ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے بلوچستان پولیس میں حالیہ بھرتیوں کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھرتی کے عمل میں مقامی پولیس کا کوئی کردار نہیں تھا اور کسی امیدوار کو سفارش یا اثرورسوخ کی بنیاد پر ملازمت نہیں دی گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران پولیس بھرتیوں کے معیار اور بلوچستان کے حالات میں اہلکاروں کی بھرتی سے متعلق سوالات کے جواب میں عمران شوکت نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بلوچستان پولیس کی بھرتیوں میں مقامی پولیس کو براہِ راست شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے آئی جی پولیس نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ پولیس کی کارروائی، 2 دہشت گرد گرفتار
ڈی آئی جی عمران شوکت نے بتایا کہ بھرتیوں کے لیے دوسرے علاقوں سے ڈی آئی جیز اور کمیٹی کے ارکان کو بھیجا گیا، جبکہ پورے عمل کی ڈیجیٹل ریکارڈنگ کی گئی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھرتیوں میں ایک بھی امیدوار کو میرٹ سے ہٹ کر منتخب نہیں کیا گیا۔ اگر کسی کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے کہ کوئی امیدوار جسمانی دوڑ کے امتحان میں ناکام ہونے کے باوجود بھرتی ہوا تو وہ اسے سامنے لائے، پولیس کے پاس اس عمل کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی امیدوار کے پیچھے سینیئر پولیس افسر یا کوئی بااثر شخصیت بھی سفارش کرتی تو اسے میرٹ کے بغیر بھرتی نہیں کیا جاسکتا تھا، حتیٰ کہ ان کا اپنا بیٹا بھی ہوتا تو وہ اسے میرٹ سے ہٹ کر ملازمت نہیں دے سکتے تھے۔
ڈی آئی جی نے صحافیوں سے کہا کہ وہ بھی اپنے طور پر تحقیقات کریں اور اگر بھرتیوں میں کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو اسے رپورٹ کریں۔











