پاکستان میں توانائی کا بڑا بریک تھرو: 20 سال بعد سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کا نیا سفر شروع

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ملکی وسائل میں اضافے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً 2 دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسے میں ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی (TPOC) کا جدید ترین سیسمک سروے جہاز رواں ماہ 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی کی بندرگاہ پہنچے گا۔

پاک ترک مشترکہ منصوبہ اور حصص کی تقسیم

مشرقی آف شور انڈس سی بلاک میں ڈرلنگ اور سروے کی آپریٹرشپ ترکیہ کی کمپنی نے حاصل کر لی ہے۔ اس مشترکہ منصوبے کے تحت ترک کمپنی کے 25 فیصد، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے 35 فیصد، جبکہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (OGDCL) اور ماری انرجیز کے 20، 20 فیصد حصص ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے ترکیہ کی پیٹرولیم کمپنی جلد پاکستان کی سمندری حدود میں کھدائی شروع کرے گی، علی پرویز ملک

سیسمک سروے کا طریقہ کار

کراچی پہنچنے کے بعد ترک جہاز سمندر کی تہہ کا تکنیکی اور ارضیاتی جائزہ لینے کے لیے خصوصی سیسمک سروے کا آغاز کرے گا۔ اس عمل سے زیرِ سمندر تیل و گیس کے ممکنہ ذخائر کے مقامات اور کھدائی کے لیے موزوں پوائنٹس کی نشاندہی ہو سکے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی بنیادوں پر قابلِ استعمال ذخائر کی حتمی تصدیق سروے کے بعد عملی کھدائی اور تکنیکی تجزیے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

اعلیٰ سطحی اجلاس اور ترجیحی ہدایات

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں سروے کے آغاز کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔ وزیر پیٹرولیم نے تمام متعلقہ اداروں کو پورٹ کلیئرنس، سیکیورٹی، سمندری اجازت ناموں اور دیگر آپریشنل امور کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کی سمندری حدود میں پٹرولیم اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت

انہوں نے اس پیشرفت کو پاک ترک توانائی شراکت داری میں ’تاریخی سنگِ میل‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ خود کراچی پورٹ پر ترک جہاز کا استقبال کریں گے۔ اس موقع پر ترک کمپنی کے پروجیکٹ منیجر نے پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر اطمینان اور سروے کی کامیابی کے لیے مکمل امید کا اظہار کیا۔

اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم، ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، گورنمنٹ ہولڈنگز کے سربراہان سمیت وزارتِ خارجہ، دفاع، داخلہ، میری ٹائم افیئرز اور بحری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

معاشی و توانائی کی صورتِ حال پر اثرات

پاکستان اس وقت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مہنگے درآمدی تیل اور گیس سے پورا کر رہا ہے۔ اگر آف شور انڈس سی بلاک میں یہ نئی کوشش کامیاب ثابت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ملکی خزانے پر درآمدی بل کا بوجھ کم ہوگا بلکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp