کیا اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے سوالات کے بہتر جواب ملتے ہیں؟

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

8 ملین چیٹس کے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ بوٹس کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے مسئلہ حل ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کو گالیاں دینا اور ان کی توہین کرنا عام ہوتا جارہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسا کرنے سے بہتر جواب ملنے کے بجائے مسئلہ حل ہونے کے امکانات مزید کم ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جال بچھانے والے خود پھنس گئے! اے آئی نے اسکیمرز کے 17 سال کیسے ضائع کر دیے؟

مصنوعی ذہانت کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے والے ادارے ‘سرچ ایبل’ کی نئی تحقیق کے مطابق امریکا میں ہر 3 میں سے ایک چیٹ بوٹ صارف (33 فیصد) نے مصنوعی ذہانت سے بات چیت کے دوران گالی گلوچ یا توہین آمیز زبان استعمال کی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ گالیوں یا توہین پر مشتمل شکایات کے بعد چیٹ بوٹ صرف 24 فیصد معاملات میں اپنی غلطی درست کرسکا، جبکہ شائستہ اور سادہ زبان میں اصلاح کی نشاندہی کرنے والے صارفین کے معاملے میں یہ شرح 35 فیصد رہی۔

یہ تجزیہ ستمبر 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران امریکی صارفین کے 80 لاکھ سے زائد گمنام پیغامات پر مشتمل تھا، جس میں گالیوں، توہین اور جارحانہ زبان کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔

چیٹ بوٹس کو گالیاں دینے سے مسئلہ کیوں حل نہیں ہوتا؟

تحقیق کے مطابق گالی گلوچ یا توہین آمیز زبان پر مشتمل شکایات میں سے 35 فیصد معاملات میں گفتگو ختم ہونے تک بھی مسائل حل نہیں ہوئے، جبکہ عام اور شائستہ انداز میں اصلاح کی نشاندہی کرنے والے صارفین کے معاملے میں یہ شرح 24 فیصد تھی۔

تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ گالی گلوچ پر مشتمل 73 فیصد شکایات سے پہلے صارف چیٹ بوٹ سے ناراضی یا بدتمیزی کا اظہار کرچکا تھا، جبکہ سادہ زبان میں کی گئی شکایات میں یہ تناسب 43 فیصد تھا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گالی گلوچ اکثر ایسی بات چیت کا نتیجہ ہوتی ہے جو پہلے ہی غلط سمت اختیار کرچکی ہوتی ہے۔

صارفین کو چیٹ بوٹس پر غصہ کیوں آتا ہے؟

تحقیق کے مطابق صارفین کی ناراضی کی سب سے بڑی وجہ چیٹ بوٹ کا دی گئی ہدایت پر عمل نہ کرنا ہے، جس کا تناسب 19 فیصد رہا۔

اس کے بعد غلط جواب دینے کی شکایت 18 فیصد اور صارف کی درخواست کو غلط سمجھنے کی شکایت 15 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارے ‘سرچ ایبل’ کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی کرس ڈونلی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی صلاحیتوں میں مختصر عرصے کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ صارفین کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا یہ واقعی خاتون ہیں؟ ووگ میں اے آئی ماڈل کی موجودگی نے معیار حسن پر سوالات اٹھا دیے

ان کے مطابق صارفین تقریباً کسی بھی موضوع پر چیٹ بوٹس سے سوال کرسکتے ہیں، جو انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے اور سیکڑوں صفحات پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کے جوابات ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔

کرس ڈونلی نے مزید کہا کہ فوری جواب کو درست سمجھ لینا آسان ہے، لیکن ایسا ہر بار نہیں ہوتا۔ تحقیق میں سامنے آنے والی زیادہ تر مایوسی کی وجہ صارفین کی توقعات پوری نہ ہونا ہے۔

ان کے مطابق نصف سے کچھ زیادہ منفی پیغامات ایسے تھے جو اس وقت بھیجے گئے جب چیٹ بوٹ نے صارف کی ہدایت نظر انداز کی، غلط جواب دیا یا درخواست کو غلط سمجھا تھا۔

مرد اور خواتین میں گالیوں کے استعمال کا فرق

تحقیق کے مطابق مرد چیٹ بوٹس سے بات چیت کے دوران خواتین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ گالیاں اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

مردوں میں ہر 10 ہزار الفاظ کے دوران گالیوں اور توہین آمیز الفاظ کی شرح 22 رہی، جبکہ خواتین میں یہ شرح 16.5 ریکارڈ کی گئی۔

عمر کے لحاظ سے 35 سے 44 سال کے افراد، 18 سے 24 سال کے نوجوانوں کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا سے زیادہ گالیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس عمر کے افراد میں یہ شرح 21.7 جبکہ نوجوانوں میں 13.3 رہی۔

امریکی ریاستوں میں نیواڈا کو چیٹ بوٹس کے ساتھ سب سے زیادہ سخت زبان استعمال کرنے والی ریاست قرار دیا گیا، جہاں ہر 10 ہزار الفاظ میں گالیوں اور توہین آمیز الفاظ کی شرح 22.7 رہی۔ اس کے برعکس نیوجرسی میں یہ شرح 11.4 ریکارڈ کی گئی۔

شہروں میں لاس ویگاس سب سے زیادہ سخت زبان استعمال کرنے والا شہر رہا، جہاں یہ شرح 22 تھی، جبکہ نیویارک میں 12.3 کے ساتھ سب سے کم رہی۔

مصنوعی ذہانت سے شائستگی سے بات کرنے پر دیگر تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

مصنوعی ذہانت اور انسانی رویوں پر تحقیق کرنے والی ہننا فرائی اس سے قبل چیٹ بوٹس کا موازنہ ایک ایسے اداکار سے کرچکی ہیں جو کسی بھی کردار میں ڈھل سکتا ہے۔

ان کے مطابق اگر صارف چیٹ بوٹ سے کسی مخصوص انداز میں بات کرتا ہے تو وہ بھی اسی انداز میں جواب دے سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ شائستگی سے بات کی جائے۔

تاہم اس حوالے سے سائنسی تحقیقات کے نتائج مختلف رہے ہیں، لیکن بعض مطالعات میں شائستہ انداز اختیار کرنے کے حق میں شواہد سامنے آئے ہیں۔

2024 میں واسیدا یونیورسٹی اور رائیکن کے ایک تحقیقی مطالعے میں انتہائی بدتمیز انداز میں دیے گئے سوالات کے نتیجے میں جی پی ٹی 3.5 کی معیاری معلوماتی آزمائش میں کارکردگی کا اسکور 60 سے کم ہوکر 51.9 رہ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’آؤٹ لائر‘ اے آئی پر ڈیٹا چوری کا الزام، یورپی تنظیم نے مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کردیا

اسی طرح 2026 میں پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے بھی دریافت کیا کہ جی پی ٹی 5 نینو پر سادہ انداز میں دیے گئے سوالات کے نتائج بہتر رہے۔ ان سوالات میں درست جوابات کی شرح 82 فیصد تھی، جبکہ دھمکی آمیز انداز میں دیے گئے سوالات پر یہ شرح 71 فیصد رہی۔

کرس ڈونلی کے مطابق ہننا فرائی کی اداکار سے متعلق مثال کو سمجھنا مفید ہے۔ چیٹ بوٹ اسی معلومات کی بنیاد پر کام کرتا ہے جو صارف اسے فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے واضح طور پر بتانا کہ اس نے کہاں غلطی کی، اصلاح کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ محض توہین کرنے سے اسے کوئی تعمیری رہنمائی نہیں ملتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کرم: سرحد پر دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاکستانی فورسز کا افغان طالبان کی فائرنگ کا بھرپور جواب

انتخابی اصلاحات کمیٹی میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو 2، 2 نشستیں ملیں گی، طارق فضل چوہدری

مریم نواز کا پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز کو اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے 3 دن کا الٹی میٹم، روزانہ دوروں کا حکم

اسلام آباد: جاپان سیلف ڈیفینس فورسز ڈے کی 72 ویں سالگرہ کی پروقار تقریب کا انعقاد

امریکی وسط مدتی انتخابات ختم، 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس میں نئی صف بندی شروع

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟