پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6 نکاتی اصلاحاتی فارمولے اور بجٹ کی منصفانہ فراہمی کا مطالبہ

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ مالی مشکلات اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کو اپنے امن مشنز کو کمزور کرنے کی اجازت نہ دے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وسائل میں کٹوتی سے عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی تنظیم کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو بڑھتے ہوئے مالی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ جنرل اسمبلی نے سال 27-2026 کے لیے امن مشنز کی مد میں 5.1 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دی ہے، جو گزشتہ سال کے تخصیص کردہ بجٹ سے تقریباً 10 فیصد کم ہے۔ گزشتہ سال پیدا ہونے والے مالی بحران کے باعث اقوامِ متحدہ کو پہلے ہی مشنز کے اخراجات کم کرنے اور امن مشنز میں تعینات اپنے ایک چوتھائی عسکری و پولیس اہلکاروں کو واپس بلانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کی اقوام متحدہ امن مشنز میں شرکت کو سراہتے ہیں، پولش سفیر

اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے ایسی اصلاحات پر زور دیا جو امن مشنز کے طے شدہ مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو قربان کیے بغیر ان کی کارکردگی میں بہتری لائیں۔

جمال کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی چوتھی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سفیر سید حیدر شاہ نے کہا ’ضرورت اس بات کی ہے کہ سلامتی کونسل حالات کے تقاضے کے مطابق اس اہم فورم کو استعمال کرنے کا سیاسی عزم دکھائے۔‘

پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ اور طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی عسکری اور پولیس اہلکار اقوامِ متحدہ کے مختلف مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں سے 183 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ‘اقوامِ متحدہ کا ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان’ (UNMOGIP) بھی قائم ہے۔

سفیر سید حیدر شاہ کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امن مشنز نہ صرف مالی مشکلات بلکہ پیچیدہ سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ علاقائی انتظامات اور عارضی بنیادوں پر چلائے جانے والے آپریشنز پر بڑھتا ہوا انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ میدانِ عمل میں اقوامِ متحدہ کی معتبر موجودگی کی اہمیت آج بھی پہلے کی طرح برقرار ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے امن مشنز کے جائزہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اصلاحات کے لیے مندرجہ ذیل 6 ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔

سیاسی حل کو پہلی ترجیح دینا، واضح اور بابلاطہ وسائل سے لیس مقاصد کا تعین، امن مشنز کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کا تحفظ، مستقبل کی عسکری و پولیس ضروریات کے لیے پیشگی تیاری، امن اہلکاروں کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور  امن مشنز کو اقوامِ متحدہ کی اجتماعی ذمہ داری کے طور پر برقرار رکھنا۔

پاکستان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امن مشنز کو سونپی گئی ذمہ داریوں اور انہیں فراہم کیے جانے والے وسائل کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پاکستان نے خبردار کیا کہ مالی حد بندیوں (بجٹ کی حدود) کو آپریشنل ضروریات طے کرنے کا معیار نہ بنایا جائے۔ سفیر سید حیدر شاہ نے موقف اپنایا کہ پہلے سیاسی اہداف سے یہ طے ہونا چاہیے کہ مشن سے کیا توقعات ہیں، اور پھر ان مقاصد کی روشنی میں درکار اہلکاروں، سامان اور مالی وسائل کا تعین کیا جانا چاہیے۔

امن مشنز تنازعات کو کم کرنے، شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ تمام افعال سیاسی عمل اور مناسب آپریشنل صلاحیتوں کے باہمی تعاون پر منحصر ہیں۔

پاکستان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے منفرد فوائد کو برقرار رکھیں، جن میں ان کی عالمی مقبولیت، قابلِ اعتماد مالی معاونت، بہترین کمانڈ اور لاجسٹکس سسٹم، اور رکن ممالک کی طرف سے ماہر اہلکار اور تکنیکی صلاحیتیں حاصل کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

سفیرِ پاکستان کا کہنا تھا ’کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کا مقصد امن مشنز کو زیادہ مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ان صلاحیتوں کو ختم کرنا جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو منفرد اور بااثر بناتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ کے امن مشنز عالمی امن کی امید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

امن اہلکاروں کا تحفظ اور ان کے خلاف جرائم پر احتساب کو یقینی بنانا پاکستانی مستقل مندوب کے خطاب کا ایک اہم جزو تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کو پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے 153 ممالک کی ریکارڈر اسپانسرشپ کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کا مقصد امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر سخت احتساب قائم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے پاکستان اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔

امن اہلکاروں کے خلاف جرائم کے احتساب پر سیکرٹری جنرل کی پہلی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے سفیر سید حیدر شاہ نے اس معاملے پر اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ایلیزابیتھ اسپیہار کو سینئر فوکل پرسن مقرر کرنے کے فیصلے کو سراہا۔

انہوں نے اس قرارداد پر مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جس میں تحقیقات اور مقدمات کو مضبوط بنانے، کیسز کی بہتر نگرانی، اور قومی عدالتوں کی صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے تاکہ امن اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

پاکستان نے امن مشنز سے متعلق خصوص کمیٹی (C-34) کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے امن پالیسیوں کو اجتماعی شکل دینے والا سب سے بڑا بین الحکومتی فورم قرار دیا۔ کمیٹی کے اندر پیدا ہونے والی ہم آہنگی اور قرارداد 2823 کی وسیع حمایت نے یہ ثابت کیا ہے کہ رکن ممالک اب بھی امن مشنز کو بین الاقوامی تعاون کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اصلاحات کا مقصد امن مشنز کو مزید مؤثر اور تبدیل ہوتے حالات کے مطابق ڈھالنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے وقت میں ادارے کو کمزور کرنا جب بین الاقوامی تنازعات اور سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اس کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

سفیر سید حیدر شاہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا ’امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امن مشنز آج بھی ایک اہم، مؤثر اور کم خرچ ذریعہ ہیں۔ ہمیں آئندہ بھی اس کا سہارا لینا پڑے گا، لہٰذا ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جب بھی ضرورت پڑے، یہ ادارہ مکمل طور پر تیار ہو۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp