پاکستان میں اسپانسرڈ دہشتگردی کا سرپرست اعلیٰ بھارت، افغان طالبان رجیم اس کی پراکسی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں افغانستان سے اسپانسرڈ دہشتگردی کا سرپرست اعلیٰ بھارت ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم اس کی پراکسی ہے۔

بھارت کی سرپرستی میں افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کو پناہ، اسلحہ اور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، افغان طالبان رجیم نے تحفظات دور نہ کیے تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

برطانوی نیوز ایجنسی ’روئٹرز‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کا سب سے بڑا یعنی سرپرست اعلیٰ ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم پاکستان مخالف دہشتگرد تنظیموں کے لیے پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ریاست ہے تو سیاست، جمہوریت اور ہم سب ہیں، دہشتگردوں کی سہولتکاری اب نہیں چلے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سخت پیغام

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور دہشتگردوں کی قیادت کو پناہ فراہم کرنے کا سلسلہ بند کرے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا علم ہے کہ افغانستان کے اندر دہشتگردوں کو کون پال رہا ہے کہ اس کے لیے واضح ہے کہ اس کے پیچھے بھارت ہے، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)  اس کے پراکسی عناصر ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ(ای ٹی آئی ایم) ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان(آئی ایم یو)، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔

احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں غیر ریاستی عناصر، ملیشیاؤں، کرائے کے دہشتگردوں اور مسلح گروہوں کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیے جانے پر شدید تحفظات ہیں۔

افغانستان ریاست نہیں غیر ریاستی عناصر کے زیر انتظام ’ رجیم‘ ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان اب بھی ایک غیر ریاستی عنصر کے زیر انتظام ہے، اسی لیے اسے ایک باقاعدہ ریاست کے بجائے رجیم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد سے مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پراکسی عناصر نے اپنی جڑیں مضبوط کیں، جس کے اثرات آج بھی خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر مرتب ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی تہلکہ خیز گفتگو، حوثیوں کے خلاف کارروائی، پاک فوج میدان میں

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ رابطوں اور سفارتی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اسلام آباد کا بنیادی مطالبہ واضح اور محدود ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو اور دہشتگرد قیادت کو پناہ نہ دی جائے۔

نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود، بلوچ لبریشن آرمی کے بشیر زیب اور گل بہادر کو افغانستان میں پناہ دے رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے دہشتگرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں افغانستان سے ہی اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس اور انہیں حاصل سہولتکاری پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

افغان طالبان کو دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ کرنے پر سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان رجیم نے پاکستان کے دہشتگردی سے متعلق تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور ان کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تحفظات افغان حکام کے سامنے رکھ رہا ہے، لیکن افغانستان کی جانب سے ان خدشات کو دور کرنا اور اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ناگزیر ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر ساکھ پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے بین الاقوامی برادری میں کوئی قابلِ اعتماد حیثیت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان رجیم کو ایک معمول کی ریاست کی طرح ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے پر آمادہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان میں منشیات کی کاشت اور پیداوار کا سلسلہ بند ہو۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین سے دہشتگردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات  کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان رجیم کی جانب سے سامنے آنے والے تمام ممکنہ خطرات، بشمول ڈرونز سے متعلق خطرات، سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج پوری طرح تیار اور اہل ہیں۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp