یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریزیا میں روسی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 40 ہوگئی، جبکہ 30 سے زائد افراد کے تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بعض لاشوں کی تاحال شناخت اور گنتی نہیں ہوسکی، جبکہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین اور روس کی سرکاری موبائل ایپس پر سائبر حملے، شہریوں کو جعلی ہنگامی انتباہ موصول

حکام کے مطابق روس نے پیر کے روز فرنٹ لائن کے قریب واقع گاؤں کومیشوواخا میں ایک اسکول کی عمارت پر متعدد بم گرائے۔

اس عمارت کو مقامی آبادی کے لیے انسانی امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ حملے کے وقت متعدد افراد عمارت کے زیرِ زمین پناہ گاہ میں موجود تھے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی بمباری کے بعد زیرِ زمین پناہ گاہ کو بھی ایک اور حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوا۔

ہلاک ہونے والوں میں 4 پولیس اہلکار اور امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے کے 2 ارکان بھی شامل ہیں۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ دہشتگردانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس تنازع کو کم کرنے یا کشیدگی میں کمی لانے میں سنجیدہ نہیں۔

مزید پڑھیں: روس کے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والے ڈرونز نے یوکرینی فضائی دفاع کو مشکل میں ڈال دیا

ان کے بقول گزشتہ ہفتے فرنٹ لائن کے علاقے اولیشکی میں جنگ بندی اور انسانی امدادی مشن کے ذریعے جو موقع پیدا ہوا تھا، روسی حملے نے اسے بھی ضائع کردیا۔

یوکرینی پولیس نے ہلاک ہونے والے 4 اہلکاروں میں سے ایک کے باڈی کیمرے کی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں لوگوں کو زیرِ زمین پناہ گاہ میں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

فوٹیج کے دوران اہلکار کو ریڈیو پر ہدایت موصول ہوتی ہے کہ روسی گائیڈڈ فضائی بم حملے کے لیے آرہے ہیں، اس کے بعد پناہ گاہ میں موجود افراد دکھائی دیتے ہیں، تاہم کچھ ہی دیر بعد ویڈیو اچانک ختم ہوجاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اس بمباری سے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی ہوئی ہے۔

دوسری جانب مقامی حکام کے مطابق روسی ڈرونز کی مسلسل پروازوں کے باعث امدادی کارروائیوں اور ملبے سے لاشیں نکالنے کے عمل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

علاقائی فوجی انتظامیہ کے قائم مقام سربراہ میخائیلو سیمیکن نے کہا ہے کہ خطرات کے باوجود تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: یوکرین کے حملے امریکی امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، روس کا انتباہ

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے آئندہ ہفتے مذاکرات متوقع ہیں۔

امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود 10 اور 11 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ملاقات کریں گے۔

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے بعد سیکیورٹی انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی ہمدردی کے اقدامات اور جنگ کے خاتمے سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 21 اکتوبر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم ماضی میں ہونے والی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

روس کی جانب سے یوکرین سے بعض علاقوں سے دستبرداری، فوجی صلاحیت محدود کرنے اور نیٹو میں شمولیت سے گریز جیسے مطالبات پر اصرار مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض بیانات اور اقدامات سے یوکرین اور یورپی ممالک میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ واشنگٹن روس کے مؤقف کی حمایت کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، روس حساس معاشی شعبوں کو نشانہ بنائے گا، پیوٹن کا یوکرین کو انتباہ

صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عالمی برادری کے ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین حملے پر دنیا کی جانب سے بہت کم ردعمل سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف کیے گئے ایسے حملوں اور مبینہ جنگی جرائم پر مؤثر ردعمل ضروری ہے، کیونکہ برائی کو جواب نہ دیا جائے تو وہ مزید آگے بڑھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

 ایلون مسک کو بڑا سیاسی دھچکا، 4 ہزار 700 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود ری پبلکن امیدوار ہار گئے

امریکا میں ترقی پسند سیاست کا نیا دور شروع ہوگیا، میئر نیویارک کا دعویٰ

شکست کی ساری ذمہ داری مجھ پر کیوں؟ پاکستان کے فٹ کھلاڑی بھی بھارت کے خلاف 120 رنز نہ کرسکے، اعظم خان

ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا