بائننس کرپٹو پر تاریخ کا بڑا سائبر اٹیک، کون سا ملک ملوث، خفیہ نیٹ ورک پکڑا گیا

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرپٹی کرنسی بائنانس پر تاریخ کے سب سے بڑے 6.3 ارب ڈالر کے کرپٹو حملے کے پیچھے شمالی کوریا کے ایلیٹ ہیکنگ یونٹ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کا ہاتھ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین اور بلاک چین انٹیلی جنس اداروں کے مطابق ’ٹریڈر ٹریٹر‘ شمالی کوریا سے منسلک ایک ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والا ہیکنگ یونٹ ہے، جسے عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی چوری کرنے والے انتہائی منظم سائبر گروپس میں شمار کیا جاتا ہے۔

ماہرین اسے وسیع تر ’لازارس گروپ‘کے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں، جسے پیانگ یانگ کے سائبر آپریشنز سے منسلک کیا جاتا ہے۔

لازارس گروپ کا نام 2009 کے لگ بھگ سامنے آنے والی سائبر کارروائیوں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ منسلک ہیکرز پر 2014 میں سونی پکچرز پر سائبر حملے اور 2016 میں بنگلہ دیش بینک سے بڑی رقم چوری کرنے کی کوشش سمیت متعدد سنگین کارروائیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کرپٹو کرنسی جائز ہے، ریاستی پالیسی کے ساتھ ہیں، چیئرمین سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی ٹریڈر ٹریٹر کو شمالی کوریا سے منسلک سائبر سرگرمیوں اور بڑے کرپٹو کرنسی حملوں کے تناظر میں شناخت کیا ہے۔

ٹریڈر ٹریٹر نام رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

اس ہیکنگ نیٹ ورک کا نام ایک ایسے میل ویئر سے منسوب ہے جسے بظاہر جائز کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ سافٹ ویئر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

اس کا مقصد کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور پیشہ ور افراد کو ایسے سافٹ ویئر کی طرف راغب کرنا تھا جو بظاہر تجارت اور مارکیٹ کی پیش گوئیوں میں معاونت فراہم کرتا دکھائی دیتا تھا، لیکن درحقیقت اس کے ذریعے سائبر جرائم کے لیے راستہ ہموار کیا جاتا تھا۔

امریکی ایف بی آئی، سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) اور محکمہ خزانہ کی مشترکہ 2022 کی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری میں بھی ٹریڈر ٹریٹر سے منسلک نقصان دہ کرپٹو ٹریڈنگ ایپلی کیشنز کا ذکر کیا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا بنیادی ہدف کرپٹو کرنسی کمپنیوں، ایکسچینجز اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنا کر غیر قانونی طور پر ڈیجیٹل اثاثے حاصل کرنا ہے۔

بائننس حملے میں ٹریڈر ٹریٹر کے ملوث ہونے کے شواہد

بلاک چین تجزیاتی ادارے ’ٹی آر ایم لیب‘ نے بائننس حملے کی تحقیقات کے بعد ٹریڈر ٹریٹر کو اس کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ادارے کے مطابق اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے آن چین اور آف چین انٹیلی جنس کا جائزہ لیا گیا، جس کی بنیاد پر شمالی کوریا کے اس ہیکنگ یونٹ کے ملوث ہونے کا امکان انتہائی مضبوط قرار دیا گیا۔

بلاک چین تجزیاتی اداروں اور سنگاپور میں قائم   پانگولین انٹیلی جنس نے بھی اپنی تحقیقات میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کی جانب اشارہ کیا ہے۔

’ٹی آر ایم لیب‘ کے مطابق بائننس حملے اور شمالی کوریا سے منسلک سابقہ سائبر کارروائیوں میں بعض نمایاں مماثلتیں سامنے آئی ہیں، جن میں بائی بٹ اور ’کیلپ ڈی اے او‘ پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کی کوئٹہ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

تحقیقات میں سامنے آنے والے اہم مماثل پہلوؤں میں مشتبہ کرپٹو لین دین کی ابتدائی سرگرمیاں، حملے سے کافی پہلے کی گئی تیاری اور لین دین کے لیے درکار ڈیجیٹل منظوریوں کو پہلے سے جمع کرکے ایک ہی مرحلے میں استعمال کرنا شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان مماثلتوں نے بائننس حملے کو شمالی کوریا کے سابقہ سائبر آپریشنز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بائی بٹ اور کیلپ ڈی اے او حملے بھی زیرِ بحث

ٹریڈر ٹریٹر پر اس سے قبل بھی کرپٹو کرنسی کی بڑی چوریوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ پر ہونے والے سائبر حملے میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی، جسے اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری قرار دیا گیا تھا۔

امریکی ایف بی آئی نے اس واقعے کو شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے ساتھ جوڑا تھا۔

اسی طرح اپریل 2026 میں کیلپ ڈی اے او  پر ہونے والا سائبر حملہ بھی شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ سرگرمیوں کے حوالے سے زیرِ بحث آیا۔

حالیہ بائننس حملے کے بعد ان واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے پیچھے ایک ہی سائبر نیٹ ورک سرگرم تھا یا نہیں۔

سائبر حملوں سے شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگرام کی مالی معاونت؟

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے لیے کرپٹو کرنسی کی چوری محض سائبر جرائم کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی پابندیوں کے باعث محدود مالی وسائل کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ایڈورڈ ہاویل کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں کے تقریباً 40 سے 50 فیصد اخراجات سائبر اور کرپٹو کرنسی سے متعلق کارروائیوں سے حاصل ہونے والی رقوم سے پورے کیے جاتے ہیں۔

اس تناظر میں کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر ہونے والے حملوں کو شمالی کوریا کی مالی اور سائبر حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم عالمی پابندیوں کے باوجود ملک کے عسکری اور جوہری پروگراموں کی مالی معاونت میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

شمالی کوریا کا مؤقف اور عالمی تحقیقات

شمالی کوریا ماضی میں اس نوعیت کے سائبر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ حالیہ بائننس حملے کے حوالے سے جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن نے بھی تاحال ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں:کرپٹو کرنسی جائز ہے، ریاستی پالیسی کے ساتھ ہیں، چیئرمین سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ

دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ٹریڈر ٹریٹر کو متعدد بڑے کرپٹو کرنسی حملوں سے منسلک کیا جا چکا ہے، تاہم بائننس کے حالیہ واقعے میں ذمہ داری کے تعین اور شواہد کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ عالمی کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے منظم ہیکنگ نیٹ ورکس نہ صرف ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی کارروائیاں عالمی معیشت اور مالیاتی تحفظ کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp