دنیا بھر میں کھانے سے متعلق نفسیاتی بیماریوں کے شکار افراد کی تعداد آئندہ چند دہائیوں میں تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے اور 2050 تک تقریباً 2 کروڑ 18 لاکھ افراد ان بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
امریکی طبی جریدے ‘جاما سائیکاٹری’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 81 لاکھ افراد بھوک نہ لگنے اور حد سے زیادہ کھانے کے بعد قے یا دیگر طریقوں سے وزن کم کرنے کی کوشش کرنے جیسی دو بیماریوں کا شکار تھے۔ یہ تعداد 1990 کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن طوفان الاقصیٰ نے 9000 اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا
تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2050 تک ان دونوں بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 2 کروڑ 18 لاکھ ہوسکتی ہے۔ اس پیش گوئی سے صحت کے شعبے کو یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مستقبل میں کتنے افراد کو علاج اور طبی سہولتوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
بھوک نہ لگنے کی بیماری میں مبتلا افراد عموماً کھانا انتہائی محدود کردیتے ہیں اور وزن بڑھنے کے شدید خوف میں مبتلا رہتے ہیں، جبکہ دوسری بیماری میں بار بار بہت زیادہ کھانا کھانے کے بعد وزن بڑھنے سے بچنے کے لیے قے کرنے یا دیگر غیر صحت مند طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ دونوں بیماریاں جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔
تحقیق میں دنیا کے 204 ممالک اور خطوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس کے لیے عالمی سطح پر بیماریوں کے بوجھ سے متعلق مطالعے، سروے، شائع شدہ تحقیقی رپورٹس اور اموات کے ریکارڈ سمیت مختلف ذرائع سے معلومات جمع کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا نفسیاتی تھراپی عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟
اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں حد سے زیادہ کھانے کے بعد وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والی بیماری کے تقریباً ایک کروڑ 42 لاکھ مریض تھے، جبکہ بھوک نہ لگنے کی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 39 لاکھ تھی۔
دونوں بیماریوں کے باعث مجموعی طور پر صحت مند زندگی کے تقریباً 38 لاکھ سال ضائع ہوئے۔ اس پیمانے میں بیماری کے ساتھ گزارا گیا وقت اور قبل از وقت موت کے باعث ضائع ہونے والے سال بھی شامل ہیں۔
تحقیق میں دونوں بیماریوں کے متاثرین کی عمروں میں فرق بھی سامنے آیا۔ بھوک نہ لگنے کی بیماری 15 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں زیادہ عام پائی گئی، جبکہ حد سے زیادہ کھانے کے بعد وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والی بیماری کا پھیلاؤ 30 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ تھا۔
دونوں بیماریوں سے متاثرہ افراد میں تقریباً 70 فیصد خواتین تھیں۔ خطوں کے لحاظ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مغربی یورپ میں ان بیماریوں کی شرح سب سے زیادہ پائی گئی، جبکہ مشرقی اور جنوبی ایشیا میں 1990 کے بعد ان کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: طائف نے سیاحتی نفسیات کے جدید تصور کو عملی شکل کیسےدی؟
محققین کے مطابق مختلف خطوں میں بیماریوں کی شرح کا فرق صحت کی سہولتوں کی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہے، تاہم اس کا تعلق دستیاب معلومات سے بھی ہوسکتا ہے۔ بعض ممالک میں سروے اور خصوصی طبی سہولتوں کی کمی کے باعث بیماریوں کے ایسے مریضوں کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے جن کی علامات سامنے نہیں آتیں یا جنہیں تشخیص اور علاج کی سہولت نہیں ملتی۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ 2050 کے لیے پیش کردہ تعداد ایک اندازہ ہے، جس کا انحصار مستقبل میں آبادی اور بیماریوں کے موجودہ رجحانات سے متعلق مفروضوں پر ہے۔ اس میں صرف بھوک نہ لگنے اور حد سے زیادہ کھانے کے بعد وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والی دو بیماریوں کو شامل کیا گیا ہے، اس لیے یہ کھانے سے متعلق تمام نفسیاتی بیماریوں اور علاج کی مجموعی ضروریات کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔











