گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کا تعاون ناگزیر ہے، اسلام آباد کی حمایت کے بغیر خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا، صوبے نے گزشتہ کئی برسوں میں اس جنگ کے دوران عظیم قربانیاں دی ہیں۔
پشاور میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور پُرامن خیبرپختونخوا چاہتے ہیں۔ صوبے نے طویل عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کیا اور اس کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا مطالبہ کیا، وزیراعظم نے عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ قیادت صحافت کو درپیش مسائل کے حل اور میڈیا کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ آزادی صحافت، صحافیوں کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ معیار، اخبارات کی معاشی پائیداری اور میڈیا اداروں کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے کو جمہوری قوت، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ اور مکالمے کو مسائل کے حل کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔ ریاست اور میڈیا دونوں کی بنیادی ذمہ داری عوام کے سامنے جواب دہ ہونا اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت عوام کی آواز سنتی ہے، آزاد صحافت حقائق سامنے لاتی ہے اور باشعور معاشرہ ان دونوں کے ذریعے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے تقریب کے انعقاد پر کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافت، جمہوری اقدار اور عوامی شعور کے فروغ کے لیے سی پی این ای کی خدمات قابل قدر ہیں۔
اخبارات کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مکمل معلومات نہیں ہیں، تاہم سیکریٹری اطلاعات بھی یہاں موجود ہیں اور اخبارات کا اپنے واجبات کا مطالبہ کرنا ان کا حق ہے۔ وہ متعلقہ مشیر سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے اور اخبارات کے جائز واجبات کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 2006 یا 2007 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مسلسل حمایت پر شکر گزار، امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی، فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران جب صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی مخلوط حکومت تھی اور وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ملک کو بارود، خودکش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین مسائل کا سامنا تھا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس وقت یہ خدشات ظاہر کیے جاتے تھے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دوسری جانب موجود دہشت گرد کسی بھی وقت اسلام آباد پر حملہ کرسکتے ہیں۔ اس دور میں امن کی بحالی کے لیے اقدامات کیے گئے اور سوات میں تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا گیا، جس کے بعد سوات سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ دہشت گردوں سے علاقے کو پاک کرنے کے بعد متاثرین کو دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میڈیا، سیاست دانوں، فوج یا پولیس کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2013 تک صوبے میں بڑی حد تک امن قائم ہوچکا تھا، لیکن اس کے بعد آنے والی صوبائی حکومت کے طویل دور میں بھی دہشت گردی میں کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ڈرون حملے انتہائی مجبوری کی صورتحال میں کیے جاتے تھے اور سال میں کبھی کبھار کسی انتہائی اہم ہدف کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ان حملوں پر صوبائی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا جاتا اور قراردادیں بھی منظور ہوتی تھیں، لیکن دہشت گردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹر حملوں کے معاملے پر اسمبلی میں کبھی قرارداد پیش نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے بھی درست نہیں تھے کیونکہ ان میں شہری شہید ہوتے تھے، تاہم بعض اوقات مجبوری کے تحت ایسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گردوں کے کواڈ کاپٹر حملوں میں فوجی اہلکاروں، پولیس اور شہریوں کی شہادتوں پر بھی آواز اٹھائی جانی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید افغانستان میں ہیں تو پی ٹی آئی دہشتگردوں کے خلاف کیسے بولے گی؟ فیصل کریم کنڈی
گورنر نے کہا کہ پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان کو آگاہ کرچکا ہے کہ بھارت اور اسرائیل افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ مختلف عالمی فورمز پر اس حوالے سے شواہد بھی پیش کیے گئے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون آنے یا وہاں کے کسی وزیر کی جانب سے پشاور پر چند گھنٹوں میں قبضے سے متعلق بیان دینے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آتا۔
فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی حمایت درکار ہے اور اسلام آباد کے تعاون کے بغیر صوبہ اس جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔
فیصل کریم کنڈی نے سابق صوبائی حکومت پر سیکیورٹی معاملات میں غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کتنے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہوئے، اس بارے میں کسی کو بتایا ہی نہیں جاتا تھا۔ صوبائی حکومت نے ایپکس کمیٹی کے کتنے اجلاس بلائے؟ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ، کور کمانڈر، آئی جی ایف سی، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری سمیت تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوتے ہیں، لیکن سابق حکومت نے اس حوالے سے صرف ایک اجلاس بلایا۔
انہوں نے کہا کہ سابق حکومتی نمائندے کبھی کبھار اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے، اندر کچھ اور بات کرتے اور باہر آکر مختلف مؤقف اختیار کرتے تھے۔ صوبے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی رہیں، لیکن ان کے جنازوں میں صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوتا تھا۔ کسی شہید اہلکار کے جنازے میں حکومتی قیادت کی شرکت سے اہل خانہ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے، اس سے فورسز کا حوصلہ بھی بڑھتا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ انہوں نے پہلی میٹنگ میں پولیس کے مسائل سنے تو بتایا گیا کہ پولیس کو 40 ارب روپے درکار تھے، لیکن صرف ایک ارب روپے دیے گئے۔ ایسے حالات میں پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے لڑ سکتی ہے، جبکہ دہشت گرد جدید اسلحے اور سازوسامان سے لیس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے بغیر خیبرپختونخوا حکومت بنی اور چلے گی بھی، گورنر فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو تقریباً 800 ارب روپے ملے، لیکن سیکیورٹی اور پولیس پر مطلوبہ رقم خرچ کرنے کے بجائے دیگر مدات میں استعمال کی گئی۔ آج بھی ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پولیس کی مناسب نفری موجود نہیں، گزشتہ تقریباً 9 برسوں میں نئے پولیس تھانے بھی قائم نہیں کیے جاسکے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کی جگہ ان کے بیٹوں کو تربیت دے کر پولیس میں بھرتی کرنے یا اہلکاروں کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا، لیکن 9 برس گزرنے کے باوجود اس نظام پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اب دسواں سال شروع ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن میں دہشت گردی کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، جبکہ کرم میں بھی مسائل موجود ہیں۔ ان علاقوں میں شام کے بعد نقل و حرکت محفوظ نہیں رہی۔ سابق وزیراعلیٰ محمود خان گنڈاپور اور مولانا فضل الرحمان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ شام کے بعد اپنے علاقوں میں نہیں گھوم سکتے۔
گورنر نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف آپریشن بھی نہ کیے جائیں اور دہشت گردوں کو علاقوں سے بھی پاک کرنا ہے تو کیا لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے تبلیغ کرکے یہ سب ممکن ہوسکتا ہے؟ ایسا ممکن نہیں، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اگر ہنگامی حالات میں ایمرجنسی لگانا پڑتی ہے تو اس کے پس منظر میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو بھی دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بات کی تھی، جس کے بعد دوبارہ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ایک جماعت کے چیئرمین کی موجودگی میں تمام معاملات طے ہونے اور معاہدے پر دستخط کے باوجود اسی جماعت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیاسی مشاورت اور مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب تمام فریق اپنے فیصلوں اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس روز پوری رات مذاکرات اور بات چیت کی کوششیں جاری رہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ سیاسی مذاکرات اور معاہدے کے باوجود بعض عناصر نے پاکستان کے آئین اور قانون کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری تمام سیاسی قوتوں اور فریقین کی ذمہ داری ہے۔











