پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے پاکستان اسپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم (پاک ایس بی اے ایس) متعارف کرا دیا ہے، جسے تھل ڈیزرٹ ریلی میں گاڑیوں کی رہنمائی اور محفوظ سفر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سپارکو کے ترجمان کے مطابق یہ نظام پاک سیٹ ایم ایم ون سیٹلائٹ کے ذریعے کام کرتا ہے اور پوزیشننگ، نیوی گیشن اور ٹائمنگ کی زیادہ درست اور قابل اعتماد سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے تھل کے صحرائی راستوں پر گاڑیوں کی پوزیشن معلوم کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے، جس سے ریلی کے دوران حفاظت اور رفتار بہتر بنانے میں معاونت حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان خلا میں جانے کو تیار، سپارکو نے مشن کی تیاری کے لیے 2 خلا باز چین بھیج دیے
پاک ایس بی اے ایس دراصل موجودہ عالمی سیٹلائٹ نیوی گیشن نظاموں، خصوصاً جی پی ایس اور چینی نظام بیڈو، کے سگنلز میں اصلاحی معلومات شامل کرکے مقام کے تعین کی درستگی بڑھاتا ہے۔ اس طرح عام سیٹلائٹ نیوی گیشن کے مقابلے میں پوزیشننگ کی غلطی کم کرنے اور زیادہ قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دستاویز کے مطابق پاک ایس بی اے ایس منصوبے کا آغاز 2019 میں ہوا تھا، جبکہ اسے مئی 2024 میں پاک سیٹ ایم ایم ون سیٹلائٹ کے ذریعے فعال کیا گیا اور اسی سال اگست میں ابتدائی عملی صلاحیت حاصل کی گئی۔
یہ نظام صرف موٹر اسپورٹس تک محدود نہیں بلکہ ہوا بازی، زمینی و بحری نقل و حمل، سروے اور نقشہ سازی، جدید زراعت، شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں اور متاثرہ علاقوں کی درست پوزیشن معلوم کرنا بھی اس کے ممکنہ استعمالات میں شامل ہے۔
سپارکو کے اس منصوبے کو پاکستان میں سیٹلائٹ نیوی گیشن کی سہولت بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں جدید خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔











