وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ لگژری گاڑیوں پر کوئی ٹیکس ریلیف نہیں دیا جائے گا، حکومت کی ترجیح متوسط طبقے اور کم قیمت گاڑیاں خریدنے والے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ جو شخص 8 سے 10 کروڑ روپے مالیت کی گاڑی خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ حکومت کو ٹیکس بھی ادا کر سکتا ہے، تاہم متوسط طبقے کی گاڑیوں پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ کم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کمی اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے سے قیمتیں کم ہوں گی، جس سے متوسط طبقے کو فائدہ پہنچے گا۔
نئی آٹو پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، مشیر ہارون اختر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جہاں کاروباری مفادات ہوتے ہیں، وہاں لابنگ بھی ہوتی ہے اور یہ عمل پوری دنیا میں جاری ہے۔ پالیسی سازی کے دوران تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف سنا جاتا ہے، تاہم حتمی فیصلے میں صرف قومی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے والوں کو اپنے مفادات کے لیے لابنگ کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن حکومت کسی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کرے گی جو ملک کے مفاد میں نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا بھر میں سولر انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کو بھی اس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔
ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں اور سولر سسٹم کے فروغ سے ایندھن کی درآمدات میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔
مصدق ملک نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق لگژری گاڑیوں کو ٹیکسوں میں کوئی رعایت نہیں ملے گی، جبکہ ریلیف کا فائدہ متوسط طبقے اور سستی گاڑیاں خریدنے والوں کو دیا جائے گا۔











