صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے عبادت خانے محفوظ نہیں ہیں جبکہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگ اپنے تہوار مناتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مئی میں بھارت نے پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے نام پر پاکستان پر جارحیت کی کوشش کی۔ اس واقعے کو اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ دوسری طرف یہ فالس فلیگ آپریشن پاکستان کے لیے عزت کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے پہلگام واقعے پر بھارت کا بے بنیاد پروپیگنڈا ایک بار پھر مسترد کردیا
صوبائی وزیر نے کہا کہ بھارت میں مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ سامنے آ گیا ہے، اور بھارت سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر شاندار مثال قائم کی ہے۔ اقلیتوں کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری مبینہ مظالم کا نوٹس لے۔














