ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور خلائی دوربین ’نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری‘ کا تقریباً 22 سالہ مشن اختتام پذیر ہوگیا۔

بدھ کی صبح یہ خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوگیا، جہاں شدید درجہ حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر تباہ ہونے کا امکان ہے۔

تاہم بعض ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی ڈارک میٹر ویب سیمولیشن نے کائنات کا پوشیدہ جال بے نقاب کر دیا

امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوربین کا کوئی ملبہ زمین پر گرا یا نہیں۔

ناسا نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ اس خلائی جہاز کے زمین پر گرنے سے کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کا امکان تقریباً 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے۔

سوئفٹ آبزرویٹری کو 20 نومبر 2004 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا۔

اس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں گاما رے برسٹس کہا جاتا ہے، کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنا تھا۔

یہ دوربین اپنی تیز رفتار حرکت اور فوری طور پر سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے باعث بلیک ہولز سے خارج ہونے والی توانائی، کائناتی دھماکوں اور دیگر غیر معمولی فلکیاتی واقعات کا مشاہدہ کرتی رہی۔

مزید پڑھیں: مریخ پر ناسا کی گاڑی نے  45.2 کلومیٹر فاصلہ طے کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا

سائنس دانوں نے اسے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کیا۔

ناسا کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سورج کی سرگرمیوں میں اضافے نے دوربین کے مدار سے نیچے آنے کا عمل تیز کردیا۔

2024 میں سورج اپنے 11 سالہ شمسی چکر کی بلند ترین سرگرمی کے مرحلے میں پہنچا، جس کے دوران شمسی شعلوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث زمین کی فضا پھیل گئی۔

مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کا اسکاٹ لینڈ سے کیا واسطہ؟ ناسا نے اہل زمین کو حیران کردیا

اس سے دوربین پر فضائی مزاحمت بڑھ گئی اور وہ بتدریج زمین کے قریب آتی چلی گئی۔

ناسا نے دوربین کو بچانے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک خصوصی ریسکیو مشن بھی روانہ کیا تھا، اس مقصد کے لیے تیار کردہ ’لنک‘ نامی خلائی جہاز کو سوئفٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اسے دوبارہ مستحکم مدار میں پہنچانا تھا، تاہم یہ کوشش ناکام ہوگئی۔

لنک خلائی جہاز سوئفٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی خلا میں بے قابو ہوکر گھومنے لگا۔

مزید پڑھیں: کائنات کے ارتقا کے راز جاننے کے لیے ناسا کی نئی دوربین 2033 میں خلا میں بھیجنے کا ہدف

بعدازاں سوئفٹ کا مدار زمین سے صرف 171 میل کی بلندی تک محدود ہوگیا اور اس نے سائنسی ڈیٹا جمع کرنا بند کردیا، پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے مشن آپریشنز سینٹر نے 20 اکتوبر کو اسے بند کرنے کا آخری حکم جاری کیا۔

دوسری جانب ناسا نے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔

ادارے کے اندازے کے مطابق ہبل کے 2032 تک مدار سے باہر ہونے کا امکان 10 فیصد جبکہ 2033 تک یہ امکان 50 فیصد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp