مصنوعی ذہانت نے طبی تحقیق میں ایک نئی پیشرفت کی ہے۔ امریکی محققین نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو چہرے کی ایک تصویر سے کینسر کے مریض کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے اور اس کی بقا کے امکانات کی پیش گوئی کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بوسٹن کے میساچوسٹس جنرل بریگھم کے محققین نے مصنوعی ذہانت کے اس نظام کو 4 کروڑ سے زائد چہروں کی تصاویر کی مدد سے تربیت دی۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے ’دی لینسٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس نظام کے 2 ماڈل تیار کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک چہرے کی بنیاد پر حیاتیاتی عمر کا تخمینہ لگاتا ہے، جبکہ دوسرا کینسر کے مریضوں میں موت کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی
تحقیق کے مطابق موت کے زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل 122 مریضوں میں سے 52.5 فیصد مریض جانچ کے بعد 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ کم خطرے والے گروپ کے 975 مریضوں میں یہ شرح قریباً 2 فیصد رہی۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ جن مریضوں کی اندازہ شدہ حیاتیاتی عمر ان کی اصل عمر سے 20 سال سے زیادہ تھی، ان میں بھی قلیل مدت میں موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ تھا۔
Foundation models predict cancer survival from a face photo and 130 diseases from one night of sleep study data. Superhuman medical capabilities.
We have over 4M full-length endoscopy videos. What could a video model predict from them? Any labs want to find out with us? https://t.co/SbQZA1CUwc
— Matt Schwartz (@matt_is_nice) October 23, 2026
حیاتیاتی عمر سے مراد جسمانی حالت اور عمر بڑھنے کے اثرات کا اندازہ ہے، جو کسی شخص کی کیلنڈر کے مطابق عمر سے مختلف ہوسکتا ہے۔ محققین کے مطابق حیاتیاتی عمر کا ماڈل پیشانی، کنپٹیوں اور ناک سے منہ کے کناروں تک جانے والی لکیروں کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ موت کے خطرے کا اندازہ لگانے والا ماڈل ناک کے اوپری حصے اور آنکھوں کے نیچے کے حصوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو مریض کی مجموعی جسمانی حالت سمجھنے اور علاج کے ممکنہ طریقوں کے انتخاب میں اضافی معلومات فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم تحقیق کے نتائج کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف چہرے کی تصویر سے کسی مریض کی زندگی یا موت کا یقینی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان انگلینڈ ون ڈے میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کا رنگ، قومی ٹیم گلابی کٹس میں میدان میں اتری
محققین اور بیرونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو معمول کے طبی استعمال میں لانے سے پہلے مزید آزمائشوں کی ضرورت ہے۔ یہ بھی جانچنا ہوگا کہ آیا مصنوعی ذہانت کی پیش گوئیاں ڈاکٹروں کے موجودہ طبی جائزوں سے آگے کوئی قابلِ اعتماد اور عملی فائدہ فراہم کرتی ہیں یا نہیں۔
اہم وضاحت: یہ تحقیق کینسر کے مریضوں میں خطرے کا اندازہ لگانے سے متعلق ہے، عام صحت مند افراد کی عمر یا موت کی پیش گوئی کے لیے ابھی اس کے نتائج کو لاگو نہیں کیا جاسکتا۔










