آسٹریلیا کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے بوٹس نے دھوکا دہی کرنے والوں کے ساتھ 25 لاکھ گفتگوئیں کرکے ان کا مجموعی طور پر 17 سال کے برابر وقت ضائع کیا ہے۔
یہ بوٹس خود کو ممکنہ متاثرین ظاہر کرتے ہوئے مشکوک فون کالز، پیغامات اور ای میلز کا جواب دیتے ہیں اور اس دوران اسکیمرز کے طریقۂ واردات سے متعلق اہم معلومات جمع کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی
ٹیکنالوجی کمپنی Apate کے مطابق اس کے تیار کردہ اے آئی ایجنٹس کا بنیادی مقصد دھوکے بازوں کو طویل گفتگو میں مصروف رکھنا، ان کی سرگرمیوں کا سراغ لگانا اور حاصل شدہ معلومات متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یہ ایجنٹس اب تک مشتبہ اسکیمرز کے ساتھ 25 لاکھ گفتگوئیں کر چکے ہیں۔
Apate کے بانی اس ٹیکنالوجی کا خیال اس وقت آیا جب انہیں اہلِ خانہ کے ساتھ پکنک کے دوران ایک مشکوک فون کال موصول ہوئی۔ کال منقطع کرنے کے بجائے انہوں نے ممکنہ متاثرہ شخص بننے کا تاثر دیا اور کال کرنے والے کو 44 منٹ تک گفتگو میں مصروف رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ چشمے: کیمرا آنکھ کے اشارے سے ویڈیو بنا لیتا ہے، لاہور ہائیکورٹ سے اے آئی گلاسز پر پابندی کی استدعا
اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ اگر دھوکا باز اپنا وقت ایک ایسے شخص کے ساتھ گفتگو میں صرف کرے جو درحقیقت اس کا شکار نہیں بننے والا تو اس دوران وہ کسی دوسرے شخص کو نشانہ بنانے سے بھی محروم رہ سکتا ہے۔ اس خیال پر آسٹریلیا کی میکواری یونیورسٹی میں تحقیق ہوئی جس کے بعد 2024 میں Apate کی بنیاد رکھی گئی۔
کمپنی کے اے آئی ایجنٹس کو مختلف عمروں، لہجوں، شخصیات اور زبانوں کے مطابق گفتگو کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ فون کالز کا جواب دینے، پیغامات اور ای میلز پر ردعمل ظاہر کرنے، فشنگ لنکس کھولنے اور ان آن لائن گروپس میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں دھوکا باز اپنے جعلی منصوبوں کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ڈیپ فیک: ہالی ووڈ کے 5 ستارے جن کی ڈیجیٹل شناخت خبروں میں رہی
گفتگو کے دوران یہ بوٹس فون نمبرز، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، کرپٹو کرنسی والیٹس کے پتے اور جعلی ویب سائٹس سے متعلق معلومات جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ معلومات بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو فراہم کی جاتی ہیں تاکہ دھوکا دہی کے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد مل سکے۔
Apate کے مطابق، آسٹریلیا کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ٹی پی جی (TPG) اب تک تقریباً 5 لاکھ 90 ہزار مشکوک کالز اپنے اے آئی ایجنٹس کی جانب منتقل کر چکی ہے۔ کمپنی کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا سمیت دیگر اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟
Apate کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی نے بعض صارف اداروں کو ایسے فراڈ نیٹ ورکس کی شناخت میں مدد دی ہے جن کے ذریعے صارفین کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
کمپنی نے اگست میں ابتدائی سرمایہ کاری کے طور پر 81 لاکھ 50 ہزار ڈالر حاصل کیے جبکہ اب وہ اپنی ٹیکنالوجی کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے جدید بصری اے آئی ماڈل متعارف، یہ دیگر روبوٹس سے کیسے مختلف ہوں گے؟
کمپنی کے مطابق اے آئی ایجنٹس کی گفتگو اس قدر حقیقت سے قریب ہوتی ہے کہ بعض دھوکا بازوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی حقیقی انسان کے بجائے مصنوعی ذہانت سے بات کر رہے ہیں۔ بعض اوقات جب اسکیمرز طویل گفتگو کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے اور بوٹس کو گالیاں دینے لگتے ہیں۔
Apate کے نزدیک ایسے ردعمل اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ بوٹس دھوکا بازوں کو مؤثر انداز میں مصروف رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی سائبر فراڈ کے خلاف مصنوعی ذہانت کے ایک مختلف استعمال کو ظاہر کرتی ہے جس میں اے آئی کو ممکنہ متاثرین کو نشانہ بنانے کے بجائے دھوکا بازوں کا وقت ضائع کرنے، ان کے طریقۂ واردات کے شواہد جمع کرنے اور مالی جرائم کی روک تھام میں معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔











