ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد کے باوجود عالمی اداروں کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام نے ’ہتھیار ڈالنے کا سفید جھنڈا‘ اٹھا لیا ہے۔
استنبول میں ٹی آر ٹی ورلڈ فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے امن، سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے غزہ میں جاری مظالم کو خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں۔
اردوان نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی دہشتگردی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور وہ فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جب کہ دنیا اس صورت حال پر لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔
🔴“Gazze’yle birlikte Batı Şeria da acımasızlığın hedefi haline geldi”
Cumhurbaşkanı Erdoğan:
▪️Filistinlileri asırlardır yaşadıkları vatan topraklarından zorla göç ettirmeyi amaçlayan yerleşimci terörü her gün daha da pervasız hale geliyor. pic.twitter.com/y0lGLGbcbc
— EHA MEDYA (@eha_medya) November 6, 2026
انہوں نے کہا کہ غزہ امن معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہورہا، حالانکہ ترکیہ نے بھی اس معاہدے کے قیام میں کردار ادا کیا تھا۔ ان کے بقول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد سمجھے جانے والے اصول ’معاہدوں کی پابندی لازم ہے‘ کو بھی نظرانداز کیا جارہا ہے۔
ترک صدر نے خبردار کیا کہ اس طرز عمل سے کسی مسئلے کا حل ممکن نہیں اور عالمی نظام کی بنیاد بننے والے اصولوں اور ضابطوں کو پامال کیا جارہا ہے۔
اردوان نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی کے ذمہ دار ادارے غزہ میں ہونے والے مظالم پر اسی طرح خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جیسے ماضی میں روانڈا اور سربرینیتسا سمیت دیگر مقامات پر انسانی المیوں کے دوران رہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی استنبول میں ترک صدر اردوان سے ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش موجودہ بحرانوں کا حل پرانے طریقوں سے تلاش نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے نئے اندازِ فکر اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ فورم کا اس سال موضوع ’مرکز کے بغیر ایک دنیا‘ ہے۔ اردوان نے امید ظاہر کی کہ فورم میں ہونے والی گفتگو عالمی استحکام اور امن کے فروغ، بالخصوص مظلوم اور متاثرہ خطوں کے حالات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔











