافت، موسیقی اور روایتی مہمان نوازی

وادی اشکومن کی دور افتادگی ہی اس کی ایک بڑی کشش ہے۔ یہاں جدید شہری زندگی کی مصروفیات اور شور شرابے سے دور رہ کر سیاح مقامی طرز زندگی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

رینالڈز نے جینا ٹرومین کو بتایا کہ انہوں نے اس علاقے کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ شمالی پہاڑی علاقوں میں یہ نسبتاً غیر متاثرہ اور قدرتی حالت میں موجود مقامات میں سے ایک ہے۔

ان کے مطابق مقامی آبادی تعلیم یافتہ اور مختلف ثقافتوں کے حوالے سے نسبتاً کھلے ذہن کی حامل ہے۔ یہاں خواتین اور مرد دونوں کھیتی باڑی سمیت مختلف کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

وادی کی آبادی کی اکثریت اسماعیلی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اسماعیلی اسلام کے شیعہ مکتب فکر کی ایک شاخ ہیں، جہاں مذہبی تعلیمات کی باطنی اور روحانی تشریحات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے مقامات جو 2025 میں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہے ہیں

تصویر: بی بی سی

جینا ٹرومین نے اپنے قیام کے دوران ایک روایتی مقامی بیٹھک میں بھی وقت گزارا جہاں مردوں کی ایک جماعت ڈھول اور رباب کی دھنوں پر مقامی رقص ’دانی ہریپ‘ پیش کر رہی تھی۔

مصنف کے مطابق علاقے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کی محدود دستیابی کے باعث مقامی لوگ شام کے اوقات ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو، موسیقی اور روایتی رقص سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہی سادہ طرز زندگی اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی اس وادی کو دیگر سیاحتی مقامات سے مختلف بناتی ہے۔

وہ خاتون جو پریوں سے بات کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں

وادی اشکومن کی سب سے دلچسپ روایات میں رشیدہ کا ذکر بھی شامل ہے جنہیں مقامی طور پر ایسی روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے جو پریوں سے رابطہ کرکے لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں بتاتی ہیں۔

مزید پڑھیے: ہنزہ میں 4 سنو لیپرڈز کی ایک ساتھ جھلک، نایاب تاریخی لمحہ کیمرے میں محفوظ

جینا ٹرومین نے ہاسٹل کے عملے کی مدد سے ان سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ اگلی صبح انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر دریا کے پار پہاڑی راستے پر واقع رشیدہ کے گھر لے جایا گیا جہاں پہنچنے میں تقریباً 20 منٹ لگے۔

مقامی لوگوں کے مطابق رشیدہ کے خاندان کے افراد نسل در نسل اس روایت سے وابستہ رہے ہیں اور علاقے کے لوگ طویل عرصے سے ان کے پاس اپنے مسائل اور مستقبل کے بارے میں سوالات لے کر آتے ہیں۔

مقامی لوک داستانوں میں پریوں کو ایسی روشن اور پروں والی مخلوقات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو انسانی اور ماورائی دنیا کے درمیان موجود ہوتی ہیں۔

یہ عقائد علاقے میں اسلام کی آمد سے پہلے کی مقامی روایات سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔ ان روایات میں بعض روحانی پیشواؤں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ پریوں سے رابطہ کرکے ان سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت کافی حد تک کم ہو چکی ہے اور اس پر عمل کرنے والے افراد بھی بہت کم رہ گئے ہیں تاہم بعض مقامات پر یہ قدیم عقائد آج بھی مقامی معاشرت کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عید کی چھٹیوں میں کن مقامات پر سیروتفریح کے لیے جایا جا سکتا ہے؟

تصویر: بی بی سی

دلچسپ بات یہ ہے کہ رشیدہ کے گھر آنے والوں میں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو ان سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔

سیاح کے مطابق رشیدہ اپنے مٹی سے بنے سادہ گھر میں ایک چھوٹی میز کے سامنے بیٹھتی ہیں اور دیوار پر اونچی جگہ نصب آئینے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے جوابات بیان کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انسانی اور ماورائی دنیا کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔

چونکہ رشیدہ مقامی زبان ’کھوار‘ میں گفتگو کرتی ہیں اس لیے سیاح کے سوالات کا ترجمہ کئی مراحل سے گزر کر ان تک پہنچتا ہے۔ پہلے رشیدہ کی بات کھوار سے اردو میں اور پھر اردو سے انگریزی میں منتقل کی گئی۔

ثنا مروت کے مطابق وادی اشکومن میں تقریباً 10 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں کھوار یا چترالی زبان زیادہ عام ہے جو اردو سے بالکل مختلف ہے۔

جینا ٹرومین نے رشیدہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر وہ کب مختلف ممالک کی مسلسل سیاحت چھوڑ کر کسی ایک جگہ مستقل رہائش اختیار کریں گی؟ رشیدہ کے مطابق ان کا مستقبل نیوزی لینڈ میں ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: 2025 میں عالمی سیاحت کے 50 مقامات، فائنانشل ٹائمز کی فہرست میں شمالی پاکستان بھی شامل

انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں بھی سوال کیا تو انہیں مشورہ ملا کہ انہیں اپنا شعبہ تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے شوہر سے مستقبل میں علیحدگی کے امکان کے بارے میں بھی پوچھا جس پر انہیں جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی کوشش

وادی اشکومن میں 4 دن قیام کے دوران سیاح نے اپنا وقت جھولے میں آرام کرنے، بھیڑوں کے ساتھ دریا کنارے چہل قدمی کرنے اور پہاڑی طرز کی دودھ والی چائے سے لطف اندوز ہونے میں گزارا۔

اس کے بعد ایلکس رینالڈز کے ساتھ وادی کی سیر کے لیے پیدل سفر شروع کیا اور علاقے کے ایک خوبصورت آبشار کی جانب روانہ ہوئے۔

اس دوران ایلیکس نے بتایا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتی ہیں اور مقامی روایات اور مذہبی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق ہاسٹل کے تقریباً نصف ملازمین خواتین ہیں جو اس علاقے میں نسبتاً غیر معمولی بات ہے کیونکہ یہاں خواتین کے لیے گھر سے باہر تنخواہ پر کام کرنے کے مواقع محدود ہیں۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار

تصویر: بی بی سی

انہوں نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو کام کے اوقات میں لچک فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ دن کے درمیان گھر جا کر بچوں کے کھانے اور دیگر گھریلو ذمہ داریوں کا خیال رکھ سکیں۔ اسی طرح اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ انہیں غروب آفتاب کے بعد کام نہ کرنا پڑے، سوائے کسی انتہائی ضروری صورت حال کے۔

یہ انتظام مقامی روایات کا احترام کرتے ہوئے خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

وادی اشکومن جانے کا بہترین وقت اور سیاحتی سرگرمیاں

وادی اشکومن کا سفر کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اپریل سے اکتوبر تک کا عرصہ موزوں قرار دیا گیا ہے۔

گلگت تک فضائی سفر کے بعد چترکھنڈ پہنچنے کے لیے تقریباً 4 گھنٹے کی نجی گاڑی حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ شاہراہ قراقرم کے ذریعے زمینی سفر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس سفر کو کئی دنوں میں تقسیم کرنا بہتر ہے۔ اس مقصد کے لیے بشام اور چلاس میں قیام کے مواقع موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: روات قلعے سے وادی کیلاش تک: پاکستان کے کونسے 12 تاریخی ورثے عالمی شناخت کی دوڑ میں شامل ہیں؟

وادی میں سیاح دریائے اشکومن اور اس کے آس پاس ٹراؤٹ مچھلی پکڑنے، دائن آبشار تک پیدل سفر کرنے، پاکورہ پاس عبور کرنے اور جیپ یا موٹر سائیکل کے ذریعے ہیول میڈوز جانے جیسی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ہاسٹل انتظامیہ مقامی خاتون رشیدہ سے ملاقات اور چرواہوں کے ساتھ بھیڑوں کی سیر کا انتظام بھی کر سکتی ہے۔

اس سفر کے اختتام پر جینا ٹرومین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں مہم جوئی اور قدرتی مناظر کی تلاش میں آئی تھیں لیکن اس دور افتادہ وادی میں انہیں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تنہائی، سکون اور سادہ طرز زندگی تھا۔

مزید پڑھیں: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت

ان کے مطابق بلند پہاڑوں، بہتے دریاؤں اور قدیم شاہراہ ریشم کے قریب واقع اس وادی میں کچھ وقت گزارنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ بسا اوقات سفر کا سب سے خوبصورت تجربہ کسی نئی جگہ کو دیکھنا نہیں بلکہ روزمرہ کی مصروفیات سے دور خود کو وقت دینا ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کا امتحان میں فیل ہونے کا اعتراف

پیٹرول سستا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں کوئی تبدیلی نہیں، نئی قیمتیں 19 اکتوبر تک برقرار رکھنے کا اعلان

‘اغوا کاروں نے 5 لاکھ روپے تاوان لینے کے باوجود بیٹے کا پہلے ہاتھ کاٹ کر بھیجا اور بعد میں قتل کردیا’

پی ٹی سی ایل کے سماجی ترقی کے 2 منصوبوں نے ڈریگنز آف ایشیا ایوارڈز 2026 میں اعزازات حاصل کر لیے

خیبر پختونخوا کی گورنر شپ مولانا فضل الرحمان کو دینا وزیراعظم کی خواہش تھی، خود ان کا تقاضا نہیں تھا، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

دیر کالونی اسکول سانحہ: 7 روز میں انکوائری رپورٹ طلب، این او سی اور نقشے کی منظوری دینے والوں کا تعین ہوگا، عامر عبداللہ

ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار

پھولوں کے شہر میں پھولوں کے جنازے، کے پی ایمرجنسی میں توسیع، بڑا فیصلہ

کالم / تجزیہ

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں

ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟