امریکا نے خفیہ معلومات میڈیا کو افشا کرنے کے الزام میں اعلیٰ فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے برطرف کردیا ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افسر کی برطرفی کا تعلق خفیہ معلومات افشا ہونے سے ہے، تاہم پینٹاگون نے ان کی برطرفی کی مکمل وجوہات ظاہر نہیں کیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی میڈیا نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بریٹ سلویا کو جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، متعدد اعلیٰ حکام عہدوں سے برطرف
امریکی نشریاتی اداروں سی بی ایس اور فاکس نیوز نے رپورٹ کیا کہ بریٹ سلویا کی برطرفی خفیہ معلومات افشا ہونے کے معاملے سے جڑی ہے۔ سی بی ایس نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ جنرل بریٹ سلویا خفیہ معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے متعلق 3 پولی گراف ٹیسٹوں میں ناکام رہے تھے۔
جوائنٹ اسٹاف کے ترجمان نے ابتدا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے بریٹ سلویا کی عہدے سے علیحدگی کی تصدیق کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، تاہم بعد میں یہ بیان واپس لے لیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مزید جائزے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ بیان میں معاملے کے تمام پہلوؤں کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔
The Department of War has zero tolerance for the intentional, unauthorized disclosure of classified information. Anyone who compromises sensitive national security information puts the lives of our Warriors at risk and undermines every military operation that keeps our country safe.
Following an extensive Air Force OSI investigation, the Department took necessary personnel action to protect sensitive information. To protect the integrity of the investigation, no further comment will be made regarding the individual or the circumstances of this action.
This matter, along with others, have been referred to the Justice Department for potential further legal action.
Classified information is not personal property. Leaking it for personal, political or professional gain is a betrayal of the trust placed in those responsible for keeping it.
Our commitment was not an empty promise. We vowed to find you, and we meant it.
— Sean Parnell (@SeanParnellASW) October 29, 2026
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع خفیہ معلومات کو جان بوجھ کر اور غیر مجاز طور پر افشا کرنے کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتتا، حساس معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے افسر کا نام لیے بغیر کہا کہ اس معاملے یا کارروائی کے حالات پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ شان پارنیل کے مطابق معاملے کو ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ محکمہ انصاف نے اس حوالے سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی محکمہ انصاف میں بڑا دھماکا، صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے فارغ کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال کے آغاز میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلیٰ فوجی قیادت میں متعدد تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ فروری 2025 میں انہوں نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس ‘سی کیو’ براؤن کو بھی کسی وجہ کی وضاحت کیے بغیر عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
دیگر برطرف یا عہدوں سے ہٹائے جانے والے اعلیٰ افسران میں امریکی فوج، بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے سربراہان، نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی قیادت کرنے والے جنرل، امریکی فضائیہ کے نائب سربراہ، نیٹو میں تعینات بحریہ کے ایک ایڈمرل اور فوج کے 3 اعلیٰ قانونی عہدیداران شامل ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ صدر اپنی پسند کے رہنماؤں کا انتخاب کررہے ہیں، تاہم ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے امریکی فوج کی روایتی غیر سیاسی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ امریکی فوج میں جنرلز اور ایڈمرلز کی تعداد میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے ایسے افسران کو نشانہ بنایا گیا جو فوج کو جنگی تیاریوں پر مرکوز کرنے کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے اور سابقہ حکومتوں کی ‘ووک’ پالیسیوں پر توجہ دیتے رہے تھے۔ وزیر دفاع نے ان کٹوتیوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایران میں فوج بھیجیں گے تو امریکا میں سیاسی انقلاب آئے گا، مارجری ٹیلر گرین
بریٹ سلویا کی برطرفی کی خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ آئندہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے امکان پر غور کررہے ہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ انہوں نے ‘ایپک فیوری’ کا حوالہ دیا، جو فروری میں تہران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نام تھا اور جس کے نتیجے میں جنگ شروع ہوئی تھی، تاہم انہوں نے کسی نئی کارروائی کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
ستمبر کے آغاز سے امریکا اور ایران نے زمینی اہداف پر بڑے حملے نہیں کیے، بلکہ اس کے بجائے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
بریٹ سلویا کی عہدے سے علیحدگی کی سرکاری طور پر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ وہ اس سے قبل امریکی فوج کے فضائی حملوں اور فضائی نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والے 101ویں ایئربورن ڈویژن کی قیادت کرچکے ہیں، جبکہ عراق میں بھی ایک فوجی یونٹ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔











