افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ طالبان انتظامیہ خود بھی اسلامی شریعت، نبی کریمؐ کی تعلیمات اور اپنے اسلاف کے راستے پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں، حکمرانوں کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سراج الدین حقانی نے یہ بات صوبہ غزنی کے ضلع اندر میں نور المدارس نامی دینی مدرسے کے طلبہ کی دستاربندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ طالبان وزارت داخلہ نے بھی جمعہ 6 نومبر کو ان کی تقریب میں شرکت کی تصدیق کی تھی۔
خطاب میں سراج الدین حقانی نے کہا کہ معاشرے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد پہلے اپنی اصلاح اور روحانی تطہیر پر توجہ دے۔ ان کے بقول بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکام کا طرزِ عمل شریعت، نبی کریمؐ کی تعلیمات اور سابقہ اسلامی علما کے طریقے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سراجالدین حقانی، وزیر داخله طالبان، میگوید برای اجرای شریعت نباید مردم را آزرده ساخت. pic.twitter.com/8dx8OXDKd0
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) November 6, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے احکامات، نبی کریمؐ کی تعلیمات اور اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزارا جائے تو مسائل اور مشکلات باقی نہیں رہیں گی۔
طالبان وزیر داخلہ نے مدرسے سے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے اپنے کردار اور اعمال درست کریں اور احکاماتِ الہیٰ پر صحیح معنوں میں عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمران اس وقت تک دوسروں کی اصلاح نہیں کرسکتے جب تک پہلے خود اپنی اصلاح نہ کریں اور عوام سے جس احتساب کا تقاضا کرتے ہیں، خود کو بھی اسی معیار پر نہ پرکھیں۔
سراج الدین حقانی نے مزید کہا کہ حکام کو اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود اور اپنے طرزِ عمل کی بہتری کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کی عبوری حکومت میں اختلافات، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مستعفی
انہوں نے کہا کہ حقیقی اصلاح اس وقت ممکن ہوگی جب ہم دوسرے معاشروں اور قوموں کے لیے بھی اتنی ہی تکلیف اور فکر محسوس کریں جتنی اپنے لیے کرتے ہیں۔











