چہرے کی ایک تصویر سے کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محققین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی ایک ایسا ٹول تیار کیا ہے جو چہرے کی ایک تصویر کا تجزیہ کرکے کینسر کے مریضوں کی بیماری کی شدت اور متوقع بقا کے بارے میں اندازہ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں کے لیے مناسب علاج تجویز کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اسے اسپتالوں میں استعمال کرنے کے لیے ابھی مزید تحقیق اور جانچ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت

تحقیق کے ابتدائی نتائج طبی جریدے ’لینسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئے ہیں، محققین نے اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے 2 الگ الگ ٹولز تیار کیے ہیں، جن میں سے ایک کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانے جبکہ دوسرا ان کی حیاتیاتی عمر کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

امریکی شہر بوسٹن کے ادارے میساچوسٹس جنرل بریگھم سے وابستہ محققین کے مطابق ’فیس سروائیول‘ نامی اے آئی ٹول چہرے کے مختلف خدوخال کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔

اس نظام کو لاکھوں صحت مند افراد کے چہروں اور کینسر کے مریضوں کی تقریباً 35 ہزار تصاویر کی مدد سے تربیت دی گئی ہے۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ آنکھوں کے نیچے اور ناک کے اوپری حصے کے قریب موجود خدوخال کینسر کے مریضوں کی بقا سے متعلق اندازوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ نتائج مختلف اقسام کے کینسر میں دیکھے گئے، جن میں ایسے مریض بھی شامل تھے جن کی بیماری ہڈیوں یا دماغ تک پھیل چکی تھی۔

مزید پڑھیں: کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت

تحقیق میں امریکا اور نیدرلینڈز کے مریض شامل تھے، جن میں بچوں سے لے کر 90 سال سے زائد عمر کے افراد تک موجود تھے۔

تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر ریمنڈ میک کے مطابق عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے باعث ڈاکٹروں کو ایسے بہتر طریقوں کی ضرورت ہے جن سے مریض کی جسمانی استعداد اور کمزوری کا اندازہ لگا کر ریڈی ایشن، سرجری یا دیگر شدید علاج کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ڈاکٹروں کے فیصلوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان میں بہتری لانا ہے۔

مزید پڑھیں: پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ٹوفو پہلے نمبر پر، گوشت، مچھلی اور انڈے پیچھے رہ گئے

دوسرا ٹول ’فیس ایج‘ کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اس میں منہ اور ناک کے اطراف، پیشانی، کنپٹیوں اور گالوں کے خدوخال کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق تمباکو نوشی، زیادہ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال عمر بڑھنے کے ظاہری آثار کو تیز کر سکتا ہے۔

تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے ماہر پروفیسر میروسواف بوبَر نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کے لیے تیار نہیں۔

مزید پڑھیں: بچوں میں کینسر کی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کن نشانیوں پر والدین کو خبردار ہوجانا چاہیے؟

ان کے مطابق اسے ڈاکٹروں کے جائزوں، مختلف اسپتالوں اور متنوع مریضوں پر آزمانا ضروری ہے، محققین نے بھی واضح کیا ہے کہ مختلف نسلی گروہوں سے مزید تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیے بغیر اس کی درستگی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ نتیجے کی پیشگوئی کرنا اور اس کی وجوہات کی وضاحت کرنا 2 مختلف چیزیں ہیں، اس لیے اس ٹیکنالوجی کو فی الحال ایک ابتدائی تحقیقی پیشرفت ہی سمجھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں