امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے بعد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ممکنہ حکومتی پابندیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں رکاوٹوں کے خدشات نے ٹیکنالوجی اسٹاکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نیسڈیک 100 انڈیکس میں ایک ہی روز 6.4 فیصد کمی کے نتیجے میں بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت میں 2.5 کھرب ڈالر کی کمی ہوگئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 5.5 فیصد گر گیا، جو اپریل 2025 کے بعد اس کی ایک روزہ سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ انڈیکس 6 اکتوبر کی بلند ترین سطح سے تقریباً 12 فیصد نیچے آچکا ہے، جس کے باعث یہ اصلاحی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ کسی انڈیکس میں حالیہ بلند ترین سطح سے 10 فیصد یا اس سے زیادہ کمی کو اصلاحی مرحلہ کہا جاتا ہے۔
The Nasdaq closed in correction territory Thursday, wiping out roughly $2.5 trillion in market value, as investors grappled with the possibility that Democrats' midterm gains could put the brakes on the massive data center buildout underpinning the industry's growth and powering…
— CNN (@CNN) November 5, 2026
رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر سخت نگرانی ہوسکتی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی اور پانی کے نظام پر دباؤ کے باعث مقامی مخالفت بھی بڑھ رہی ہے۔
چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس 12 فیصد گر کر 6 ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آگیا۔ این ویڈیا کے حصص 9 فیصد جبکہ اے ایم ڈی کے حصص 17 فیصد نیچے آگئے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کمپنی کور ویو کے حصص میں 10 فیصد اور نیبیئس میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کے حصص بھی 14 فیصد سے زیادہ گر گئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کی ترقی کے امکانات کے بجائے اس پر آنے والی بھاری لاگت اور منافع کی واپسی کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں۔











