یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریزیا میں روسی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 40 ہوگئی، جبکہ 30 سے زائد افراد کے تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بعض لاشوں کی تاحال شناخت اور گنتی نہیں ہوسکی، جبکہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین اور روس کی سرکاری موبائل ایپس پر سائبر حملے، شہریوں کو جعلی ہنگامی انتباہ موصول
حکام کے مطابق روس نے پیر کے روز فرنٹ لائن کے قریب واقع گاؤں کومیشوواخا میں ایک اسکول کی عمارت پر متعدد بم گرائے۔
اس عمارت کو مقامی آبادی کے لیے انسانی امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ حملے کے وقت متعدد افراد عمارت کے زیرِ زمین پناہ گاہ میں موجود تھے۔
The death toll from a Russian bombing of an aid distribution point in Ukraine's southeastern Zaporizhzhia region has risen to 37, with dozens missing, officials said, in one of the deadliest strikes on civilians this year https://t.co/9r9IqQspEZ pic.twitter.com/2JlehMrZrq
— Reuters (@Reuters) November 4, 2026
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی بمباری کے بعد زیرِ زمین پناہ گاہ کو بھی ایک اور حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوا۔
ہلاک ہونے والوں میں 4 پولیس اہلکار اور امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے کے 2 ارکان بھی شامل ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ دہشتگردانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس تنازع کو کم کرنے یا کشیدگی میں کمی لانے میں سنجیدہ نہیں۔
مزید پڑھیں: روس کے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والے ڈرونز نے یوکرینی فضائی دفاع کو مشکل میں ڈال دیا
ان کے بقول گزشتہ ہفتے فرنٹ لائن کے علاقے اولیشکی میں جنگ بندی اور انسانی امدادی مشن کے ذریعے جو موقع پیدا ہوا تھا، روسی حملے نے اسے بھی ضائع کردیا۔
یوکرینی پولیس نے ہلاک ہونے والے 4 اہلکاروں میں سے ایک کے باڈی کیمرے کی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں لوگوں کو زیرِ زمین پناہ گاہ میں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
فوٹیج کے دوران اہلکار کو ریڈیو پر ہدایت موصول ہوتی ہے کہ روسی گائیڈڈ فضائی بم حملے کے لیے آرہے ہیں، اس کے بعد پناہ گاہ میں موجود افراد دکھائی دیتے ہیں، تاہم کچھ ہی دیر بعد ویڈیو اچانک ختم ہوجاتی ہے۔
HORRIFYING BODYCAM FOOTAGE SHOWS RUSSIAN NOVEMBER 2 FAB-3000 BOMB STRIKE ON UNDERGROUND CIVILIAN SHELTER IN UKRAINE — AT LEAST 40 KILLED
National Police have released harrowing footage captured by an officer’s body camera during a Russian strike on an underground civilian… pic.twitter.com/ghfjIi0A25
— Denys from Ukraine (@GlushkoDenys) November 4, 2026
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اس بمباری سے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی ہوئی ہے۔
دوسری جانب مقامی حکام کے مطابق روسی ڈرونز کی مسلسل پروازوں کے باعث امدادی کارروائیوں اور ملبے سے لاشیں نکالنے کے عمل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
علاقائی فوجی انتظامیہ کے قائم مقام سربراہ میخائیلو سیمیکن نے کہا ہے کہ خطرات کے باوجود تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: یوکرین کے حملے امریکی امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، روس کا انتباہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے آئندہ ہفتے مذاکرات متوقع ہیں۔
امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود 10 اور 11 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ملاقات کریں گے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے بعد سیکیورٹی انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی ہمدردی کے اقدامات اور جنگ کے خاتمے سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
Ukrainian emergency crews continue searching through the rubble of the civilian school shelter hit by a Russian three-ton bomb in Komyshuvakha on November 2.
The confirmed death toll has risen to 37, with another 59 people still listed as missing.
With the shelter taking a… pic.twitter.com/lwAeNkMSVR
— Special Kherson Cat 🐈🇺🇦 (@bayraktar_1love) November 4, 2026
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 21 اکتوبر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم ماضی میں ہونے والی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
روس کی جانب سے یوکرین سے بعض علاقوں سے دستبرداری، فوجی صلاحیت محدود کرنے اور نیٹو میں شمولیت سے گریز جیسے مطالبات پر اصرار مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض بیانات اور اقدامات سے یوکرین اور یورپی ممالک میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ واشنگٹن روس کے مؤقف کی حمایت کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، روس حساس معاشی شعبوں کو نشانہ بنائے گا، پیوٹن کا یوکرین کو انتباہ
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عالمی برادری کے ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین حملے پر دنیا کی جانب سے بہت کم ردعمل سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف کیے گئے ایسے حملوں اور مبینہ جنگی جرائم پر مؤثر ردعمل ضروری ہے، کیونکہ برائی کو جواب نہ دیا جائے تو وہ مزید آگے بڑھتی ہے۔











