وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک جامع آٹو پالیسی تیار کی ہے، جس میں پیٹرول پر چلنے والی 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کو نہیں چھیڑا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بڑی رعایتیں دی گئی ہیں۔ حکومت کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل میں کمی لانا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے آٹو انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے والی پالیسیاں نافذ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود صنعت نے ماضی میں صارفین کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے ذریعے عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور گاڑیوں کی صنعت میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے صارفین کو فائدہ پہنچے۔
متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو سہولت دینا وزیراعظم کی ترجیح
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے سہولیات پیدا کی جائیں۔ نئی آٹو پالیسی میں بھی اسی مقصد کو سامنے رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی چھوٹ دی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ان گاڑیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہماری بہنیں بھی الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عام شہریوں کے لیے جدید اور متبادل سفری سہولیات کو فروغ دیا جائے۔
الیکٹرک گاڑیوں سے درآمدی بل اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا تیل کا درآمدی بل روز بروز بڑھ رہا ہے اور حکومت اس بڑھتے ہوئے مالی بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے سے پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ فضا میں کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی، جس سے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کی نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ درآمدی بل میں کمی لانا بھی ہے۔











