جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنے اس مؤقف پر آج بھی قائم ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے بتدریج کوئی نظام بنائیں گے، لیکن ہمارا مطالبہ طویل مدتی وعدوں کے بجائے فوری ریلیف فراہم کرنے کا ہے۔ ہمارے حالیہ مذاکرات بھی اسی نکتہ پر جاری ہیں۔
انہوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا’میں حکومت پر یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے یا اس میں کمی کے سلسلے میں کوئی عملی قدم نہ اٹھایا، تو ہم بار بار مذاکرات، بات چیت، اور پریزنٹیشنز دینے کے چکر میں نہیں رہیں گے۔ بالآخر سڑکوں پر آ کر فیصلہ کرنا پڑے گا، اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں وہ آخری قدم اٹھانا پڑے۔‘
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد مارچ ملتوی نہیں ہوگا، نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمان کا بڑا اعلان
وزیرِ اعظم اور ڈپٹی وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا آغاز یہیں سے کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی ملک کے 25 کروڑ عوام ادا کر رہے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار، رکشے والے، بسوں میں سفر کرنے والے مسافر، اور ٹریکٹر چلانے والے کسان سب بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے پچھلے سال 1600 ارب روپے کی لیوی وصول کی تھی اور ہر ماہ ڈیڑھ سو ارب روپے عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں نام نہاد ریلیف صرف 26 سے 30 ارب روپے کا دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے، ریلیف کو 800 سی سی کے بجائے 1300 سی سی گاڑیوں تک لے جایا جائے کیونکہ یہ گاڑیاں مڈل کلاس طبقے کے لوگ چلاتے ہیں، نہ کہ کوئی بہت زیادہ دولت مند افراد۔ کسانوں کے استعمال ہونے والے ٹریکٹرز کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کو ریلیف پہنچانے کے لیے موثر میکانزم بنایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے تجویز پیش کی کہ اگر حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ لیوی سستی کرنے سے بڑی گاڑیوں والے بھی فائدہ اٹھا لیں گے، تو وہ 1800 سی سی سے بڑی لگژری گاڑیوں پر لیوی ڈبل (مثلاً 200 روپے) کر دیں، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بڑی گاڑی رکھنے والے اتنی سکت رکھتے ہیں، لیکن اس سے عام آدمی اور مڈل کلاس کے لیے پیٹرول کی قیمت میں فوری طور پر 30 سے 40 روپے کی کمی واقع ہو جائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینے اور احتجاجی لانگ مارچ سے بچنے میں سنجیدہ ہے تو اسے یہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورتِ دیگر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت صرف ایک فیصد اشرافیہ کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور بقیہ 99 فیصد عوام کو خیراتی پیکج دیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کراچی کے عوام پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
معاشی مسائل اور مافیاز کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا عملہ اور متعلقہ ادارے کرپشن میں ملوث ہیں۔ سرکاری گاڑیوں، مفت پیٹرول اور مفت بجلی کی سہولیات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ ہونے والے مبینہ معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت خود کہتی ہے کہ اس سے قومی خزانے کو ہزاروں ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے، تو یہ فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچنا چاہیے۔ تھرمل اور تیل پر چلنے والے آئی پی پیز کو بند کیا جائے تاکہ ملکی درآمدی بل اور خسارہ کم ہو سکے۔
شرحِ سود (Interest Rate) کے حوالے سے اسٹیٹ بینک پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کا ادارہ ہے، موزمبیق کا نہیں۔ مغربی ممالک کے معاشی اصولوں اور شرحِ سود بڑھا کر مہنگائی پر قابو پانے کے قوانین پاکستان کی معیشت پر لاگو نہیں ہوتے۔ بیوروکریسی اور بینکوں کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بینک مافیا، چینی مافیا، آٹا مافیا اور لینڈ مافیا اس ملک پر راج کر رہے ہیں۔











