ناسا کا پراسرار نیا تجرباتی طیارہ، مصنوعی ذہانت سے بنی تصویر نے تجسس بڑھا دیا

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ’ایکس 70 فریکٹل‘ نامی ایک نئے تجرباتی طیارے کا اعلان کیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، تبدیل کیے جا سکنے والے نظام اور مختلف سائنسی آلات نصب کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا تاہم اس کے ڈیزائن اور تیاری کے بارے میں تاحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلیک ہول کا سراغ لگانے والی ناسا کی لیجنڈری ٹیلی اسکوپ زمین سے نہ بچ سکی، بے قابو حالت میں نیچے آکر بھسم

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک نئے اور پراسرار تجرباتی طیارے کا اعلان کرکے ہوا بازی کی دنیا میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔ ’ایکس 70 فریکٹل‘ نامی اس طیارے کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے جدید ترین ٹیکنالوجی آزمانے کے لیے تیار کیا جائے گا اور اس کی پہلی پرواز آئندہ 2 برس کے اندر متوقع ہے۔

تاہم اس نئے طیارے کی خاص بات صرف اس کی جدید صلاحیتیں نہیں بلکہ اس کے بارے میں معلومات کی کمی بھی ہے۔ ناسا نے اس کے اعلان کے ساتھ جو تصویر جاری کی ہے وہ بھی بظاہر اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔ تصویر میں دھویں کے درمیان ایک سیاہ طیارے کا دھندلا سا خاکہ دکھائی دیتا ہے جو کسی جدید فوجی لڑاکا طیارے سے مشابہ ہے۔ اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ تصویر میں دکھائی دینے والا ڈیزائن اصل طیارے کی شکل و صورت کی نمائندگی کرتا ہے یا محض ایک تصوراتی خاکہ ہے۔

ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے 4 نومبر کو فلوریڈا میں ادارے کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں منعقدہ یو پی سمٹ کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکس 70 فریکٹل ناسا کو ایک ایسا جدید اور تیز رفتار انسانی پائلٹ والا طیارہ فراہم کرے گا جس کے ذریعے دورانِ پرواز جدید کنٹرول سسٹمز، طیارے کی سمت اور حرکت پر قابو پانے کی صلاحیتوں اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کی جانچ کی جاسکے گی۔

مزید پڑھیے: ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

ان کے مطابق اس طیارے کا ڈیزائن ایسا ہوگا کہ اس میں مختلف تجربات کے لیے درکار آلات اور سامان کو نسبتاً کم وقت میں تبدیل کیا جاسکے گا جس سے سائنس دان ایک تجربہ مکمل ہونے کے بعد فوری طور پر دوسرے تجربے کی تیاری کرسکیں گے۔

طیارے کی رفتار اور پرواز کی صلاحیت کیا ہوگی؟

ناسا کی جاری کردہ معلومات کے مطابق ایکس 70 فریکٹل کو انسانی پائلٹ کے ساتھ پرواز کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ یہ زیادہ سے زیادہ 45 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرسکے گا جبکہ اس کی معمول کی پرواز کی رفتار آواز کی رفتار کے تقریباً 75 فیصد کے برابر ہوگی۔

اس کی پرواز کی حد 1726 میل (تقریباً 2778 کلومیٹر) سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

طیارے کا مجموعی وزن تقریباً 4536 کلوگرام ہوگا جبکہ اس کے اندر اور باہر مجموعی طور پر 907 کلوگرام تک تجرباتی آلات اور دیگر سامان نصب کیا جاسکے گا۔

اس کی ایک اہم خصوصیت اس کا تبدیل کیے جانے کے قابل ڈیزائن ہوگا۔ یعنی سائنس دان ضرورت کے مطابق اس میں مختلف آلات نصب یا تبدیل کرسکیں گے جس سے ایک ہی طیارے کو مختلف نوعیت کے تجربات کے لیے استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

مزید پڑھیں: 22 سال تک کائنات کے راز کھولنے والی ناسا کی خلائی دوربین کا سفر اختتام پذیر، جل کر راکھ ہونے کا امکان

تاہم ناسا نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس طیارے کی تیاری میں کون سی کمپنی اس کی معاونت کررہی ہے اور اس کی تیاری کے مختلف مراحل کب مکمل ہوں گے۔

کیا امریکا اپنا مشہور ’بلیک برڈ‘ طیارہ بھی واپس لانے کی تیاری کررہا ہے؟

ایکس 70 کے اعلان کے ساتھ ہی امریکا کے ایک اور مشہور تجرباتی طیارے ایس آر 71 بلیک برڈ کی واپسی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔

ایوی ایشن ویک کی رپورٹ کے مطابق یو پی سمٹ میں 6 نومبر کو ایک اور نئے تجرباتی طیارے کے اعلان کی بھی توقع کی جارہی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسی تقریب میں متوقع اعلان کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں لاس اینجلس میں منعقدہ آل اِن سمٹ کے دوران جیرڈ آئزک مین ایک اور دھویں میں چھپے طیارے کے خاکے کے سامنے نظر آئے تھے جس کے ساتھ ’اپنے تجرباتی طیاروں کے بیڑے کی دوبارہ تعمیر‘ کا پیغام درج تھا۔

اس تصویر میں دکھائی دینے والا طیارہ امریکا کے مشہور ایس آر 71 بلیک برڈ سے خاصی مشابہت رکھتا تھا۔ یہ طیارہ سرد جنگ کے زمانے میں انتہائی تیز رفتار سے دشمن ممالک کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور فضا میں آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

بلیک برڈ کی ممکنہ واپسی سے متعلق افواہیں اس وقت مزید زور پکڑ گئیں جب ناسا کے سابق ملازمین نے ایوی ایشن ویک کو بتایا کہ انہیں ایس آر 71 کو دوبارہ عملی پرواز کے قابل بنانے کے لیے کام کرنے کی پیشکشیں موصول ہوئی تھیں۔

رواں سال ستمبر میں اسی اشاعت نے یہ خبر بھی دی تھی کہ ناسا کی ملکیت میں موجود ایس آر 71 طیارہ جس کا نمبر 844 تھا کیلیفورنیا میں ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے اندر ناسا کے آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ناسا کی ڈارک میٹر ویب سیمولیشن نے کائنات کا پوشیدہ جال بے نقاب کر دیا

تاہم یہ واضح نہیں کہ اس طیارے کو دوبارہ پرواز کے قابل بنانے کا کوئی باقاعدہ منصوبہ موجود ہے یا نہیں۔

ناسا کا ایک اور تجرباتی طیارہ آواز کی رفتار سے بھی تیز پرواز کا حامل

ایکس 70 کے اعلان کے ساتھ ہی ناسا کا ایک اور تجرباتی طیارہ ایکس 59 بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جسے آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پرواز کے دوران پیدا ہونے والی زور دار دھماکے جیسی آواز کو کم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کے تعاون سے تیار کیے جانے والے اس طیارے کا اگلا حصہ انتہائی لمبا اور نوکیلا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مستقبل میں ایسے مسافر طیارے تیار کیے جاسکتے ہیں جو زمین پر آبادیوں کے اوپر آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پرواز کریں لیکن ان کی وجہ سے زمین پر موجود لوگوں اور عمارتوں کو شدید صوتی دھماکوں جیسی آوازوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عام طور پر جب کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پرواز کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دباؤ کی لہریں زمین پر پہنچ کر زور دار دھماکے جیسی آواز پیدا کرسکتی ہیں جسے سونک بوم کہا جاتا ہے۔ ایکس 59 کا مقصد اس آواز کو کم کرکے نسبتاً ہلکی گونج تک محدود کرنا ہے۔

ناسا کے مطابق 28 اکتوبر 2025 کو پہلی پرواز کے بعد سے ایکس 59 اب تک 40 سے زیادہ آزمائشی پروازیں مکمل کرچکا ہے۔ ان میں معمول کی رفتار کے علاوہ آواز سے زیادہ تیز رفتار پروازیں بھی شامل ہیں جن میں اس نے آواز کی رفتار سے 1.53 گنا زیادہ رفتار حاصل کی۔

اس کی آزمائشی پروازیں کیلیفورنیا میں ناسا کے آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر اور ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے علاقے میں کی گئی ہیں۔

یہ طیارہ حال ہی میں کیلیفورنیا سے فلوریڈا تک اپنا پہلا طویل سفری سفر بھی مکمل کرچکا ہے۔ اس دوران اس نے ٹیکساس اور الاباما میں مختصر قیام کیا۔ سفر کے دوران ناسا کے تحقیقاتی بیڑے کے دو لڑاکا طیارے، ایف 15 اور ایف اے 18، بھی اس کے ساتھ پرواز کرتے رہے۔

فلوریڈا پہنچنے کے بعد اسے 7 اور 8 نومبر کو کینیڈی اسپیس سینٹر میں منعقد ہونے والے ناسا میکس پاور ایئر شو میں نمائش کے لیے پیش کیا جانا ہے۔

ناسا کے ترجمان کے مطابق ایکس 59 کیلیفورنیا کے آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر واپس پہنچنے کے بعد اپنی آزمائشی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گا۔

مزید پڑھیں: جاپان اور ناسا کے مشترکہ خلائی مشن کی 19 اکتوبر کو روانگی، مریخ سے نایاب نمونے لانے کا عزم

ایکس 70 فریکٹل کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناسا تجرباتی طیاروں کے اپنے پروگرام کو دوبارہ وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر نئے منصوبے طے شدہ وقت پر آگے بڑھتے ہیں تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ایکس 59 کے ساتھ مزید جدید تجرباتی طیارے بھی امریکی فضاؤں میں نظر آئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp