وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس یعنی ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت گرفتاریوں کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت سے روک دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کی 2 رکنی بینچ نے جمعرات کو صوبائی حکومت کی اس اپیل پر سماعت کی، جس میں پشاور ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت انتظامیہ کو دفعہ 3 ایم پی او کے تحت شہریوں کی گرفتاریوں سے روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، اہم فیصلہ جاری
واضح رہے کہ ایم پی او کی دفعہ 3 ایک قانونی شق ہے جس کے تحت حکام امن و امان برقرار رکھنے یا امن عامہ کو ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے کسی شخص کو پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر گرفتار یا نظر بند کر سکتے ہیں۔
اس قانون کے تحت کسی شخص کو حراست میں لینے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی جرم میں سزا یافتہ بھی ہو۔
Federal Constitutional Court Suspends Peshawar High Court Orders in PTI Workers’ MPO Cases
Court restrains Peshawar High Court from hearing cases related to detentions under MPO following deployment of armed forces under Article 245
— Aamir Saeed Abbasi (@AmirSaeedAbbasi) November 5, 2026
سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس نوعیت کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔
بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا اس دلیل کی بنیاد پر ہائیکورٹ کو آرٹیکل 199 کے تحت روزانہ دائر ہونے والی دیگر متعدد درخواستوں کی سماعت سے بھی روکا جا سکتا ہے؟
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے ہمدرد لیبارٹری کو ایوریج بل بھیجنے کی لیسکو کی اپیل خارج کردی
دوسری جانب حکم امتناع سے قبل اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے دیگر فریقین کے وکیل شاہ فیصل الیاس نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے تینوں قانونی اعتراضات میں سے کوئی بھی قابلِ قبول نہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کے تفصیلی حکم نامے کا جائزہ لے کر اپنے قانونی اعتراضات اور جوابات جمع کرائیں۔
مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ جعلی ڈگری رکھنے والے ٹیچر کو نوٹس جاری کردیا
بینچ نے کہا کہ دیگر فریقین بھی عدالتی حکم کا جائزہ لینے کے بعد اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت کے حکم امتناع کے بعد پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے دفعہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں پر پابندی سے متعلق ہدایات تاحکمِ ثانی معطل رہیں گی۔











