سابق اسکول ٹیچر چین کے نئے ارب پتی بن گئے، کمپنی کے حصص میں 787 فیصد اضافہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین میں ایک سابق اسکول ٹیچر مائیکل مائی اپنی کمپنی کے حصص کی غیر معمولی تیزی کے بعد ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ 62 سالہ مائیکل مائی کی کمپنی کراؤن نیو میٹریلز ٹیکنالوجی نے شینزن اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز کیا تو اس کے حصص کی قیمت ابتدائی پیشکش کے مقابلے میں 787 فیصد تک بڑھ گئی۔

مزید پڑھیں:ہانیہ عامر اور ثمن کامران فوربز کی ‘30 انڈر 30 ایشیا 2026’ فہرست میں شامل

مائیکل مائی نے 1984 میں تدریس کا شعبہ چھوڑ کر کاروباری دنیا میں قدم رکھا اور 2000 میں اپنی بہن مائی ہوئی شیا کے ساتھ کمپنی قائم کی۔ کمپنی گاڑیوں، الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز کی صنعتوں کے لیے چپکنے والے مادے، ٹیپ اور دیگر خصوصی مصنوعات تیار کرتی ہے۔ اس کی مصنوعات استعمال کرنے والے بڑے اداروں میں ٹیسلا، ایپل اور بی وائی ڈی بھی شامل ہیں۔

فوربز کے اندازوں کے مطابق حصص کی قیمت میں اضافے کے بعد مائیکل مائی کے اثاثوں کی مالیت قریباً اڑھائی ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جب کہ ان کی بہن کی دولت کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ کمپنی نے حصص کی ابتدائی فروخت سے قریباً 95 کروڑ 60 لاکھ یوآن، یعنی 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر حاصل کیے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستانی ٹیک آرٹسٹ عائشہ مبارک ایشیا کے لیے فوربز انڈر 30 کی لسٹ میں شامل

تاہم حصص کی قیمت میں تیزی برقرار نہ رہ سکی اور کاروبار کے اگلے روز اس کی قیمت کم ہوکر قریباً 77 یوآن رہ گئی۔ کمپنی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور عقلمندی سے سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ واضح رہے کہ ارب پتی بننے کا یہ تخمینہ حصص کی مارکیٹ ویلیو پر مبنی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اتنی رقم نقد ان کے پاس موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp