طائف نے سیاحتی نفسیات کے جدید تصور کو عملی شکل کیسےدی؟

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید دور میں کسی بھی سیاحتی مقام کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے قدرتی حسن پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ وہ سیاحوں کو کس حد تک ایک جامع، خوشگوار اور یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسی تصور کو سیاحتی نفسیات کہا جاتا ہے، جو سیاحوں کے سفر سے پہلے، دورانِ سفر اور سفر کے بعد ان کے رویوں، توقعات، محرکات اور تاثرات کا جائزہ لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ماحول دوست سیاحتی منصوبہ ’العُرومہ سیزن‘، 6 ماہ میں 8 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد

اس شعبے کا مقصد ایسے سیاحتی تجربات کی تشکیل ہے جو نہ صرف سیاحوں کی تسکین کا باعث بنیں بلکہ انہیں دوبارہ آنے کی ترغیب دیں اور متعلقہ مقام کا مثبت تشخص بھی اجاگر کریں۔

سعودی عرب کا شہر طائف اس تصور کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں قدرتی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کا منفرد امتزاج سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق الشفا اور الہدا کے بلند پہاڑی علاقے، سرسبز وادیاں، پارکس، ریزورٹس، دیہی رہائش گاہیں، گلاب کے باغات، روایتی بازار اور تاریخی دیہات سیاحوں کو سکون، ثقافتی آگاہی اور مقامی ماحول سے جڑنے کا منفرد موقع فراہم کرتے ہیں، جبکہ معتدل موسم اس تجربے کو مزید خوشگوار بنا دیتا ہے۔

ام القریٰ یونیورسٹی کے پروفیسر صبحی الحارثی کا کہنا ہے کہ سیاحتی نفسیات سیاحوں کی ضروریات، توقعات اور ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

ان کے مطابق آج کسی بھی سیاحتی مقام کی کامیابی صرف دلکش مناظر سے نہیں ناپی جاتی بلکہ معیاری خدمات، آسان رسائی، بہترین مہمان نوازی، مؤثر رہنمائی اور چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات پر توجہ بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

’یہی عوامل سیاحوں پر مثبت اثر چھوڑتے ہیں، انہیں دوبارہ آنے پر آمادہ کرتے ہیں اور وہ اپنے خوشگوار تجربات دوسروں سے بھی شیئر کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: سعودی عرب کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی جانب اہم قدم، تشہیر کے لیے خصوصی طیارہ متعارف

پروفیسر الحارثی نے کہا کہ طائف مملکت میں سیاحتی نفسیات کے عملی اطلاق کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہاں کے قدرتی مناظر، وادیاں اور سرسبز مقامات سیاحوں کو ذہنی سکون اور راحت فراہم کرتے ہیں۔

’جبکہ دیہی رہائش گاہیں، زرعی فارم، روایتی بازار اور ثقافتی تقریبات انہیں مقامی شناخت سے قریب لاتے ہوئے ان کے سیاحتی تجربے کو مزید بھرپور اور یادگار بناتے ہیں۔‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی آبادی کا سیاحوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور مثبت رویہ کسی بھی سیاحتی مقام کی کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔

’مہمان نوازی کے فروغ، عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے اور پیشہ ورانہ انداز میں خدمات فراہم کرنے سے نہ صرف سیاحوں کا تجربہ بہتر ہوتا ہے بلکہ طائف کی سیاحتی مسابقت بھی مضبوط ہوتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار