فرانس میں نامعلوم ہیکرز کے سائبر حملوں سے خون کے عطیات محفوظ رکھنے والے طبی مراکز کے فریزر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے خون ذخیرہ کرنے والے کولڈ اسٹوریج سسٹم کا درجہ حرارت بڑھا دیا، تاہم عملے کی بروقت مداخلت سے خون کی فراہمی محفوظ رہی اور کسی طبی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فرانس کے ادارہ برائے خون نے تصدیق کی ہے کہ سائبر حملوں کے باعث خون محفوظ رکھنے والے بعض سرد خانوں کا نظام متاثر ہوا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کسی خون کی مصنوعات کے ضائع ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور صحت عامہ پر بھی کوئی منفی اثر سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل یورپ کے مختلف ممالک میں سپر مارکیٹوں کے فریزر بھی ایسے ہی سائبر حملوں کا نشانہ بنے تھے۔ حالیہ واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر روسی ہیکر گروپوں کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے سامنے آئے، تاہم سائبر سکیورٹی ماہرین نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
🇫🇷 🩸 #Cyberattacks targeted refrigeration systems across #France on Monday, the national blood service said on Wednesday, hitting facilities storing critical #blood and plasma donations in the country and across Europe. pic.twitter.com/JcbBDzLKAI
— FRANCE 24 English (@France24_en) November 5, 2026
ماہرین کے مطابق حملوں کے پیچھے روسی ہیکرز، ایرانی سائبر گروپ یا کسی ملک کے سرکاری ہیکرز ہوسکتے ہیں، جبکہ کم عمر افراد کی شرارت کا امکان بھی مسترد نہیں کیا گیا۔
اسکاٹ لینڈ، اسپین اور فرانس کی 3 سائبر سیکیورٹی کمپنیوں نے حملہ آوروں کی شناخت اور طریقہ کار جاننے کے لیے جعلی فریزر سسٹم بطور ڈیجیٹل جال نصب کیے ہیں۔ ان کے ذریعے ہیکرز کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد یورپی ممالک میں فریزرز کو بیک وقت نشانہ بنایا جانا حملوں کی منصوبہ بندی اور باہمی رابطہ کاری کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض آلات کے حفاظتی نظام میں کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، جن سے فائدہ اٹھانا نسبتاً آسان تھا۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس: مظاہروں کی نئی لہر کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات
فرانسیسی سائبر دفاعی ادارے سیکویا کے مطابق روسی اور ایرانی ہیکر گروپوں کے ملوث ہونے کے امکانات زیرِ غور ہیں، تاہم اب تک روسی زبان بولنے والے گروپوں کے ملوث ہونے کا کوئی تکنیکی ثبوت نہیں ملا۔ مختلف ممالک میں حکام تحقیقات کررہے ہیں اور تاحال کسی گروپ کو باضابطہ طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔











