پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما جہاں آرا وٹو نے کہا ہے کہ ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا اپنی ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے ’کےپی‘ میں گورنر راج لگانے کا خود کہا، مذموم عزائم ایک طرف رکھیں، ریاست کو گالی نہ دیں، عابد شیر علی
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جہاں آرا وٹو نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی اہلکار دن رات ملک اور عوام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان اداروں اور ان جوانوں کے خلاف بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے اپنی ماں کو گالی دینا کیونکہ ریاست بھی ماں کی طرح ہماری حفاظت کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ادارے ہماری حفاظت نہ کریں تو ملک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے حالات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان نے دنیا میں اپنا سر فخر سے بلند کیا۔
ملک میں گورننس کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں آرا وٹو نے کہا کہ انتظامی اور سیاسی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے ہوں گے کیوں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام میں کوئی حرج نہیں اس سے انصاف، صحت کی سہولیات اور فیصلہ سازی عوام کے قریب آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت نوجوانوں سے متعلق بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ 30 سال سے کم عمر آبادی کی بڑی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع اور ہنر سکھانے کے مراکز قائم نہیں کیے جا رہے۔ نوجوانوں کو سیاسی طور پر بھی بااختیار نہیں بنایا جا رہا اور سیاسی جماعتوں نے نچلی سطح پر ان کے لیے مناسب سیاسی گنجائش پیدا نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ جب نوجوانوں کو مواقع نہیں ملیں گے اور وہ مایوسی کا شکار ہوں گے تو ریاست کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بھی متاثر ہوگا۔ ملک کو درپیش مسائل محض ایک نظام کے تحت کام کرنے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ مؤثر حکمرانی اور اختیارات کی حقیقی تقسیم ضروری ہے۔
ڈپٹی کمشنرز کو اضلاع کے منصوبوں کا علم ہی نہیں ہوتا
صوبے میں گورننس اور انتظامی مسائل پر بات کرتے ہوئے جہاں آرا وٹو نے بتایا کہ انہیں پنجاب میں سماجی تحفظ کے شعبے میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں ان کی اتھارٹی غریب ترین طبقات کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ذمہ داری سنبھالی تو پورے پنجاب میں تعلیم، ماں اور بچے کی صحت سمیت سماجی تحفظ کے مختلف منصوبے جاری تھے لیکن انہیں محسوس ہوا کہ ان منصوبوں کی مؤثر نگرانی صرف دفتر میں بیٹھ کر ممکن نہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے اپنے پہلے ہی سال میں پنجاب کے 27 اضلاع کے دورے کیے جہاں عوام کی شکایات سنیں، بینکنگ نظام کا جائزہ لیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ مستحق افراد کو شفاف طریقے سے رقوم مل رہی ہیں یا نہیں، اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت کا دورہ کیا اور ڈپٹی کمشنرز سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دوروں کے دوران انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ان کی اتھارٹی کے جاری منصوبوں کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔
اس صورتحال کے پیش نظر پہلی مرتبہ پنجاب میں سماجی تحفظ کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم کی گئیں تاکہ منصوبوں پر مقامی سطح پر نگرانی اور عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ اگر ایک محکمے کو ایک ہی جگہ بیٹھ کر چلانا مشکل ہے تو پورے صوبے کو ایک مرکز سے مؤثر انداز میں چلانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اٹک سے راجن پور تک ہر علاقے تک پہنچنا اور وہاں کے عوام کی شکایات کا ازالہ کرنا مرکزی نظام کے ذریعے آسان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اسے ایک الگ ملک قرار دیا جائے تو یہ جرمنی جتنا بڑا ملک ہوگا۔
نوجوانوں کو مواقع نہ دینا پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑے سکیورٹی خطرات میں نوجوانوں کی مایوسی بھی شامل ہے۔ 30 سال سے کم عمر افراد کی بڑی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ہنر سکھانے کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی بااختیار بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو نچلی سطح پر نوجوانوں کے لیے جگہ پیدا کرنی چاہیے تاکہ وہ سیاسی عمل میں شریک ہو سکیں اور اپنے فیصلے خود کر سکیں۔
مزید پڑھیں: اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ اہم، حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان کراس فائر رکنا چاہیے، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کرائے ہیں اور وہاں مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے لیکن پنجاب میں بلدیاتی ادارے موجود نہیں ہیں۔
بلدیاتی اداروں کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ممکن نہیں
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کے باعث صوبائی مالیاتی کمیشن بھی قائم نہیں کیا جا رہا جبکہ قومی مالیاتی کمیشن کا نظام بھی تعطل کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل اے 140 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا کیونکہ تمام اختیارات ایک ہی جگہ رکھنے کی خواہش موجود ہے۔
ان کے مطابق اس وقت اضلاع میں زیادہ تر اختیارات انتظامیہ کے پاس ہیں، جہاں اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز تعینات ہوتے ہیں لیکن ان افسران کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کے احتساب اور نگرانی کا مؤثر نظام کیسے قائم ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ جب مقامی سیاسی قیادت موجود نہیں ہوگی تو انتظامیہ عوام کو جواب دہ کیسے ہوگی؟ یہ ملک میں گورننس کے بڑے خلا ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے قیام پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے
چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جہاں آرا وٹو نے کہا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مشاورت کرنی چاہیے اور مل بیٹھ کر درمیانی راستہ نکالنا چاہیے تاکہ عوام کی بہتری ممکن ہو، انتظامی خلا پُر کیے جا سکیں اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات بھی دور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں چھوٹے صوبے بنائے جاتے ہیں تو پاکستان پیپلز پارٹی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
سندھ کی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی لاشیں گرانے کی سیاست نہیں کی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور شہید بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا لیکن ان واقعات کے باوجود پیپلز پارٹی نے لاشیں گرانے کی سیاست نہیں کی اور نہ ہی کبھی ریاست کے خلاف کھڑی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک پرانی سیاسی جماعت ہے اور ہمیشہ سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ سندھ میں گورننس کے مسائل موجود ہیں اور وہ یہ دعویٰ نہیں کر رہیں کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں تاہم یہ مسائل صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا رقبہ بہت وسیع ہے اور وہاں بھی انتظامی مسائل موجود ہیں۔
چھوٹے صوبے انصاف اور سہولیات عوام کے قریب لے آئیں گے
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو انصاف اور صحت کی سہولیات ان کے قریب میسر آ سکیں گی، جبکہ نوجوانوں کو سیاسی دھارے میں شامل ہونے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے مواقع ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانے کے بجائے صرف مقامی حکومتوں کے نظام کو ہی مؤثر بنا دیا جائے تو اس سے بھی معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر پنجاب کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
ان کے مطابق ان کے والد جب وزیر تھے تو انہوں نے پنجاب کو تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی اور بعد میں ان کے درمیان اس معاملے پر سیاسی گفتگو بھی ہوتی رہی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی تقسیم کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور اختیارات کو ان کے قریب لانا ہونا چاہیے۔
والد نے خواتین کی سیاست میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی
جہاں آرا وٹو نے بتایا کہ ان کے علاقے میں خواتین کا سیاست میں آنا عام روایت نہیں تھی، اس لیے ان کے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ ان کے والد کے لیے بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: مولانا فضل الرحمان کا تجاوزات کا دفاع کرنا مناسب نہیں، آپریشن ہر صورت جاری رہے گا، طلال چوہدری
ان کے بقول ان کے والد ایک ترقی پسند سوچ رکھنے والے شخص تھے اور انہوں نے معاشرتی و خاندانی روایات سے ہٹ کر اپنی بیٹی کو سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے والد اس بات پر خوش ہوتے تھے کہ ان کی بیٹی محنت کر رہی ہے اور اسے آگے آنا چاہیے۔ وہ خود انہیں انتخاب لڑوانے کے لیے لے کر آئے۔ جہان آرا وٹو کے مطابق وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صدر کی حیثیت سے بھی کام کر چکی ہیں اور ان کی کارکردگی دیکھ کر لوگوں نے ان کے والد سے انہیں انتخاب لڑوانے کا کہا، جس کے بعد انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔
پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ درست ثابت ہوا
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا رجحان بہت زیادہ تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہر شخص اس سیاسی لہر میں بہہ رہا ہے لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ جماعت ایک فطری سیاسی عمل کے تحت وجود میں نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کو زبردستی پی ٹی آئی میں شامل کیا جا رہا تھا اور بہت سے افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ اس جماعت کا ٹکٹ کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان کے نزدیک ایسی جماعت کے لیے طویل عرصے تک اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے ریاست مخالف بیانیے کے بھارتی میڈیا پر چرچے
ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بھی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حق میں نہیں تھے اور دونوں نے اس جماعت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ اس فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہیں۔
وزیراعلیٰ بننے کی خواہش نہیں، عوام کی خدمت جاری رکھوں گی
مستقبل میں کسی چھوٹے صوبے کی وزیراعلیٰ بننے سے متعلق سوال پر جہاں آرا وٹو نے کہا کہ وہ فی الحال وزیراعلیٰ بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کر رہیں تاہم ان کے علاقے کے لوگ انہیں جس حیثیت میں بھی اپنی خدمت کے لیے چاہیں گے وہ اس کردار کو ادا کریں گی۔










