سانحہ دیر کالونی: 4 ہزار اسکولوں و مدارس کی سیکیورٹی کے جائزے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا، ایڈوائزری کونسل

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانحہ دیر کالونی کے بعد خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی اور عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے اہم اقدامات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ : سانحہ دیر کالونی پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر صوبائی حکام سے جواب طلب

4409 اسکولوں اور مدارس میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

خیبرپختونخوا کی ممبر ایڈوائزری کونسل اور مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دیر کالونی میں پیش آنے والا سانحہ انتہائی اہم معاملہ ہے جس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن محکموں نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے لیے این او سی جاری کیے تھے ان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ذمہ داری ثابت ہوئی وہاں کارروائی کی جائے گی۔ اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت بھی اس انداز میں کی جائے گی کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

ثمر بلور نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو 8 اے پی سی گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مزید بڑے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

صحت کارڈ سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام بند کرنے یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم اس کی کارکردگی کا جائزہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ایم ٹی آئیز کے بورڈز اور انتظامیہ کی بھی نگرانی کی جائے گی اور اقربا پروری برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیے: سانحہ دیر کالونی اسکول : خیبرپختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے نئے قواعد بنانے کا حکم

مشیر اطلاعات نے سرکاری اراضی پر قبضوں کے خلاف بھی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ہے اسے واگزار کرایا جائے گا تاہم کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔

ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب صفائی کا عمل رات گئے تک جاری رہتا ہے تاہم شہر کے بعض علاقوں میں مین ہول کورز اور ڈسٹ بنز کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے محکمہ اوقاف میں ڈیجیٹل پورٹل کے قیام کا بھی ذکر کیا جس کے ذریعے شہریوں کو معلومات اور خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔

’سہیل آفریدی محفوظ کسٹڈی میں ہیں‘

ڈیفَنکٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر ثمر بلور نے کہا کہ وہ اب بھی محفوظ کسٹڈی میں ہیں اور ان کے خلاف چارج شیٹ سامنے آنے کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا احترام کرتی ہیں تاہم بعض معاملات کو آپس میں جوڑنے کا ان کا انداز درست نہیں امید ہے کہ مولانا صوبے کی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔

مزید پڑھیں : مولانا فضل الرحمان بے بنیاد الزامات سے گریز کریں، فرح عظیم شاہ

ثمر بلور نے سابقہ صوبائی انتظامی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ مختلف اضلاع میں غیرقانونی ٹھیکے دیے گئے جن میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی اور کزن کے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp