کینسر پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو روکنے کی نئی امید، سائنسدانوں نے حفاظتی مالیکیول بھی تیار کر لیا

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین نے تقریباً 2 دہائیوں کی تحقیق کے بعد بیکٹیریا کے زہریلے مادے اور آنتوں کے خلیات کے درمیان تعلق کا سراغ لگا لیا، نئی دریافت کی بنیاد پر تیار کردہ حفاظتی مالیکیول کے جانوروں پر تجربات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آگئے ہیں۔

بڑی آنت کے کینسر کی وجوہات اور اس کی روک تھام سے متعلق سائنسی تحقیق کے دوران امریکی ریاست میری لینڈ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین نے ایک مخصوص آنتوں کے بیکٹیریا کے کینسر کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے طریقۂ کار کا سراغ لگا لیا ہے۔

سائنسدانوں نے اس دریافت کی بنیاد پر ایک ایسا حفاظتی مالیکیول بھی تیار کیا ہے جو بیکٹیریا کے زہریلے مادے کو آنتوں کے خلیات تک پہنچنے سے پہلے بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو چہاردہم کے کینسر سے متعلق تشویش ناک رپورٹ سامنے آگئی

تحقیق کے مطابق آنتوں میں موجود ’بیکٹیروئڈز فریجلیس‘نامی بیکٹیریا ایک طاقتور زہریلا مادہ خارج کرتا ہے، جو بڑی آنت کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچانے، سوزش پیدا کرنے اور ٹیومر کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

کلاؤڈن-4 پروٹین بیکٹیریا کے حملے کا بنیادی راستہ قرار

یہ تحقیق جان ہاپکنز کمل کینسر سینٹر، بلومبرگ۔کمل انسٹی ٹیوٹ فار کینسر امیونو تھراپی اور جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق میں ’کلاؤڈن-4‘ نامی پروٹین کی نشاندہی کی گئی ہے، جو بیکٹیریا کے خارج کردہ زہریلے مادے کو آنتوں کے خلیات سے منسلک ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

محققین کے مطابق بیکٹیریا کا زہریلا مادہ سب سے پہلے آنتوں کے خلیات کی سطح پر موجود کلاؤڈن-4 پروٹین سے جڑتا ہے، جس کے ذریعے وہ خلیات پر حملہ آور ہوکر انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں آنتوں کی قدرتی حفاظتی تہہ متاثر ہوتی ہے، سوزش پیدا ہوتی ہے اور ایسے حیاتیاتی حالات جنم لیتے ہیں جو ٹیومر کی تشکیل اور کینسر کی نشوونما میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

2 دہائیوں کی تحقیق اور ’کرسپر‘ ٹیکنالوجی سے اہم کامیابی

سائنسدانوں نے تقریباً 2 دہائیوں کی تحقیق کے بعد جدید ’کرسپر(سی آر آئی ایس پی آر) جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے بیکٹیریا کے حملے کے بنیادی طریقۂ کار کو دریافت کیا۔

مزید پڑھیں:سیلفی سے کینسر کے مریض کی بقا کے امکانات کا اندازہ، مصنوعی ذہانت کی نئی تحقیق

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے محققین نے آنتوں کے خلیات میں مختلف جینیاتی عوامل کا جائزہ لیا اور یہ معلوم کیا کہ کلاؤڈن-4 پروٹین زہریلے مادے کو خلیات تک پہنچنے اور ان سے جڑنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

اس دریافت سے یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ آنتوں میں موجود بعض بیکٹیریا اپنے زہریلے مادوں کے ذریعے خلیات کو کس طرح نقصان پہنچاتے اور کینسر کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔

کینسر سے بچاؤ کے لیے ’ڈیکوئے‘ نامی حفاظتی مالیکیول تیار

اس اہم دریافت کی بنیاد پر محققین نے ایک حفاظتی مالیکیول تیار کیا ہے، جسے ’ڈیکوئے‘کا نام دیا گیا ہے۔

یہ مالیکیول ایک متبادل ہدف کے طور پر کام کرتا ہے اور بیکٹیریا کے زہریلے مادے کو اصل خلیات تک پہنچنے سے پہلے اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے، جس کے نتیجے میں زہریلے مادے کے نقصان دہ اثرات کو بے اثر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین کے مطابق اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد زہریلے مادے کو آنتوں کے خلیات سے منسلک ہونے اور انہیں نقصان پہنچانے سے روکنا ہے۔

جانوروں پر تجربات کے نتائج حوصلہ افزا

تحقیق کے دوران تیار کردہ حفاظتی مالیکیول کو جانوروں پر آزمایا گیا، جہاں اس حکمت عملی کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔

تجربات میں نقصان دہ زہریلے مادے کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی، جس سے مستقبل میں اس طریقۂ کار کو کینسر کی روک تھام کے لیے استعمال کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق بڑی آنت کے کینسر کی تشکیل میں بیکٹیریا کے کردار کو سمجھنے، بیماری کی روک تھام کے نئے طریقے تلاش کرنے اور جدید ادویات کی تیاری کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

انسانی آزمائشوں کے بعد ہی علاج کی افادیت ثابت ہو سکے گی

سائنسدانوں کی اس دریافت کے باوجود حفاظتی مالیکیول کو فی الحال انسانوں کے لیے ثابت شدہ علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق اس طریقۂ علاج کی افادیت، حفاظت اور ممکنہ مضر اثرات کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق اور انسانی آزمائشیں ضروری ہیں۔

اگر آئندہ تحقیقات میں بھی اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ بڑی آنت کے کینسر کی روک تھام اور مستقبل میں نئی ادویات کی تیاری کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp