کرتارپور راہداری پاکستان کا خوبصورت اور قابل تحسین اقدام ہے، ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری پاکستان کا ایک خوبصورت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر شاندار مثال قائم کی، رمیش سنگھ اروڑا

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایسے وقت میں کرتارپور راہداری کا منصوبہ شروع کیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت بھی نہیں ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس مذہبی مقامات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے پاکستان نے کرتارپور راہداری قائم کی۔ کرتارپور صاحب بھارتی سرحد سے صرف 5 کلومیٹر اندر پاکستان میں واقع ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ کرتارپور راہداری سے پہلے سکھ یاتری سرحد کے قریب دوربین کے ذریعے اپنے مقدس مقام کا دیدار کرتے تھے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں، جہاں سکھ یاتریوں کے لیے ٹرانسپورٹ، بس سروس اور رہنمائی سمیت تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

بھارت میں مذہبی مقامات کی مسماری پر تشویش

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں مذہبی بنیادوں پر مبینہ ظلم و ستم جاری ہے اور ہزاروں سال پرانی مساجد کو مسمار اور تباہ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مذہبی مقامات کی مسماری کے واقعات وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف مذہبی مقامات کی حفاظت کر رہا ہے بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سہولت فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان میں مذہبی ورثے کا تحفظ

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکسلا اور تخت بھائی سمیت بدھ مت کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت پاکستان نے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیے: سیلاب سے متاثرہ دربار صاحب کرتار پور کو صفائی کے بعد سکھ یاتریوں کے لیے کھول دیا گیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی مقامات کے تحفظ اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے دورہ پاکستان کا معاملہ

ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان آنا چاہیں تو حکومت پاکستان ویزا جاری کرنے پر غور کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ سنہ 1974 کے معاہدے کے تحت بھارتی حکومت کو یاتریوں کی فہرست پاکستانی سفارت خانے کو فراہم کرنا ہوتی ہے، اور بھارتی حکومت کی جانب سے فہرست فراہم کیے جانے کے بعد ہی مخصوص معاہدے کے تحت ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعلیٰ کو پاکستان کا ویزا دینے کا فیصلہ الگ معاملہ ہے جبکہ انہیں بھارت سے روانگی کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی اور آزادی اظہار کا احترام ہونا چاہیے، دنیا میں کسی بھی شخص کو اپنے مذہب پر عمل اور مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کی اجازت ہونی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان نے ان کی مئی 2025 کی جنگ رکوانے میں کردار پر نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی لندن سے حوالگی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ معاملہ جوں کا توں ہے۔

پاکستان ایران بارڈر سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ بارڈر کھلا ہے تاہم گزشتہ ہفتے کچھ واقعات کی وجہ سے رکاوٹ پیش آئی۔

مزید پڑھیں: ’دل کرتا ہے اپنا امریکی پاسپورٹ پھاڑ کر پاکستان میں ہی رہ جاؤں‘، سکھ یاتری کا پاکستانیوں سے محبت کا اعتراف

امریکا کی جانب سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افغان مہاجرین سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اس مسئلے کا صحیح حل نکلے اور ہم اس سلسلے میں فریقین سے رابطے رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp