ہوائی جہاز کے انجن میں نصب ٹربائن کے ننھے بلیڈز 1500 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت اور شدید دباؤ برداشت کرتے ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہیں دھات سے تراشا نہیں جاتا بلکہ ایک خاص عمل کے ذریعے ’اُگایا‘ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 97 سالہ خاتون نے ہوائی جہاز کے پروں پر کھڑے ہو کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا
جب بھی کوئی مسافر ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہے تو اس کے انجن کے اندر انجینیئرنگ کا ایک غیرمعمولی معجزہ مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے۔ جہاز کے انجن کے بیرونی حصے کے اندر چھپے سیکڑوں چھوٹے چھوٹے ٹربائن بلیڈز نہ صرف انتہائی شدید میکانی دباؤ برداشت کرتے ہیں بلکہ انہیں 1500 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت میں کام کرنا پڑتا ہے۔
ان بلیڈز کی تیاری کا طریقہ بھی اتنا ہی حیران کن ہے جتنی ان کی کارکردگی۔ عام طور پر دھات کے پرزے کسی ٹھوس دھات کو کاٹ کر یا تراش کر بنائے جاتے ہیں، لیکن ان ٹربائن بلیڈز کو ایک خاص صنعتی عمل کے ذریعے دھات کے پگھلے ہوئے آمیزے سے تیار کیا جاتا ہے، جسے انجینیئرنگ کی زبان میں سنگل کرسٹل کاسٹنگ کہا جاتا ہے۔
اس طریقے میں پگھلے ہوئے دھاتی مرکب کو ٹربائن بلیڈ کی شکل کے سانچے میں ڈالا جاتا ہے اور پھر کئی گھنٹوں کے دوران انتہائی احتیاط سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دھات کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے کرسٹل یا دانوں کے بجائے ایک ہی بڑا کرسٹل تشکیل پاتا ہے۔
اس عمل کو سمجھنے کے لیے یوں تصور کیا جاسکتا ہے کہ پانی کو برف میں تبدیل کرتے ہوئے بہت سے چھوٹے برفانی ذرات بنانے کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق ایک بڑا اور مکمل برفانی کرسٹل تیار کیا جائے۔
برطانوی کمپنی رولز رائس کے مینوفیکچرنگ انجینیئر بین فائی فوٹ کے مطابق یہ جدید صنعت میں مینوفیکچرنگ کے پیچیدہ ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنا ان کے لیے ہر روز کام پر آنے کا ایک بڑا محرک ہے۔
مزید پڑھیے: ہوائی جہاز پر مفت سفر کرنے والا پکڑا گیا، وہ یہ ’کمال‘ دکھاتا کیسے تھا؟
دنیا میں بہت کم کمپنیاں ایسی ہیں جو اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سنگل کرسٹل ٹربائن بلیڈ تیار کرسکتی ہیں۔ امریکا اور برطانیہ سمیت صرف 5 ممالک نے اس ٹیکنالوجی کی مکمل تیاری اور پیداوار کے مراحل پر مہارت حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی جہاز کے انجن بنانے والی کمپنیاں ان پرزوں کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور فراہمی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرتی رہتی ہیں۔
رولز رائس امریکی کمپنی جی ای ایرو اسپیس اور فرانس کی صفراں ان چند کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس پیچیدہ عمل میں مہارت حاصل کرلی ہے۔
ٹربائن بلیڈ اتنے اہم کیوں ہیں؟
جیٹ انجن کی کارکردگی میں ٹربائن بلیڈز بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انجن کے اندر پہلے ہوا کھینچی جاتی ہے اور اسے دباؤ کے ذریعے سکیڑا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس ہوا میں جیٹ فیول شامل کرکے اسے جلایا جاتا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی انتہائی گرم گیسیں ٹربائن کے بلیڈز کو گھماتی ہیں اور یہی عمل انجن کو مطلوبہ قوت فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے طیارہ آگے بڑھتا ہے۔
گزشتہ ستمبر میں جی ای ایرو اسپیس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ٹربائن بلیڈ فراہم کرنے والی کمپنی کو 11.75 ارب ڈالر میں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کو ان اہم پرزوں کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب رولز رائس نے رواں سال مارچ میں برطانیہ کے شہر روتھرہیم میں واقع اپنے بلیڈ کاسٹنگ پلانٹ میں 19 ملین پاؤنڈ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایک ہی کرسٹل تیار کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
اگرچہ سنگل کرسٹل کاسٹنگ ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے استعمال ہورہی ہے لیکن اس پر مہارت حاصل کرنا آج بھی انتہائی مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔
بین فائی فوٹ کے مطابق ایک ایسا بلیڈ تیار کرنا دراصل ’کائنات کے قوانین سے لڑنے‘ کے مترادف ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پگھلی ہوئی دھات قدرتی طور پر ٹھنڈی ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرتی ہے تو اس میں دھات کے بے شمار چھوٹے چھوٹے کرسٹل یا دانے بن جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بے ترتیب انداز میں جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ٹربائن بلیڈ کی تیاری میں اس کے برعکس صرف ایک ہی کرسٹل حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ بلیڈ انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ میں بھی اپنی مضبوطی برقرار رکھ سکے۔
مزید پڑھیں: جہاز چرا کر اڑانے اور خودکشی کرنے والے ایئرپورٹ ملازم کی آخری پرواز پر نئی دستاویزی فلم ریلیز
اس مقصد کے لیے انجینیئرز ایک غیرمعمولی طریقہ استعمال کرتے ہیں جسے ’پگ ٹیل‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بلیڈ کے ایک سرے پر بنائی جانے والی چھوٹی سی بل دار یا پیچ دار ساخت ہوتی ہے۔
بین فائی فوٹ کے مطابق دھات کو ٹھنڈا کرنے کے ابتدائی مرحلے میں یہ پیچ دار راستہ کرسٹل کی نشوونما کو محدود کردیتا ہے جس کے نتیجے میں صرف ایک کرسٹل آگے بڑھ کر پورے بلیڈ کی ساخت تشکیل دیتا ہے۔
وہ اس عمل کا موازنہ فارمولا ون کی ریس میں آنے والے ایک ایسے تنگ موڑ سے کرتے ہیں جہاں صرف ایک گاڑی آگے نکل کر باقی مقابلے میں سبقت حاصل کرسکتی ہے۔
ان کے مطابق کبھی کبھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اس پیچ دار ساخت کے چکروں کی تعداد اور زاویوں میں بھی تبدیلی کرنا پڑتی ہے تاکہ بہتر کرسٹل تشکیل پاسکے۔ بلیڈ مکمل ہونے کے بعد اس اضافی ساخت کو کاٹ کر الگ کردیا جاتا ہے۔
انتہائی درجہ حرارت سے تحفظ کیسے ملتا ہے؟
سنگل کرسٹل کی ساخت کے علاوہ ان بلیڈز کو انتہائی درجہ حرارت سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی سرامک تہہ بھی چڑھائی جاتی ہے۔
ان بلیڈز کے اندر انتہائی باریک راستے بھی بنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے نسبتاً ٹھنڈی ہوا گزرتی ہے۔ یہ ہوا بلیڈ کی سطح پر ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے، جو انجن کے اندر موجود انتہائی گرم گیسوں سے اسے براہ راست متاثر ہونے سے بچاتی ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے ماہر پال وِتھی، جو ماضی میں رولز رائس کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں، کہتے ہیں کہ اس وقت صنعت میں ان ٹھنڈی ہوا کے راستوں کو زیادہ پیچیدہ اور مؤثر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
ان کے مطابق ان راستوں میں ہوا کے بہاؤ کو جتنا زیادہ ہنگامہ خیز بنایا جائے گا اتنی ہی بہتر طریقے سے وہ اردگرد موجود گرم ہوا سے حرارت جذب کرکے بلیڈ کو ٹھنڈا رکھ سکے گی۔
اس کے علاوہ انجینیئرز ان بلیڈز کا وزن کم سے کم رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔
بین فائی فوٹ کے مطابق اگر بلیڈ کا وزن کم کیا جاسکے تو انجن کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرسکتا ہے اور اسے زیادہ رفتار اور درجہ حرارت پر بھی چلانا ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اڑان بھرنے کے کئی سال بعد لینڈ کرنے والے ہوائی جہاز، اصل ماجرا
رولز رائس کے تیار کردہ یہ بلیڈ کئی جدید طیاروں کے انجنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جن میں ایئربس اے 350-900 کو طاقت فراہم کرنے والا ٹرینٹ ایکس ڈبلیو بی 84 اور بوئنگ 787 میں نصب ٹرینٹ 1000 ایکس ای انجن شامل ہیں۔
تاہم اس پیچیدہ عمل میں معمولی سی خرابی بھی پورے بلیڈ کو ناقابلِ قبول بنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ٹھنڈا ہونے کے دوران ایک کے بجائے دو کرسٹل بن جائیں تو اس دھاتی مرکب کو دوبارہ پراسیس کرنا پڑتا ہے تاکہ اسے دوبارہ استعمال میں لایا جاسکے۔
چین بھی اس ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کا خواہش مند
اس شعبے میں مغربی ممالک کی برتری کو چیلنج کرنے کے لیے چین بھی بھرپور کوششیں کررہا ہے۔ اس کا ہدف دنیا کا چھٹا ملک بننا ہے جو سنگل کرسٹل ٹربائن بلیڈ کی تیاری کے پورے تکنیکی عمل پر مہارت حاصل کرلے۔
رواں سال مئی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں چین کے ای اے ای سی بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹیکل میٹریلز کے ایک انجینیئر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ چین نے ایسا سنگل کرسٹل دھاتی مرکب تیار کرلیا ہے جس کا معیار یورپ اور امریکا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے دوسری نسل کے سنگل کرسٹل سپر الائے کے برابر یا اس سے بہتر ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین میں اس کی تیاری کی لاگت بھی نسبتاً کم ہے۔
تاہم ہوا بازی کی صنعت کے مصنف اور مشیر بل سویٹ مین کے خیال میں اس شعبے میں مغربی ممالک کو چین پر اب بھی نمایاں برتری حاصل ہے۔
ان کے مطابق دنیا میں زیادہ تر تجارتی مسافر طیارے مغربی ممالک میں تیار ہوتے ہیں اس لیے اس صنعت کی سپلائی چین اور جدید ترین ٹیکنالوجی بھی زیادہ تر انہی ممالک میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ مغربی کمپنیوں کے پاس طیاروں کی تیاری اور ان کی حفاظت کے حوالے سے کئی دہائیوں کا تجربہ بھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چین کو صرف ٹربائن بلیڈز ہی نہیں بلکہ طیارہ سازی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی۔ اگرچہ چین اس سمت میں پیشرفت کررہا ہے لیکن یہ ایک طویل اور مشکل سفر ہے۔
طیاروں کی بڑھتی طلب سے مقابلہ مزید سخت ہوگا
دنیا بھر میں نئے طیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب پہلے ہی ہوا بازی کی صنعت کی مختلف سپلائی چینز پر دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ آنے والے برسوں میں یہ ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے پال وِتھی کے مطابق ممکن ہے کہ اگلے چند برسوں میں دنیا کے دو بڑے طیارہ ساز اداروں، ایئربس اور بوئنگ میں سے کوئی ایک مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے نیا طیارہ متعارف کرائے۔ ایسی صورت میں دوسرے ادارے کو بھی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے نیا طیارہ پیش کرنا پڑسکتا ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال میں طیاروں کے انجن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا اور ہر کمپنی کی کوشش ہوگی کہ اسے نئے طیاروں کے انجن فراہم کرنے کا موقع ملے۔
مزید پڑھیں: پشاور: ہوائی جہاز کی طرح چلنے والی ’باڑا بس‘، ڈرائیور بھی پائلٹ سے کم نہیں
اس مقابلے میں سنگل کرسٹل ٹربائن بلیڈز کی اہمیت بھی غیرمعمولی ہوگی، کیونکہ جدید طیاروں کے انجنوں کی کارکردگی، ایندھن کی بچت اور حفاظت کا انحصار بڑی حد تک انہی چھوٹے مگر انتہائی پیچیدہ پرزوں پر ہے۔











