پاکستان اور روس کا مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور روس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے، مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کے حل تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے حوالے سے ویبینار منعقد ہوا، جس کا مقصد دونوں حکومتوں کے درمیان قائم اعتماد کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مابین تجارتی معاہدوں اور عملی شراکت داری میں تبدیل کرنا تھا۔

پاکستان روس ویبینار سیریز کے تیسرے اجلاس کا انعقاد وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) نے ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز کے تعاون سے کیا۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسلام آباد میں منعقدہ ویبینار میں روسی مقررین نے ماسکو سے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس کا مرکزی موضوع ٹیکنالوجی میں شراکت داری، منڈیوں تک رسائی اور مشترکہ حل کی تیاری تھا۔

ویبینار میں دونوں ممالک کی نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور صنعتی تنظیموں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں اور کاروباری ضروریات کی بنیاد پر تعاون کے عملی مواقع تلاش کر سکیں۔

اجلاس میں 6 اہم شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور اہم انفراسٹرکچر کا تحفظ، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، آئی ٹی خدمات کی تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری اداروں کے درمیان تعاون، ڈیجیٹل مہارتوں اور افرادی قوت کا تبادلہ اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل تھے۔

ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، احسن اقبال

ویبینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے اور اس شعبے میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے ’اڑان پاکستان‘ کے 5 بنیادی ستونوں میں ’ای پاکستان‘ بھی شامل ہے، جبکہ حکومت نے 2035 تک ملکی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ پاکستان اور روس کو روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری، مشترکہ کاروباری منصوبوں اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 75 ہزار سے زیادہ آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں، جبکہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کے 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق، جدت اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے 7 نئے مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

احسن اقبال کے مطابق نادرا کا ڈیجیٹل شناختی نظام عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، جبکہ پاکستان کے فوری ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ کے ذریعے ایک ہی سہ ماہی میں 64 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز کی گئیں، جو ڈیجیٹل جدت اور مالیاتی ٹیکنالوجی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کی مضبوط سائنسی اور انجینیئرنگ بنیادوں کو پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت اور بین الاقوامی آئی ٹی خدمات فراہم کرنے کے تجربے کے ساتھ ملا کر مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں باہمی فائدے کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کو عملی معاشی نتائج میں تبدیل کرتے ہوئے تجارتی لحاظ سے قابل عمل شراکت داری، مشترکہ ٹیکنالوجی حل، منڈیوں تک رسائی اور آزمائشی منصوبوں پر کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا اندازہ تجارت، سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع میں اضافے سے لگایا جائے گا۔ ٹیکنالوجی پاکستان اور روس کے دیرینہ تعلقات میں ایک نئے اور اہم باب کا آغاز کر سکتی ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

ویبینار میں بتایا گیا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات ریکارڈ 4 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔

اس کارکردگی کے بعد پاکستان کا آئی ٹی شعبہ نئی منڈیوں، نئے کاروباری شراکت داروں اور زیادہ قدر کی حامل ٹیکنالوجی خدمات کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔

روس کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ بیلا چرکیسووا نے روس کی جانب سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان ڈیجیٹل شراکت داری کے حوالے سے پالیسی، سرمایہ کاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات زیادہ پختہ اور کثیرالجہتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجارت دونوں ممالک کی معاشی شراکت داری کا نیا ستون بن سکتی ہیں، جبکہ ماسکو میں پاکستانی سفارت خانہ روسی منڈی میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے پی ایس ای بی کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

کاروباری رابطوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے عملی حکمت عملی

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل جیڈی نے پاکستان کی آئی ٹی صلاحیتوں اور تجارتی تعاون کے مجوزہ طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری رابطوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے پہلے مواقع کی نشاندہی، پھر موزوں کمپنیوں کے درمیان رابطہ، آزمائشی منصوبے پر اتفاق اور دونوں جانب ذمہ دار افراد کی نامزدگی ضروری ہے۔

فیصل جیڈی کے مطابق کاروباری شراکت داریاں عموماً ارادے کی کمی کے باعث ناکام نہیں ہوتیں بلکہ ان میں پیش رفت نہ ہونے کی بنیادی وجہ مؤثر فالو اپ کا فقدان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ای بی اس خلا کو دور کرنا چاہتا ہے۔ ویبینار میں شریک ہر کمپنی کے لیے ایک واضح کاروباری موقع، متعلقہ شراکت دار اور اگلا عملی قدم متعین کیا جائے گا، جبکہ پی ایس ای بی ان رابطوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنے تک تعاون جاری رکھے گا۔

ویبینار کے صنعتی سیشنز میں دونوں ممالک کی کمپنیوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کی عملی تجاویز پیش کیں۔

مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، سیکریٹری آئی ٹی

ویبینار کے اختتام پر سیکریٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان نے کہا کہ اجلاس کے نتیجے میں محض خیرسگالی کے اظہار کے بجائے سائبر سیکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں تعاون کے ٹھوس مواقع سامنے آئے ہیں، جن پر دونوں ممالک کی کمپنیاں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کی ذمہ داری اب ان منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہے، جن میں منڈیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی، ضابطہ جاتی سہولت کاری اور دونوں ممالک کی منڈیوں میں کمپنیوں کی رسائی اور شناخت بہتر بنانا شامل ہے۔

ضرار ہاشم خان نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ ابتدائی آزمائشی منصوبے بغیر کسی تاخیر کے شروع کیے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی، پی ایس ای بی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے گی، کیونکہ ایک مرتبہ تعاون کی رفتار متاثر ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال کرنا مشکل ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جے یو آئی کو بڑا دھچکا، وفاقی آئینی عدالت نے اہم درخواستیں خارج کردیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

لاہور شاہی قلعہ: میں اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی ٹرائل اوپننگ

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، بورڈ آف گورنرز کی سربراہی ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو دینے پر غور

بحریہ ٹاؤن پشاور کیس میں اہم پیشرفت، 6 ارب 40 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد کرنے کی توثیق

ویڈیو

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟