پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا ہے کہ حال ہی میں ترکیہ اور پاکستان کے نئے اتحادوں میں شامل ہونے کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں لیکن باہمی تعاون کے امکانات بے پناہ ہیں، اس لیے ہمیں اپنے مشترکہ وژن کے تحت ٹھوس کامیابیوں کے حصول کے لیے مسلسل کام کرنا ہے۔ اس بات کا اظہار انھوں نے ’دوست: پاکستان ترکیے فرینڈ شپ فورم‘ کے زیر اہتمام بین الاقوامی ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ترک سفیر نے کہا کہ ہمارے دو طرفہ گہرے تعلقات کی بنیاد ادارہ جاتی تعاون کے علاوہ عوام کے درمیان پر خلوص دوستی اور اٹوٹ رشتے ہیں۔ اس سلسلے میں ’دوست: پاکستان ترکیے فرینڈ شپ فورم‘ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں جنھیں میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان ترکیہ تعلقات، مشترکہ کمیشن اور اسٹریٹجک تعاون کونسل کی تیاریوں پر تبادلہ خیال
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اس وقت دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ اس مرحلے پر مسلم دنیا کی طاقت ور اقوام کے درمیان دفاعی معاہدہ تاریخ کی ایک غیر معمولی کروٹ ہے۔ مسلم دنیا کے درمیان اس تعاون کو فایدہ مند بنانے کے لیے علمی اور تعلیمی تعاون میں مزید اضافے اور دفاعی تعاون کو تجارتی تعاون تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
نیشنل رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید احمد ندیم نے کہا کہ ترک جمہوریت میں ریاست اور عوامی عقیدے کے درمیان جو توازن قائم کیا گیا ہے، وہ پاکستان ہی نہیں پوری مسلم دنیا کے لیے قابل تقلید ہے۔
اس موقع پر کراچی میں ترکیے کے سابق قونصل جنرل ڈاکٹر جمال سانگو، ممتاز دانش ور ڈاکٹر سعادت سعید، دوست: پاکستان ترکیے فرینڈ شپ فورم کے صدر ڈاکٹر فاروق عادل، نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر زاہد مجید، ڈاکٹر محمد کامران، پروفیسر ڈاکٹر صدف نقوی اور ترکیہ میں پاکستان کے اعزازی بزنس قونصلر احمد خان نے بھی خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان ترکیہ ڈیجیٹل تعاون: وزیراعظم شہباز شریف کی ترک کمپنی کو سرمایہ کاری کی پیشکش
فورم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ’دوست: پاکستان ترکیے فرینڈ شپ فورم‘ جلد ہی سلطنت مغلیہ کے 500 سالہ جشن کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی سیمینار کا اہتمام کرے گا۔ اس موقع پر ایک تحقیقی کتاب بھی شائع کی جائے گی۔











