بادشاہ بننے کے خواب، جادو ٹونے کے الزامات اور شاہی سازشوں نے ایلینور کوبھم کی زندگی بدل دی لیکن کیا وہ واقعی جادوگرنی تھیں یا سیاسی انتقام کا نشانہ بنیں؟
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کی فراموش کردہ ملکہ: مٹلڈا کیسے قریب پہنچ کر تخت سے محروم رہ گئیں؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تاریخ میں بعض خواتین ایسی گزری ہیں جن کی زندگی اقتدار، سازشوں اور غیرمعمولی واقعات کی ایسی داستان بن گئی کہ صدیوں بعد بھی ان پر بحث جاری ہے۔
انگلینڈ کی شاہی تاریخ میں ایلینور کوبھم بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں جنہیں کبھی مستقبل کی ملکہ سمجھا جاتا تھا لیکن بعدازاں ان پر جادو ٹونے، مردہ روحوں سے رابطے اور بادشاہ کو قتل کرنے کی سازش جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے اور انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
سنہ 1441 میں ایلینور کوبھم، ہمفری آف لنکاسٹر کی اہلیہ تھیں جو ڈیوک آف گلوسٹر اور اس وقت کے بے اولاد اور کمزور بادشاہ ہنری ششم کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے۔ اس صورت حال میں ایلینور کے انگلینڈ کی ملکہ بننے کے امکانات روشن تھے لیکن شاہی دربار میں ان کے شوہر کا اثر و رسوخ کم ہونے کے ساتھ ہی ان کے خلاف الزامات سامنے آنے لگے۔
کہا گیا کہ ایلینور نے اپنے شوہر کی تخت نشینی کی راہ ہموار کرنے اور خود ملکہ بننے کے لیے جادو ٹونے اور پراسرار علوم کا سہارا لیا تھا۔ ان الزامات نے انگلینڈ میں ایک بڑا سیاسی اور مذہبی تنازع کھڑا کردیا جسے اس دور کا سب سے بڑا شاہی اسکینڈل قرار دیا گیا۔
اب معروف تاریخی ناول نگار فلیپا گریگوری نے اپنے نئے ناول ’رائل وِچ‘ میں ایلینور کی زندگی کو افسانوی انداز میں پیش کیا ہے جس کے بعد ایک بار پھر اس تاریخی شخصیت اور ان کے خلاف مقدمے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
ایلینور کو بعض مؤرخین سیاسی سازش کا شکار قرار دیتے ہیں، جن کے مطابق ان کے خلاف شواہد گھڑے گئے تھے تاکہ ان کے شوہر کو اقتدار کی دوڑ سے باہر کیا جاسکے۔ تاہم فلیپا گریگوری نے اپنے ناول میں انہیں ایک ایسی بااختیار، ذہین اور اقتدار کی خواہش رکھنے والی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے جو اپنی قسمت خود بدلنا چاہتی تھیں۔
مزید پڑھیے: انگلینڈ کے پہلے بادشاہ اَیتھل اسٹین کو تاریخ نے کیوں بھلا دیا؟
ناول نگار کے مطابق ایلینور نے بادشاہ کو جادو کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کے شوہر تخت پر بیٹھ سکیں اور وہ خود انگلینڈ کی ملکہ بن سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایلینور ان غیرمعمولی خواتین میں شامل تھیں جن پر جادو ٹونے کا الزام لگنے کے ساتھ ساتھ اس عمل میں ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود تھے۔
ایلینور کے خلاف الزامات کیا تھے؟
ایلینور کی زندگی کے ابتدائی حالات بھی تنازعات سے خالی نہیں تھے۔ وہ پہلے جیکولین، کاؤنٹیس آف ہینالٹ کی ملازمہ اور مصاحبہ تھیں لیکن اسی دوران انہوں نے اپنی مالکن کے شوہر ہمفری سے شادی کرلی۔ ان کے شاہانہ طرز زندگی اور دولت کی نمائش نے بھی بعض حلقوں میں ناراضی پیدا کی۔
ایلینور اور ان کے شوہر کو مافوق الفطرت علوم اور پراسرار معاملات میں دلچسپی تھی جس کا اندازہ ان کی وسیع ذاتی لائبریری سے بھی لگایا جاتا ہے۔ شاہی مشاورتی کونسل تک یہ اطلاعات پہنچیں کہ ایلینور نے بادشاہ کی موت کی پیش گوئی اور اس مقصد کے لیے جادو ٹونے کا سہارا لینے کی سازش کی ہے۔
اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک خاتون مارگری جوردین بھی مبینہ طور پر ملوث تھیں جنہیں ’وِچ آف آئی‘ یعنی آئی کی جادوگرنی کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ معروف عالم اور نجومی راجر بولنگ بروک کا نام بھی سامنے آیا۔
ایلینور کے خلاف مقدمے میں ان پر جادوئی محلول تیار کروانے، بادشاہ کی موت کی پیشگوئی کے لیے نجومی نقشہ بنوانے اور موم سے بادشاہ کا مجسمہ تیار کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے سمیت 18 الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات میں مردہ روحوں کو بلانے، بدعت اور جادو ٹونے کے الزامات بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں شاہ چارلس کے نئے پورٹریٹ کی نقاب کشائی، ہمشیرہ شہزادی این جذباتی ہو گئیں
ایلینور نے بعض الزامات تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے مارگری جوردین سے محبت اور اولاد کے حصول کے لیے جادوئی محلول حاصل کیے تھے۔ تاہم ان کے اس اعتراف کو بھی مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔
کیا ایلینور سیاسی سازش کا شکار ہوئیں؟
کئی مؤرخین کے مطابق ایلینور کے خلاف مقدمہ دراصل سیاسی محرکات کا نتیجہ تھا۔ ان کے خیال میں شاہی دربار میں موجود مخالفین نے اس تنازع کو ہمفری کی سیاسی طاقت کم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
قرون وسطیٰ کے انگلینڈ کی تاریخ کے ماہر اور برطانوی نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈز کے ماہر ڈاکٹر ایون راجر کے مطابق ایلینور کے خلاف الزامات ایک منظم مہم کا حصہ ہوسکتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایلینور نے ممکنہ طور پر اولاد کے حصول کے لیے ایسے طریقوں کا سہارا لیا جنہیں اس زمانے میں جادو ٹونے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ وہ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اس دور میں اولاد پیدا نہ کرسکنے کا دباؤ خواتین کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔
ڈاکٹر ایون راجر کے مطابق محبت کے لیے جادوئی محلول حاصل کرنے کے اعتراف نے شاہی کونسل کو ایلینور کی شادی ختم کرنے کا جواز فراہم کردیا، جبکہ غداری کے الزامات نے ان کے شوہر کو بھی سیاسی طور پر تنہا کردیا۔
ان کے بقول ایلینور کے خلاف الزامات دراصل ان کے شوہر کو نشانہ بنانے کی کوشش تھے کیونکہ شاہی کونسل کے ارکان جانتے تھے کہ ایلینور کی پراسرار علوم میں دلچسپی ان کی کمزوری بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: برطانوی بادشاہ چارلس نے 800 سالہ قدیم شاہی روایت توڑ دی، وجہ کیا تھی؟
ڈاکٹر راجر نے مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق زیادہ تر شواہد راجر بولنگ بروک کے اعترافی بیان پر مبنی تھے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا تاکہ ایلینور کو بھی اس معاملے میں ملوث کیا جاسکے۔
تاریخ دان جیما ہولمین بھی اپنی کتاب ’رائل وِچز: فرام جون آف ناوارے ٹو الزبتھ ووڈوِل‘ میں لکھتی ہیں کہ اہم فیصلوں کے لیے نجومی پیش گوئیوں سے مدد لینا اس زمانے میں غیرمعمولی بات نہیں تھی حتیٰ کہ شاہی خاندان بھی ایسا کرتے تھے۔
ان کے مطابق اگر ایلینور نے اولاد کے حصول کے لیے محبت کے محلول استعمال کیے بھی تھے تو وہ اس دور کی بہت سی دوسری خواتین سے مختلف نہیں تھیں۔
ناول میں ایلینور کی ایک مختلف تصویر
فلیپا گریگوری نے اپنے ناول میں ایلینور کو محض سیاسی سازش کا شکار خاتون نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے جو خود بھی اقتدار حاصل کرنے کے لیے سرگرم تھیں۔
مزید پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے
ناول کے مطابق ایلینور نے بادشاہ کی شبیہہ موم کے مجسمے پر بنائی اور اس میں بادشاہ کے گھنگریالے بالوں کے ٹکڑے بھی شامل کیے تاکہ جادو کے ذریعے انہیں نقصان پہنچایا جاسکے۔
گریگوری کے مطابق ایلینور کا مقصد صرف اولاد حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ خود تخت، اقتدار اور اپنی شناخت چاہتی تھیں۔ ناول میں انہیں ایک ذہین اور چالاک خاتون کے طور پر دکھایا گیا ہے جو مردوں کی نفسیات کو سمجھتی اور اپنے مقاصد کے لیے ان سے فائدہ اٹھاتی تھیں۔
ناول نگار کے مطابق ایلینور نے ڈیوک ہمفری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی اپنی شخصیت کے بعض پہلو چھپائے اور خود کو کمزور ظاہر کیا حالانکہ وہ گھڑ سواری سمیت کئی معاملات میں خودمختار اور باصلاحیت تھیں۔
گریگوری کا کہنا ہے کہ ایلینور کی شخصیت کو صرف ایک بے بس خاتون کے طور پر دیکھنا درست نہیں، کیونکہ تاریخ میں خواتین مشکل اور جابرانہ حالات میں بھی اپنے فیصلے کرنے اور اپنی زندگی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
ان کے خیال میں ایلینور کے خلاف اتنا بڑا مقدمہ صرف اسی صورت میں چلایا جاسکتا تھا جب حکام کے پاس ایسے شواہد موجود ہوتے جنہیں وہ انتہائی مضبوط سمجھتے تھے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ راجر بولنگ بروک نے اپنا اعترافی بیان کبھی واپس نہیں لیا اور ملزمان نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زیادہ بھرپور احتجاج بھی نہیں کیا۔
الزامات ثابت ہونے کے بعد کیا ہوا؟
ایلینور کے خلاف مقدمے میں شامل دیگر افراد کو بھی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
راجر بولنگ بروک کو عوامی سطح پر اپنے اعترافات واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں ایک اسٹیج پر لے جایا گیا جہاں کاغذ کا تاج پہنا کر اور جادوئی آلات کے درمیان بٹھا کر ان سے اپنے عقائد سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند ماہ بعد انہیں پھانسی دینے، جسم کے ٹکڑے کرنے اور ان کا سر لندن برج پر آویزاں کرنے کی سزا دی گئی۔
مارگری جوردین کو زندہ جلادیا گیا۔
دوسری جانب ایلینور کو چرچ اور شاہی کونسل کے مقدمے کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سے قبل انہیں 3 روز تک عوامی تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں ننگے پاؤں، صرف ایک سادہ لباس میں، ہاتھ میں موم کی بھاری شمع اٹھا کر لندن کی مصروف ترین منڈیوں اور سڑکوں سے گزرنے پر مجبور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: لیڈی ڈیانا سے پہلے شاہ چارلس کی منگیتر سمجھی جانے والی ڈیوینا شیفیلڈ 75 سال کی عمر میں چل بسیں
اس واقعے نے انگلینڈ کی تاریخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک شاہی خاتون کے خلاف اس نوعیت کے مقدمے نے نئے قوانین کی راہ ہموار کی جنہیں بعد میں ہنری ہشتم کے دور میں این بولین کے خلاف بھی استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بادشاہ کے لیے دوبارہ شادی کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔
ایلینور کے شوہر کی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان نے لنکاسٹر خاندان کو بھی کمزور کیا جس سے مخالف شاہی گروہ ہاؤس آف یارک کو طاقت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ بعدازاں یہی سیاسی کشمکش انگلینڈ کی تاریخ کی طویل خانہ جنگی ’وارز آف دی روزز‘ یعنی گلابوں کی جنگوں کا سبب بنی، جو تقریباً 3 دہائیوں تک جاری رہی۔
فلیپا گریگوری کے مطابق ایلینور شاید ایک اچھی ملکہ ثابت ہوسکتی تھیں۔ وہ انہیں ایک خوداعتماد، ذہین اور غیرمعمولی سیاسی بصیرت رکھنے والی خاتون قرار دیتی ہیں اگرچہ ان کی شخصیت میں خودپسندی اور اقتدار کی شدید خواہش بھی موجود تھی۔
مزید پڑھیں: شہزادہ ولیم اور ہیری کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی، وجہ کیا ہے؟
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی عورت کو پسند کرتی ہیں جو اپنی شخصیت کے تاریک پہلوؤں کو دیکھنے کی ہمت رکھتی ہو اور ان پر نہ شرمندہ ہو اور نہ ہی معذرت خواہ۔











