بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں کسان فصلوں کی باقیات جلانے کے لیے سیٹلائٹس کی نگرانی کے اوقات سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے باعث کھیتوں میں آگ لگانے کے واقعات کی درست تعداد سامنے لانا مشکل ہوگیا ہے۔ ماہرین نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے جدید سیٹلائٹ نگرانی کا نظام متعارف کرادیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کسانوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ سیٹلائٹس کسی مخصوص علاقے کے اوپر سے گزرتے وقت ہی اس کی تصاویر لیتے ہیں۔ اگر کھیتوں میں ان اوقات کے علاوہ آگ لگائی جائے تو کئی واقعات سیٹلائٹس کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور اسموگ میں اضافے کا اہم سبب بنتا ہے۔ اس میں موجود باریک مضر ذرات انسانی پھیپھڑوں تک پہنچ کر سانس اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کی مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آگ سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ، مفید جرثومے اور غذائی اجزا بھی متاثر ہوتے ہیں۔
Tarn Taran, Punjab: Stubble burning continues in Tarn Taran despite strict administrative measures, with farmers allegedly setting crop residue on fire secretly to avoid detection. The practice is contributing to environmental pollution in the region. pic.twitter.com/EfdGW1AK63
— IANS (@ians_india) November 6, 2026
ماہرین کے مطابق اس آلودگی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور ہواؤں کے ذریعے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے علاقوں کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
اس مسئلے کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی ادارے آئی فاریسٹ نے ’فائر واچ‘ کے نام سے نیا نظام تیار کیا ہے، جو مختلف سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی معلومات یکجا کرے گا۔ اس میں ایسے موسمیاتی سیٹلائٹس کا ڈیٹا بھی شامل ہے جو تقریباً ہر 15 منٹ بعد تصاویر فراہم کرتے ہیں، یوں آگ لگنے کے اوقات اور متاثرہ زمین کا زیادہ درست اندازہ لگایا جاسکے گا۔
رپورٹ کے مطابق کھیتوں میں آگ لگنے کے سرکاری اعدادوشمار 2021 میں تقریباً 80 ہزار واقعات سے کم ہوکر 2025 میں 6 ہزار کے قریب رہ گئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کی نگرانی میں وقفوں کے باعث اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کے آلودہ ترین شہر’دہلی‘ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کا کیا نیا منصوبہ بنایا جارہا ہے؟
بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے بھی چوبیس گھنٹے آگ کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ کی تیاری پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آگ کے شعلے سیٹلائٹس سے چھپائے جاسکتے ہیں، لیکن جلنے کے بعد کھیتوں پر رہ جانے والے نشانات جدید تصویری نظام سے شناخت کیے جاسکتے ہیں۔











