ضلع کشمور کی تقریباً 12 لاکھ آبادی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے جہاں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں شہری 2 سے 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ، 2 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوں گے، عظمیٰ بخاری
صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم حکام کی جانب سے سہولیات کی فراہمی اور بہتری کے دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے واٹر فلٹر پلانٹس غیر فعال پڑے ہیں جس کے باعث شہری مجبوری میں آلودہ اور مضرِ صحت پانی استعمال کر رہے ہیں۔
آلودہ پانی کے مسلسل استعمال کے باعث کشمور میں پیٹ اور یرقان سمیت مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافے کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد شہری علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
مزید پڑھیے: 30 سال سے زیرالتوا سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 کی تعمیر نومبر میں شروع ہوگی، وزیر مواصلات کا اعلان
دوسری جانب محکمہ پبلک ہیلتھ کی مبینہ سست روی اور انتظامی غفلت کے باعث نئی واٹر سپلائی اسکیموں پر کام بھی طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے جس سے پہلے ہی صاف پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
عوامی حلقوں اور متاثرہ شہریوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے غیر فعال واٹر فلٹر پلانٹس کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور زیر تعمیر واٹر سپلائی اسکیموں کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو آلودہ پانی کے استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔
مزید پڑھیں: سکھر صنعتی زون تباہ حال: کاروباری افراد کا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ
شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی مسائل کے مؤثر حل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے صوبوں کا قیام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ دیکھیے جاوید ملک کی یہ ویڈیو رپورٹ۔









