برطانیہ کے علاقے ویلز میں ریڈیولوجسٹس کی شدید کمی کے باعث کینسر کے مریضوں نے خبردار کیا ہے کہ طبی اسکینز میں تاخیر ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کے مطابق ویلز کے نیشنل ہیلتھ سروس کو مطلوبہ تعداد کے مقابلے میں 88 ریڈیولوجسٹس کی کمی کا سامنا ہے، جو مجموعی ضرورت کا 28 فیصد بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے بادشاہ چارلس کو کینسر کی تشخیص
اس کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمالی اور مغربی ویلز شامل ہیں، رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کی 2025 کی افرادی قوت سے متعلق رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں کنسلٹنٹ ریڈیولوجسٹس کی 42 فیصد کمی ہے، جبکہ جنوبی ویلز میں یہ شرح 22 فیصد ہے۔
شمالی ویلز کے علاقے میں خدمات فراہم کرنے والے بیٹسی کیڈوالاڈر یونیورسٹی ہیلتھ بورڈ نے بتایا ہے کہ عملے کی بھرتی کا عمل جاری ہے اور اسکینز کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باوجود رپورٹس کی فراہمی میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے۔
Cancer patients 'deteriorating' due to staff shortages, radiologists warn https://t.co/pjGhJQVVIC
— BBC Wales News (@BBCWalesNews) November 1, 2026
ہیلتھ بورڈ کی ایگزیکٹو میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈے نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ عملے کی کمی سے متعلق اعداد و شمار مریضوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم ادارہ ریڈیولوجی اور آنکولوجی دونوں شعبوں میں فعال طور پر بھرتیاں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محفوظ طبی خدمات برقرار رکھنے، مریضوں کی طبی ضرورت کے مطابق ترجیحات طے کرنے اور شمالی ویلز کے عوام کو معیاری کینسرعلاج فراہم کرنے کے لیے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: چہرے کی ایک تصویر سے کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟
ڈاکٹر ڈے کے مطابق امیجنگ سروسز کی طلب میں تیزی سے اضافے کے باوجود اپریل سے ایک نجی تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والے ادارے کی خدمات حاصل کرنے کے باعث اسکینز اور ان کے نتائج کے انتظار کا دورانیہ کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
دوسری جانب سوانزی میں کنسلٹنٹ آنکولوجسٹ اور رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کی ویلش کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اوون نکولس نے کہا کہ مریضوں کو علاج کے نتائج سے آگاہ کرنے میں تاخیر ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
مزید پڑھیں: کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ڈاکٹر کے سامنے ایسا مریض بیٹھا ہوتا ہے جو شدید بے چینی کے ساتھ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا اس کا علاج کامیاب رہا ہے یا کینسر دوبارہ لوٹ آیا ہے۔
ڈاکٹر اوون نکولس کے مطابق ایسی صورت حال میں ڈاکٹر کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ معذرت، انہیں ابھی معلوم نہیں کیونکہ اسکین کی رپورٹ دستیاب نہیں، یا پھر رپورٹ موصول نہ ہونے کی وجہ سے مریض کی طے شدہ ملاقات ہی منسوخ کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے اس صورت حال کو مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔











