امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے اختتام کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے 2028 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے، جہاں صدارتی نامزدگی کے لیے کئی ممکنہ امیدوار میدان میں اتر سکتے ہیں، تاہم تاحال کوئی امیدوار واضح طور پر مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں‘، امریکا کے پہلے مسلمان سینیٹر عبدل السید نے اردو بول کر شرکا کو حیران کردیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس کے ممکنہ صدارتی امیدواروں میں سابق نائب صدر کملا ہیرس، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم، کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر، سابق وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹجیج اور نیویارک کی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز شامل ہیں۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جانشین کے طور پر نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام نمایاں ہیں۔ ٹرمپ آئینی پابندی کے باعث تیسری صدارتی مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
ڈیموکریٹس میں نظریاتی اختلافات
وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی کے باوجود پارٹی کے اندر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر اختلافات موجود ہیں۔ پارٹی کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ کامیابی کے لیے سیاسی مرکز کی جانب بڑھنا ضروری ہے، جبکہ ترقی پسند رہنما مزید بائیں بازو کی پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
یہ اختلافات صحت عامہ، ٹیکسوں، پولیسنگ اور خارجہ پالیسی سمیت مختلف معاملات پر سامنے آسکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک سیاسی حکمت عملی ساز ڈگ سوسنک کے مطابق دونوں دھڑے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو اپنی سیاسی سوچ کی کامیابی قرار دیں گے، جس سے پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اندرونی بحث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر، مڈٹرم انتخابات کے بعد مارکیٹس میں ہلچل
مشی گن میں سینیٹ کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسلام السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو بڑے فرق سے شکست دی۔ اس کامیابی کے بعد وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بن گئے ہیں۔
سوسنک نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام دھڑوں کو انتخابی نتائج میں اپنی کامیابی کے شواہد مل سکتے ہیں اور کسی کو بھی پارٹی کے اندر موجود اختلافات دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
کم از کم 30 امیدوار میدان میں آنے کے خواہش مند
رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار گزشتہ کئی ماہ سے انتخابی مہم کے لیے چندہ جمع کرنے، ابتدائی صدارتی نامزدگی کے انتخابات والی ریاستوں کے دورے کرنے اور اپنی قومی سطح پر شناخت مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
ان ریاستوں میں نیواڈا، نیو ہیمپشائر اور جنوبی کیرولائنا شامل ہیں۔
ڈیموکریٹک سیاسی حکمت عملی ساز اسکاٹ فرسن کے مطابق کم از کم 30 ایسے رہنما موجود ہیں جو اپنے قریبی حلقوں سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکان پر مشورے کر رہے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کے 9 روز بعد ڈیموکریٹک رہنما پیٹ بٹجیج اور ترقی پسند رکن کانگریس رو کھنہ سمیت متعدد شخصیات ڈینور میں ایک اجتماع میں شرکت کریں گی، جس کا مقصد 2028 کے انتخابات سے قبل پارٹی کی مستقبل کی سمت پر بحث کرنا ہے۔
ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کے سائے سے نکلنے کے منتظر
ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار اب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر اثر محتاط سیاسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد انہیں اپنی سیاسی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔
انتخابی نتائج میں ووٹرز نے ٹرمپ کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ حکومتی بدعنوانی کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
ریپبلکن سیاسی حکمت عملی ساز میٹ ڈول کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے ٹرمپ سے سیاسی فاصلہ اختیار کرنا دیگر ممکنہ امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا، کیونکہ نائب صدر کی حیثیت سے انہیں صدر اور ان کی پالیسیوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 25کامیابیاں بتادیں
جے ڈی وینس نے بدھ کو تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچایا۔ یہ جنگ ٹرمپ نے فروری میں شروع کی تھی اور امریکی عوام میں اسے خاصی غیر مقبولیت حاصل ہے۔
تاہم وینس کا یہ بیان ٹرمپ سے واضح اختلاف نہیں تھا کیونکہ صدر بھی اس سے پہلے انتخابی شکست میں ایران جنگ کے کردار کو تسلیم کرچکے تھے۔
وینس اور روبیو کے صدارتی عزائم غیر واضح
جے ڈی وینس نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکان کے حوالے سے کہا ہے کہ ممکن ہے وہ انتخاب نہ لڑیں، جس کی وجہ انہوں نے خاندانی معاملات بتائے ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں کہ فی الحال ان کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے بھی 2028 میں دوبارہ صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ وہ 2024 میں ٹرمپ کے مقابلے میں ریپبلکن صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
دیگر ممکنہ ریپبلکن امیدواروں میں آرکنساس کی گورنر سارہ ہکابی سینڈرز اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے آئندہ صدارتی امیدوار کے لیے سب سے بڑا چیلنج ٹرمپ کی ‘میک امریکا گریٹ اگین’ تحریک کے حامیوں کو ساتھ رکھنا اور ساتھ ہی وسیع تر ووٹر اتحاد دوبارہ قائم کرنا ہوگا، جس نے 2024 میں ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
وسط مدتی انتخابات کے بعد جاری کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق نوجوان ووٹرز، ہسپانوی نژاد امریکیوں اور بعض سیاہ فام مرد ووٹرز سمیت ٹرمپ کے سابقہ انتخابی اتحاد کے اہم حلقوں نے ریپبلکن پارٹی سے حمایت واپس لے لی۔











