یوکرین کے مقبوضہ ساحلی علاقے میں ہزاروں املاک ’بے مالک‘ قرار، روسی اداروں کا قبضہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس نے یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریزیا میں بحیرہ آزوف کے ساحل پر واقع 521 ہوٹلوں اور سیاحتی مراکز کو ’بے مالک‘ قرار دے کر قبضے میں لے لیا، جبکہ کم از کم 77 ہوٹل اور تفریحی مراکز روسی کاروباری اداروں کے کنٹرول میں جاچکے ہیں۔ ان میں 20 روسی سرکاری اداروں کے زیرِ انتظام ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق روسی حکام نے مقبوضہ زاپوریزیا میں 7 ہزار سے زائد رہائشی اور تجارتی املاک کو بھی ’بے مالک‘ قرار دیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے علاقے میں روسی کنٹرول مستحکم کرنے اور جنگی اخراجات کے لیے آمدن حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی ہوٹل مالک ڈینس کاتیوخا نے اپنے ہوٹل اور قریبی شہر میلیتوپول میں واقع اپارٹمنٹ پر روسی قبضے کے خلاف یوکرین کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے 11 ماہ کی کارروائی کے بعد روس کو 51 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، تاہم روس کی جانب سے یہ رقم ادا کیے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

کاتیوخا نے 2014 میں کرِیلووکا کے ساحلی علاقے میں چند بنگلوں سے ہوٹل کا آغاز کیا تھا، جو بعد ازاں 100 کمروں، ریستوران، بارز، سوئمنگ پول اور بچوں کے تفریحی حصے پر مشتمل سیاحتی مرکز بن گیا۔ 2021 میں اسے ’سال کا بہترین مہمان نواز ادارہ‘ قرار دیا گیا تھا۔

روسی افواج کے قبضے کے بعد ستمبر 2022 میں مسلح افراد نے ہوٹل کو ’بے مالک‘ قرار دیا اور مالک کو 3 روز میں ملکیت ثابت کرنے کا کہا۔ کاتیوخا کے مطابق روسی حکام نے ان کے یوکرینی پاسپورٹ اور جائیداد کے کاغذات تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

بعد ازاں روس کے زیرِ انتظام ادارے کو ہوٹل کا نیا مالک مقرر کردیا گیا۔ کاتیوخا نے اپنے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے ہوٹل کے فرنیچر، مشینری اور دیگر سامان کی رسیدوں سمیت 3 ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ تیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

انہوں نے یورپی یونین کے حمایت یافتہ یوکرین ڈیمیج رجسٹر میں بھی دعویٰ جمع کرایا ہے، جہاں روسی جنگ سے متاثرہ ایک لاکھ 95 ہزار سے زائد افراد معاوضے کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ تاہم متاثرین کو ادائیگی کے لیے تاحال کوئی مالیاتی طریقۂ کار طے نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp